مسنداحمد

Musnad Ahmad

فضائل و مناقب کی کتاب

اوس کے رئیس سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

۔ (۱۱۷۲۵)۔ حَدَّثَنَا یَزِیدُ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: أَخْبَرَنِی وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَکَانَ وَاقِدٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَأَعْظَمِہِمْ وَأَطْوَلِہِمْ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فَقَالَ لِی: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: إِنَّکَ بِسَعْدٍ أَشْبَہُ ثُمَّ بَکٰی وَأَکْثَرَ الْبُکَائَ، فَقَالَ: رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلٰی سَعْدٍ، کَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِہِمْ، ثُمَّ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَیْشًا إِلٰی أُکَیْدِرَ دُومَۃَ، فَأَرْسَلَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِجُبَّۃٍ مِنْ دِیبَاجٍ مَنْسُوجٍ فِیہِ الذَّہَبُ، فَلَبِسَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ عَلَی الْمِنْبَرِ أَوْ جَلَسَ فَلَمْ یَتَکَلَّمْ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَعَلَ النَّاسُ یَلْمِسُونَ الْجُبَّۃَ وَیَنْظُرُونَ إِلَیْہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَتَعْجَبُونَ مِنْہَا۔)) قَالُوْا: مَا رَأَیْنَا ثَوْبًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَمَنَادِیلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِی الْجَنَّۃِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۴۸)

محمد بن عمرو سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ نے مجھے بیان کیا، جبکہ وہ انتہائی حسین و جمیل ، عظیم الجثہ اور دراز قامت آدمی تھے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں گیا، انہوںنے مجھ سے دریافت کیا کہ میں کون ہوں۔ میں نے عرض کیا:میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں۔ انھوں نے کہا: تم تو سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مشابہ ہو، اس کے بعد وہ رونے لگے اور بہت زیادہ روئے اور کہا: سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر اللہ کی رحمت ہو، وہ سب سے بڑھ کر جسیم اور طویل قامت تھے۔ پھر کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دومہ کے والی اکیدر کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ ارسال کیا، جس پر سونے کی کڑھائی کی گئی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے زیب تن فرمایا اور منبر پر کھڑے ہوئے یا بیٹھے، آپ نے کچھ گفتگو نہ کی اور ویسے ہی نیچے اتر آئے۔ لوگ اس جبہ کو ہاتھ لگا لگا کر دیکھنے لگے (اور اس کی عمدگی پرتعجب کرنے لگے)۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس جبہ پر تعجب کرتے ہو؟ صحابۂ کرام نے عرض کیا: جی کیوں نہیں، ہم نے اس سے اچھا کپڑا کبھی نہیں دیکھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جو کپڑا دیکھ رہے ہو، جنت میںسعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے رومال اس سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔

۔ (۱۱۷۲۶)۔ وَعَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اِھْتَزَّالْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مٰعَاذٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۸۴)

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات پر اللہ تعالیٰ کا عرش جھوم گیا۔

۔ (۱۱۷۲۷)۔ وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ عَنْ جَدَّتِہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: وَلَوْ أَشَائُ أَنْ أُقَبِّلَ الْخَاتَمَ الَّذِی بَیْنَ کَتِفَیْہِ مِنْ قُرْبِی مِنْہُ لَفَعَلْتُ، یَقُولُ: ((اہْتَزَّ لَہُ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔)) یُرِیدُ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ یَوْمَ تُوُفِّیَ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۲۹)

عاصم بن عمر بن قتاد ہ اپنی جدہ سیدہ رمیثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، جبکہ میں اس وقت آپ کے اس قدر قریب تھی کہ اگر میں اس وقت چاہتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مہر نبوت کو بوسہ دے سکتی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے لیے تو اللہ کا عرش جھوم اٹھا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، جس دن وہ فوت ہوئے تھے۔

۔ (۱۱۷۲۸)۔ وَعَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَمَّا تُوُفِّیَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ صَاحَتْ أُمُّہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَلَا یَرْفَأُ دَمْعُکِ وَیَذْہَبُ حُزْنُکِ؟ فَإِنَّ ابْنَکِ أَوَّلُ مَنْ ضَحِکَ اللّٰہُ لَہُ، وَاہْتَزَّ لَہُ الْعَرْشُ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۳۳)

سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی ماں رونے چیخنے لگی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے آنسو رکتے نہیں،کیا تمہارے غم کا بوجھ ہلکا نہیں ہوتا، تمہارے بیٹے کی شان تو یہ ہے کہ یہ وہ پہلا آدمی ہے، جس کے لیے اللہ تعالیٰہنسے ہیں اور جس کے لیے اس کا عرش جھوم اٹھا ہے۔

