مسنداحمد

Musnad Ahmad

فضائل و مناقب کی کتاب

بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی فضیلت


۔ (۱۱۶۰۴)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا نَتَحَدَّثُ اَنَّ عِدَّۃَ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانُوْا یَوْمَ بَدْرٍ عَلٰی عِدَّۃِ اَصْحَابِ طَالُوْتَ یَوْمَ جَالُوْتَ، ثَلَاثُ مَائِۃٍ وَ بِضْعَۃَ عَشَرَ الَّذِیْنَ جَاوَزُوا مَعَہُ النَّھْرَ، قَالَ: وَ لَمْ یُجَاوِزْ مَعَہُ النَّھْرَ اِلَّا مُؤْمِنٌ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۵۴)

سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ بدر والے دن صحابۂ کرام کی تعداد اتنی تھی، جتنی جالوت والے دن طالوت کے ساتھیوں کی تھی،یعنی تین سو چودہ پندرہ افراد تھے، جنہوں نے طالوت کے ساتھ نہرکو عبور کیا تھا اور نہر سے گزر جانے والے صرف مؤمن تھے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۱۶۰۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۹۵۸، ۳۹۵۹ (انظر: ۱۸۵۵۵)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… موسی علیہ السلام کی وفات کے کچھ عرصہ بعد بنو اسرائیل کے مطالبے پر طالوت کو بادشاہ بنایا گیا، لیکن بنو اسرائیل نے اپنی عادت کے مطابق ان کی بادشاہت پر اعتراض کرنا شروع کر دیے، دوسرے پارے کے آخر میں اسی بادشاہ کا ذکر ہے۔