سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خندق کے دن جب حالات سنگین ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی ہے جو جا کر بنو قریظہ کی خبر لے کر آئے۔ یہ سن کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ گئے اور ان کے احوال معلوم کرکے آئے، جب پھر معاملہ سخت ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح تین مرتبہ فرمایاکہ کون ہے جو بنو قریظہ کے احوال معلوم کرکے آئے۔ ہر بار سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اٹھ کر گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیرہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زبیر میرا پھوپھی زاد اور میری امت میں سے میرا حواری ہے۔
زربن جیش سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میںحاضر تھا کہ ابن جرموز نے ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے بیٹےیعنی سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے قاتل کو جہنم کی بشارت دے دو۔ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک حواری ہوتاہے اور میرا حواری زبیر ہے۔ امام سفیان نے کہا: حواری سے مراد مدگار ہے۔
زر بن جیش سے روایت ہے کہ ابن جرموز نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاں آنے کی اجازت طلب کی، انھوں نے دریافت کیا: کون ہے ؟ لوگوںنے بتلایا کہ ابن جرموز آنے کی اجازت طلب کر رہا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے آنے دو، زبیر کا قاتل ضرور بالضرور جہنم رسید ہوگا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے سنا، پھر سابق حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی۔
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوںنے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا: میرے پیارے بیٹے ! اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے مخاطب ہوتے ہوئے اپنے والدین کا ذکر کرکے فرمایا کرتے تھے: تجھ پر میرے والدین قربان ہوں۔
سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہا کے غلام عبد اللہ سے مروی ہے کہ اس نے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میرے پاس زبیر رضی اللہ عنہ کی دو آستینیں ہیں، جو ریشم کی بنی ہوئی وہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عنایت کی تھیں، وہ انہیں پہن کر دشمن کے مقابلے کو نکلا کرتے تھے۔
ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ مروان سے بیان کرتے ہیں،میں نہیں سمجھتا کہ وہ ہمارے نزدیک قابل تہمت ہو، ا س نے کہا کہ (۳۱) سن ہجری جو کہ سنۃ الرعاف یعنی نکسیر کا سال کہلاتا ہے، اس سال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو نکسیر آئی اور ان کو اس قدر نکسیر آنے لگی کہ وہ حج کے لیے بھی نہ جا سکے اور انہیں موت کا اندیشہ لاحق ہوا تو انہوںنے اپنے بعد وصیت بھی کر دی، ایک قریشی آدمی ان کی خدمت میں گیا تو اس نے پوچھا: کیا آپ کے بعد کسی کو خلیفہ نام زد کر دیا گیا ہے؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے پوچھا: وہ کون ہے یعنی خلیفہ کسے نامزد کیا گیاہے ؟ وہ خاموش رہا ، پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے بھی پہلے آدمی والی بات کی اور انہوںنے اسے بھی وہی جواب دیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا لوگ زبیر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنائے جانے کا ذکر کرتے ہیں۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: اس ذات کیقسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرے علم کے مطابق وہ سب سے افضل ہیں اور ررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھے۔