۔ (۱۱۷۳۵)۔ (۱۱۴۹۲)۔ عَنْ سَفِیْنَۃَ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ: اَعْتَقَتْنِیْ اُمُّ سَلَمَۃَ وَاشْتَرَطَتْ عَلَیَّ اَنْ اَخْدُمَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَا عَاشَ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۷۲)
(۱۱۷۳۶)۔ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَۃَ الْعَبْسِیُّ کُوفِیٌّ، حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ جُمْہَانَ، حَدَّثَنِی سَفِینَۃُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((الْخِلَافَۃُ فِی أُمَّتِی ثَلَاثُونَ سَنَۃً ثُمَّ مُلْکًا بَعْدَ ذٰلِکَ۔)) ثُمَّ قَالَ لِی سَفِینَۃُ: أَمْسِکْ خِلَافَۃَ أَبِی بَکْرٍ وَخِلَافَۃَ عُمَرَ وَخِلَافَۃَ عُثْمَانَ وَأَمْسِکْ خِلَافَۃَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ، قَالَ: فَوَجَدْنَاہَا ثَلَاثِینَ سَنَۃً، ثُمَّ نَظَرْتُ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْخُلَفَائِ فَلَمْ أَجِدْہُ یَتَّفِقُ لَہُمْ ثَلَاثُونَ، فَقُلْتُ لِسَعِیدٍ: أَیْنَ لَقِیتَ سَفِینَۃَ؟ قَالَ: لَقِیتُہُ بِبَطْنِ نَخْلٍ فِی زَمَنِ الْحَجَّاجِ فَأَقَمْتُ عِنْدَہُ ثَمَانِ لَیَالٍ أَسْأَلُہُ عَنْ أَحَادِیثِ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: قُلْتُ لَہُ: مَا اسْمُکَ؟ قَالَ: مَا أَنَا بِمُخْبِرِکَ سَمَّانِی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سَفِینَۃَ، قُلْتُ: وَلِمَ سَمَّاکَ سَفِینَۃَ؟ قَالَ
خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَمَعَہُ أَصْحَابُہُ فَثَقُلَ عَلَیْہِمْ مَتَاعُہُمْ فَقَالَ: ((لِی ابْسُطْ کِسَائَکَ؟)) فَبَسَطْتُہُ فَجَعَلُوْا فِیہِ مَتَاعَہُمْ ثُمَّ حَمَلُوہُ عَلَیَّ، فَقَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((احْمِلْ فَإِنَّمَا أَنْتَ سَفِینَۃُ۔)) فَلَوْ حَمَلْتُ یَوْمَئِذٍ وِقْرَ بَعِیرٍ أَوْ بَعِیرَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃٍ أَوْ أَرْبَعَۃٍ أَوْ خَمْسَۃٍ أَوْ سِتَّۃٍ أَوْ سَبْعَۃٍ مَا ثَقُلَ عَلَیَّ إِلَّا أَنْ یَجْفُوْا۔ (مسند احمد: ۲۲۲۷۴)
ابو عبد الرحمن سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آزاد کیا اور مجھ پر یہ شرط عائد کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تک زندہ رہیں، میں ان کی خدمت کرتا رہوں گا۔
Takhreej
(۱۱۷۳۵) تخریج: اسنادہ حسن، اخرجہ ابوداود: ۳۹۳۲، وابن ماجہ: ۲۵۲۶(انظر: ۲۱۹۲۷)
Explanation
فوائد:…سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ اس اعتبار سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام تھے، کیونکہ انھوں نے ان کو آزاد کیا تھا، لیکن اس نسبت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام تھے کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کی شرط لگائی تھی۔
11735
Sahih