مسنداحمد

Musnad Ahmad

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان

۔ (۱۱۶۲۲)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ أَمَّرَ أُسَامَۃَ بَلَغَہُ أَنَّ النَّاسَ یَعِیبُونَ أُسَامَۃَ وَیَطْعَنُونَ فِی إِمَارَتِہِ، فَقَامَ کَمَا حَدَّثَنِی سَالِمٌ فَقَالَ: ((إِنَّکُمْ تَعِیبُونَ أُسَامَۃَ وَتَطْعَنُونَ فِی إِمَارَتِہِ، وَقَدْ فَعَلْتُمْ ذٰلِکَ فِی أَبِیہِ مِنْ قَبْلُ، وَإِنْ کَانَ لَخَلِیقًا لِلْإِمَارَۃِ، وَإِنْ کَانَ لَأَحَبَّ النَّاسِ کُلِّہِمْ إِلَیَّ، وَإِنَّ ابْنَہُ ہٰذَا بَعْدَہُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَیَّ، فَاسْتَوْصُوا بِہِ خَیْرًا، فَإِنَّہُ مِنْ خِیَارِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۵۶۳۰)

سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لشکر کا سربراہ مقرر فرمایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ لوگ اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سربراہ بننے پر اعتراض کرتے ہیں اور ان کو امیر بنائے جانے پر طعن کرتے ہیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر فرمایا: تم لوگ اسامہ کو سربراہِ لشکر بنائے جانے پر اعتراض کرتے ہو اور ان کو امیر بنائے جانے پر طنز کرتے ہو، یہی کام تم نے اس سے قبل اس کے والد کے بارے میں بھی کیا تھا، حالانکہ وہ امیر بنائے جانے کا بجا طور پر حق دار تھا۔ اور وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب بھی تھا، اس کے بعد اس کا یہ بیٹامجھے سب سے زیادہ پیارے لوگوں میں سے ہے، میں تمہیں اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں، یہ تمہارے بہترین لوگوں میں سے ہے۔

۔ (۱۱۶۲۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أُسَامَۃُ أَحَبُّ الناَّسِ اِلَیَّ مَا حَاشَا فَاطِمَۃَ وَلَا غَیْرَھَا۔)) (مسند احمد: ۵۷۰۷)

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے سب سے زیادہ محبوب اسامہ (بن زید) ہے، فاطمہ وغیرہ کے علاوہ۔

۔ (۱۱۶۲۴)۔ وَعَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ قَالَ: لَمَّا ثَقَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھَبَطْتُ وَھَبَطَ النَّاسُ مَعِیَ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ، فَدَخَلْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ اَصْمَتَ فَلَا یَتَکَلَّمُ، فَجَعَلَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ إِلَی السَّمَائِ، ثُمَّ یَصُبُّہَا عَلَیَّ أَعْرِفُ أَنَّہٗ یَدْعُوْلِیْ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۹۸)

سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زیادہ بیمار ہو گئے تو میں اور میرے رفقاء ہم سب مدینہ کے ایک نواح میں ٹھہر گئے، میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بالکل خاموش تھے اور شدت مرض کی وجہ سے بول نہ سکتے تھے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر میری طرف جھکا کر اشارہ کرتے۔ میں جان گیا کہ آپ میرے حق میں دعائیں کر رہے ہیں۔

۔ (۱۱۶۲۵)۔ حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِیہِ، قَالَ سَمِعْتُ: أَبَا تَمِیمَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ، یُحَدِّثُہُ أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ قَالَ: کَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْخُذُنِی فَیُقْعِدُنِی عَلٰی فَخِذِہِ، وَیُقْعِدُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ عَلٰی فَخِذِہِ الْأُخْرٰی، ثُمَّ یَضُمُّنَا ثُمَّ یَقُولُ: ((اللَّہُمَّ ارْحَمْہُمَا فَإِنِّی أَرْحَمُہُمَا۔)) قَالَ أَبِی: قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ: ہُوَ السَّلِّیُّ مِنْ عَنَزَۃَ إِلٰی رَبِیعَۃَ یَعْنِی أَبَا تَمِیمَۃَ السَّلِّیَّ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۳۰)

سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے پکڑ کر اپنی ایک ران پر بٹھا لیتے اور دوسری ران پر سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بٹھا لیتے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں اپنے سینے سے چمٹا کر فرماتے: یا اللہ! میں ان پر شفقت کرتا ہوں تو بھی ان پر رحم فرما دے۔

۔ (۱۱۶۲۶)۔ عَنِ الشَّعْبِیِّ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ: لَا یَنْبَغِی لِأَحَدٍ أَنْ یَبْغُضَ أُسَامَۃَ بَعْدَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ کَانَ یُحِبُّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَہُ فَلْیُحِبَّ أُسَامَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۴۸)

سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہو،وہ اسامہ سے محبت رکھے۔ اس فرمان کے بعد کسی کے لیے اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بغض رکھنا روا نہیں ہے۔

۔ (۱۱۶۲۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، أَنَّ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ عَثَرَ بِأُسْکُفَّۃِ أَوْ عَتَبَۃِ الْبَابِ فَشُجَّ فِی جَبْہَتِہِ، فَقَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَمِیطِی عَنْہُ أَوْ نَحِّی عَنْہُ الْأَذٰی۔)) قَالَتْ: فَتَقَذَّرْتُہُ، قَالَتْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمُصُّہُ ثُمَّ یَمُجُّہُ، وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَوْ کَانَ أُسَامَۃُ جَارِیَۃً لَکَسَوْتُہُ وَحَلَّیْتُہُ حَتّٰی أُنْفِقَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۶۳۸۶)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا اسامہ بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دروازے کی چوکھٹ میں گر پڑے اور ان کی پیشانی پر زخم آگیا۔ (اور ایک روایت میںیوں ہے کہ خون بہنے لگا) تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اس کی پیشانی سے خون صاف کر دو۔ لیکن مجھے کچھ کراہت سی محسوسی ہوئی، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود شروع ہو گئے اور زخم کو چوس کر تھوکتے رہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لڑکی ہوتا تو میں اسے اچھے اچھے کپڑے اور زیور پہنا کر اس قدر خوب صورت بنا دیتا کہ لوگ اس سے شادی کرنے میں رغبت کا اظہار کرتے۔