ریاح بن حارث سے روایت ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ مسجد اکبرمیں تشریف فرما تھے اور اہل کوفہ ان کے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے تھے۔اتنے میں سیدنا سعید بن زید ان کی خدمت میں آئے اور سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خوش آمدید کہا اور اپنی چار پائی کی پائنتی کی طرف ان کو اپنے پاس بٹھا لیا۔ اتنے میں کوفہ کا ایک اور آدمی آیا۔ اس نے آکر سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کرکے بہت زیادہ برا بھلاکہنے لگا۔ سیدنا سعید نے کہا: اے مغیرہ! یہ کسے برا بھلا کہہ رہا ہے؟ انہوںنے بتایا کہ یہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو گالیاں دے رہا ہے۔ اس نے کہا: اے مغیر بن شعب، اے مغیر بن شعب، اے مغیر بن شعب! کیا میں یہ نہیں سنتا کہ آپ کے سامنے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دی جاتی ہیں، لیکن آپ نہ ان کا انکار کرتے ہیں اور نہ اس سے کسی کو روکتے ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، میرے دل نے خوب یاد رکھا ہے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی ایسا جھوٹ باندھنے والا نہیں، جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملاقات کے وقت مجھ سے باز پر س کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمن بن عوف جنتی ہیں، سعد بن مالک رضی اللہ عنہ جنتی ہے، اور اہل ایمان میں سے نویں نمبر پر مسلمان ہونے والا جنتی ہے۔ میں چاہوں تو اس کا نام ذکر کر سکتا ہوں۔ ریاح کہتے ہیں: اس کی بات سن کر اہل مسجد زور زور سے کہنے لگے: اے اللہ کے رسول کے صحابی! ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں آپ بتلائیں کہ نواں آدمی کون ہے؟ انہوں نے کہا: اب جبکہ تم لوگوں نے مجھے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہی ہے تو میں بتا دیتا ہوں کہ اللہ عظیم کی قسم میں اہل ایمان میں سے نواں ہوں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں سے دسویں فرد ہیں۔ اس کے بعد انہوںنے دوسری قسم اٹھا کر کہا کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوۂ میں شریک ہو اور اس میں اس کے چہرے پر غبار پڑی ہو وہ تمہارے زندگی بھر کے اعمال سے افضل ہے خواہ اسے عمر نوح ہی مل جائے۔
عبداللہ بن ظالم مازنی سے مروی ہے کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کوفہ سے باہر تشریف لے گئے تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر کر گئے، انہوںنے بعض ایسے خطباء کا تقرر کر دیا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تنقیص کرتے تھے۔ عبداللہ بن ظالم کہتے ہیں کہ میں سعید بن زید کے پہلو میں بیٹھاتھا۔ وہ شدید غصے میں آئے اور اٹھ گئے۔ انہوںنے میرا ہاتھ پکڑا تو میں بھی ان کے پیچھے چل دیا۔ انہوںنے کہا: کیا تم اس آدمی کو دیکھ رہے ہو جو اپنے اوپر ظلم کر رہا ہے اور ایک جنتی آدمی پر لعنت کرنے کا حکم دیتا ہے۔ میں نو آدمیوں کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ سب جنتی ہیں۔ اور اگر میں دسویں کے بارے میں بھی گواہی دے دوں کہ وہ بھی جنتی ہے تو میں گنہگار نہیں ہوں گا۔ عبداللہ کہتے ہیں: میں نے ان سے دریافت کیا:وہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: اے حرا! تو سکون کر جا، تجھ پر اس وقت جو لوگ موجود ہیںوہیا تو نبی ہیںیا صدیقیا شہید۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون کون تھے؟ انھوں نے کہا: اللہ کے رسول، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا زبیر، سیدنا طلحہ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا سعید بن مالک، اس سے آگے وہ خاموش رہے۔ میں نے پوچھا اور دسواں آدمی کون تھا؟ انھوں نے کہا: میں خود۔ دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ حراء خوشی سے حرکت کرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے حرائ، سکون کر۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدناابو بکر ، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر یہ سب کوہ حراء پر تھے کہ پہاڑی حرکت کرنے لگی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھہر جا، تجھ پر اس وقت جو لوگ موجود ہیں وہ یا تو نبی ہے، یا صدیق ہے، یا شہید ہے۔ نیزرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر اچھا آدمی ہے، ابو عبیدہ بن جراح اچھا آدمی ہے، اسید بن حضیر بہترین آدمی ہے، ثابت بن قیس بن شماس کیا عمدہ آدمی ہے، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ خوب آدمی ہے اور معاذ بن عمرو بن جموح اچھا آدمی ہے۔