سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابی! اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے سامنے فلاں سورت کی تلاوت کروں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اللہ کے ہاں میرا نام لیا گیاہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ عبداللہ بن ابزیٰ نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو منذر! کیایہ بات سن کر آپ کو خوشی ہوئی تھی؟ انھوں نے کہا: خوشی کیوں نہ ہوتی، جبکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے:{قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہِ فَبِذٰلِکَ فَلْتَفْرَحُوْا ہُوَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُوْنَ} … اے نبی! آپ ان لوگوں سے کہہ دیں کہ تم اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوش رہو، یہ لوگ جو دنیوی مال و اسباب جمع کرتے ہیں،یہ اس سے بہتر ہے۔ (چونکہ قرآن کریم کی قرأت متواترہ فَلْیَفْرَحُوْا ہے)، امام احمد کے شیخ مؤمل سے مروی ہے کہ میں نے اپنے شیخ سفیان سے دریافت کیا، کیایہ قرأت فَلْتَفْرَحُوْا حدیث میں ہے؟ انہوںنے کہا: جی ہاں۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: جو بیماریاں ہمیں لاحق ہوتی ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ گناہوں کا کفارہ بننے والی ہیں۔ میرے باپ نے کہا:اگرچہ وہ بیماری معمولی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: اگرچہ وہ کانٹا ہو یا اس سے بڑی کوئی چیز۔ یہ سن کر میرے باپ نے اپنے حق میں یہ بد دعا کر دی کہ اس کی موت تک بخار اس سے جدا نہ ہو، لیکن وہ بخار اس کو حج، عمرے، جہاد فی سبیل اللہ اور باجماعت فرضی نماز سے مشغول نہ کر دے، پس اس کے بعد جس انسان نے میرے باپ کو چھوا، بخار کی حرارت پائی،یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے سورۂ بینہ کی تلاوت کروں۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے سامنے میرا نام لیاہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ یہ سن کر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ رو پڑے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المومنین! میں نے قرآن کریم براہ راست اس ہستی سے سنا اور سیکھا ہے جنہوںنے جبریل علیہ السلام سے حاصل کیا، جبکہ وہ تروتازہ تھا۔
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور بھول کر ایک آیت ترک کر گئے، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم میں سے کسی کو قرأت میں میری غلطی کا احساس ہوا ہے؟ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! مجھے پتہ چل گیا تھا، آپ فلاں آیت چھوڑ گئے ہیں۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے پتہ تھا کہ اگر کسی کا اس کا ادراک ہو گا تو وہ تم ہی ہو گے۔
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: اللہ کی کتاب میںکونسی آیت سب سے زیادہ عظمت کی حامل ہے؟ انہوں نے جواباً عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بار بار یہی سوال کیا، تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ آیت الکرسی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو المنذر! تمہیںیہ علم مبارک ہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس آیت کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں اور یہ اللہ کے عرش کے پائے کے قریب اللہ تعالیٰ کی تقدیس اور پاکی بیان کرتی ہے۔