مسنداحمد

Musnad Ahmad

فضائل و مناقب کی کتاب

نُجَبَائ، ابدال اور اصحاب صفہ کاتذکرہ

۔ (۱۱۵۹۴)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّہُ لَمْ یَکُنْ قَبْلِی نَبِیٌّ إِلَّا قَدْ أُعْطِیَ سَبْعَۃَ رُفَقَائَ نُجَبَائَ وُزَرَائَ، وَإِنِّی أُعْطِیتُ أَرْبَعَۃَ عَشَرَ حَمْزَۃُ وَجَعْفَرٌ وَعَلِیٌّ وَحَسَنٌ وَحُسَیْنٌ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَالْمِقْدَادُ وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأَبُو ذَرٍّ وَحُذَیْفَۃُ وَسَلْمَانُ وَعَمَّارٌ وَبِلَالٌ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۳)

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ سے پہلے ہر نبی کو سات بہترین اور عمدہ ساتھی بطور وزیر دیئے گئے تھے، جبکہ مجھے اس قسم کے چودہ افراد دیئے گئے ہیں، ان کے نام یہ ہیں، حمزہ، جعفر، علی، حسن ، حسین، ابو بکر، عمر، مقداد ، عبداللہ بن مسعود، ابو ذر، حذیفہ، سلمان، عمر، بلال۔

۔ (۱۱۵۹۵)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ: أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ ذَکْوَانَ، عَنْ عَبْدِالْوَاحِدِ بْنِ قَیْسٍ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((الْأَبْدَالُ فِی ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ ثَلَاثُونَ مِثْلُ إِبْرَاہِیمَ خَلِیلِ الرَّحْمٰنِ عَزَّوَجَلَّ، کُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی مَکَانَہُ رَجُلًا۔)) قَالَ اَبِیْ رَحِمَہُ اللّٰہُ فِیْہِ یَعْنِی حَدِیْثَ عَبْدِ الْوَھَّابِ: کَلَامٌ غَیْرُ ھٰذَا، أَوْ ھُوَ مُنْکرٌ، یَعْنِیْ حَدِیْثَ الْحَسَنِ بْنِ ذَکْوَانَ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۳۱)

سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس امت میں اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام جیسے تیس ابدال ہوں گے، جب ان میں سے کوئی ایک فوت ہوگا تو اللہ اس کی جگہ دوسرے کو لے آئے گا۔

۔ (۱۱۵۹۶)۔ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ، کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجُ عَلَیْنَا فِی الصُّفَّۃِ وَعَلَیْنَا الْحَوْتَکِیَّۃُ، فَیَقُولُ: ((لَوْ تَعْلَمُونَ مَا ذُخِرَ لَکُمْ مَا حَزِنْتُمْ عَلٰی مَا زُوِیَ عَنْکُمْ، وَلَیُفْتَحَنَّ لَکُمْ فَارِسُ وَالرُّومُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۹۳)

سیدنا عرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس صفہ میں تشریف لاتے، جبکہ ہم پر پگڑی ہوتی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: اگر تم یہ جان لو کہ اللہ کے ہاں تمہارے لیے کیا کچھ جمع ہے، تو تمہیں ان چیزوں پر کوئی غم نہیں ہو گا، جو تم کو دنیا میں نہیںدی گئیں،یاد رکھو کہ تمہارے ہاتھوں فارس اور روم ضرور بالضرور فتح ہوں گے۔