۔ (۱۱۷۲۹)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ وَجَناَزَۃُ سَعْدٍ مَوْضُوْعَۃٌ: ((اِھْتَزَّ لَھَا عَرْشُ الرَّحْمٰنِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۸۸)

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا جنازہ رکھا ہوا تھا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ اس کی خاطر رحمن عزوجل کا عرش جھوم اٹھا ہے۔

۔ (۱۱۷۳۰)۔ عَنْ عَائَشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أُصِیبَ سَعْدٌ یَوْمَ الْخَنْدَقِ، رَمَاہُ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ یُقَالُ لَہُ حِبَّانُ بْنُ الْعَرِقَۃِ فِی الْأَکْحَلِ، فَضَرَبَ عَلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَیْمَۃً فِی الْمَسْجِدِ لِیَعُودَہُ مِنْ قَرِیبٍ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۹۸)

سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خندق کے دن زخمی ہو گئے، حبان بن عرقہ قریشی نے ا ن کے بازو کی اکحل نامی رگ پر تیر مارا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قریب سے ان کی تیمار داری کر نے کے لیے ان کے لیے مسجد میں خیمہ نصب کرایا۔

۔ (۱۱۷۳۱)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ قَالَ: نَزَلَ أَہْلُ قُرَیْظَۃَ عَلٰی حُکْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی سَعْدٍ فَأَتَاہُ عَلٰی حِمَارٍ، قَالَ: فَلَمَّا دَنَا قَرِیبًا مِنَ الْمَسْجِدِ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قُوْمُوْا إِلٰی سَیِّدِکُمْ أَوْ خَیْرِکُمْ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ ہٰؤُلَائِ نَزَلُوا عَلٰی حُکْمِکَ۔)) قَالَ: تُقْتَلُ مُقَاتِلَتُہُمْ وَتُسْبٰی ذَرَارِیُّہُمْ قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَقَدْ قَضَیْتَ بِحُکْمِ اللّٰہِ۔)) وَرُبَّمَا قَالَ: ((قَضَیْتَ بِحُکْمِ الْمَلِکِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۸۵)

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ بنو قریظہ کے لوگ سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فیصلے پر راضی ہوگئے، اس لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پیغام بھیج کر بلوایا، وہ گدھے پر سوار ہو کر تشریف لائے، جب وہ مسجد نبوی کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے سردار کی طرف اٹھ کر جائو یایوں فرمایا تم اپنے رئیس کی طرف اٹھ کر جائو (اور ان کو گدھے سے اتارو)۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: یہیہودی لوگ آپ سے فیصلہ کرانے پر راضی ہوئے ہیں۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: ان کے جنگجوؤں کو قتل کر دیا جائے اور بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آپ نے ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ کیا ہے، (یعنی جو فیصلہ کیا ہے اللہ کو بھی وہی منظور ہے۔) اور کسی وقت سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یوں بیان کیا: آپ نے تو بادشاہ1 والا فیصلہ کیا ہے۔

۔ (۱۱۷۳۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ فِیْ حَدِیْثِھَا الطَّوِیْلِ ذَکَرَ بِطُوْلِہِ فِیْ الْخَنْدَقِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ لِسَعْدٍ: ((لَقَدْ حَکَمْتَ فِیہِمْ بِحُکْمِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَحُکْمِ رَسُولِہِ۔)) قَالَتْ: ثُمَّ دَعَا سَعْدٌ: قَالَ: اللّٰہُمَّ إِنْ کُنْتَ أَبْقَیْتَ عَلٰی نَبِیِّکَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ حَرْبِ قُرَیْشٍ شَیْئًا فَأَبْقِنِی لَہَا، وَإِنْ کُنْتَ قَطَعْتَ الْحَرْبَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُمْ فَاقْبِضْنِی إِلَیْکَ، قَالَتْ: فَانْفَجَرَ کَلْمُہُ وَکَانَ قَدْ بَرِئَ حَتّٰی مَا یُرٰی مِنْہُ إِلَّا مِثْلُ الْخُرْصِ، وَرَجَعَ إِلٰی قُبَّتِہِ الَّتِی ضَرَبَ عَلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَحَضَرَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ، قَالَتْ: فَوَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ إِنِّی لَأَعْرِفُ بُکَائَ عُمَرَ مِنْ بُکَائِ أَبِی بَکْرٍ وَأَنَا فِی حُجْرَتِی، وَکَانُوْا کَمَا قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {رُحَمَاء ُ بَیْنَہُمْ} قَالَ عَلْقَمَۃُ: قُلْتُ: أَیْ أُمَّہْ! فَکَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ؟ قَالَتْ: کَانَتْ عَیْنُہُ لَا تَدْمَعُ عَلٰی أَحَدٍ وَلٰکِنَّہُ کَانَ إِذَا وَجِدَ فَإِنَّمَا ہُوَ آخِذٌ بِلِحْیَتِہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۱۰)

سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ایک طویل حدیث مروی ہے، اس ! حقیقی بادشاہ خالق و مالک ہی ہے۔ اس لیے اللہ کا فیصلہ اور بادشاہ کا فیصلہ کہنے میں کوئی فرق نہیں۔ میں ہے: رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا:تم نے بنو قریظہ کے بارے میں ایسا فیصلہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو بھییہی فیصلہ منظور تھا۔ اس کے بعد سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دعا کی اور کہا: یا اللہ! اگر تو نے اپنے نبی کے لیے قریش کے ساتھ کوئی لڑائی باقی رکھی ہے تو مجھے اس میں شرکت کے لیے زندہ رکھنا اور اگر تو نے اپنے نبی اور قریش کے درمیان لڑائیوں کا سلسلہ مکمل کر دیا ہے تو مجھے اپنی طرف اٹھا لے۔اس دعا کے بعد ان کا زخم پھٹ گیا، ویسے وہ سارا ٹھیک ہو چکا تھا، البتہ اس میں سے صرف ایک انگوٹھی کے حلقہ کے برابر معمولی سا زخم باقی رہ گیا تھا۔ سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس خیمے کی طرف واپس آئے جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے لیے نصب کرایا تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے پاس گئے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جان ہے! میں اپنے حجرے ہی میں تھی اور میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے رونے کی آواز وں کو الگ الگ پہچان رہی تھی۔ ان کا آپس میں میل جول ویسا ہی تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ {رُحَمَاء ُ بَیْنَہُمْ} … وہ ایک دوسرے پر ازحد مہربان ہیں۔ (سورۂ فتح: ۲۹)سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے بیان کرنے والے علقمہ نے عرض کیا: امی جان! ایسے مواقع پر اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا طرز عمل کیا ہوتا تھا؟ انھوں نے کہا: کسی کی وفات پر آپ کی آنکھوں میں آنسو نہ آتے تھے، البتہ جب آپ غمگین ہوتے تو اپنی داڑھی مبارک کو ہاتھ میں پکڑ لیتے۔

۔ (۱۱۷۳۳)۔ وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَۃَ الزُّرَقِیِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِھٰذَا الْعَبْدِ الصَّالِحِ الَّذِیْ تَحَرَّکَ لَہٗ الْعَرْشُ وَفُتِحَتْ لَہٗ أَبْوَابُ السَّمَائِ شُدِّدَ عَلَیْہِ فَفَرَّجَ اللّٰہُ عَنْہٗ۔)) وَقَالَ مَرَّۃً: ((تَفَتَّحَتْ۔)) وَقَالَ مَرَّۃً: ((ثُمَّ فَرَّجَ اللّٰہُ عَنْہُ۔)) وَقَالَ مَرَّۃً: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِسَعْدِ یَوْمَ مَاتَ وَھُوَیُدْفَنُ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۵۹)

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ نیک بندہ ہے، جس کے لیے اللہ کا عرش جھوم اٹھا اور اس کے استقبال کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے، لیکن قبر میں اس پر ایک بار سختی کی گئی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس مشکل کو زائل کر دیا۔ اور راوی نے ایک باریوں کہا: پھر اللہ تعالیٰ نے کشادگی پید اکر دی۔ ایک دفعہ راوی نے یہ تفصیل بیان کی: جس دن سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے اوران کو دفن کیا جا رہا تھا، اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے حق میں یہ باتیں کی تھیں۔

۔ (۱۱۷۳۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَارِیِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا إِلٰی سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ حِینَ تُوُفِّیَ، قَالَ: فَلَمَّا صَلّٰی عَلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَوُضِعَ فِی قَبْرِہِ وَسُوِّیَ عَلَیْہِ سَبَّحَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَبَّحْنَا طَوِیلًا، ثُمَّ کَبَّرَ فَکَبَّرْنَا، فَقِیلَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! لِمَ سَبَّحْتَ؟ ثُمَّ کَبَّرْتَ، قَالَ: ((لَقَدْ تَضَایَقَ عَلٰی ہٰذَا الْعَبْدِ الصَّالِحِ قَبْرُہُ حَتّٰی فَرَّجَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۳۴)

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی وفات کے موقع پران کی طرف گئے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی نماز جنازہ ادا کی اور ان کو قبر میں رکھا گیا اور ان پر مٹی برابر کر دی گئی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کی تسبیح کی اور ہم نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کافی دیر تک اللہ کی تسبیح بیان کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ اکبر کہا اور ہم بھی آپ کے ساتھ اللہ اکبر کہتے رہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے سبحان اللہ اور اللہ اکبر کہنے کی کیا وجہ تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس صالح بندے پر اس کی قبر تنگ ہوگئی تھییہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے قبر فراخ کر دی۔