مسنداحمد

Musnad Ahmad

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

۔ (۱۱۷۵۸)۔ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِی عُبَادَۃُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِیہِ الْوَلِیدِ، عَنْ جَدِّہِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، وَکَانَ أَحَدَ النُّقَبَائِ قَالَ: بَایَعْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْعَۃَ الْحَرْبِ، وَکَانَ عُبَادَۃُ مِنَ الَاثْنَیْ عَشَرَ الَّذِینَ بَایَعُوْا فِی الْعَقَبَۃِ الْأُولٰی عَلٰی بَیْعَۃِ النِّسَائِ فِی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، فِی عُسْرِنَا وَیُسْرِنَا، وَمَنْشَطِنَا وَمَکْرَہِنَا، وَلَا نُنَازِعُ فِی الْأَمْرِ أَہْلَہُ، وَأَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَیْثُمَا کُنَّا لَا نَخَافُ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ۔ (مسند احمد: ۲۳۰۷۶)

سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، یہ صحابی ان افراد میں سے تھے جن کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیعت عقبہ اولیٰ میں مدینہ منورہ میں لوگوں پر نقیب (اور نگران) مقرر فرمایا تھا، ان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے بیعت عقبہ اولیٰ کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر لڑائی کی بیعت کی تھی کہ ہمیں اگر اسلام اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دفاع کے لیے کسی سے جنگ بھی کرنا پڑی تو ہم اس سے دریغ نہیں کریںگے اور سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان بارہ نقباء میں سے تھے، جنہوںنے بیعت عقبہ اولیٰ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر موافق اور ناموافق حالات میں پسندیدہ و ناپسندیدہ احوال میںیعنیہر حال میں آپ کا حکم سننے اور ماننے کی بیعت کی اور اس امر کا اقرار کیا کہ ہم حکومت و اقتدار کے بارے میںاہل اقتدار سے مقابلہ نہیں کریں گے اور ہم جہاں بھی ہوں گے ہم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا کئے بغیر حق کہیں گے۔ نیز ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر عورتوں والے امور کی طرح بیعت کی تھی۔ (ان امور کا ذکر سورۂ ممتحنہ میں ہے)۔

۔ (۱۱۷۶۰)۔ قَالَ: سَمِعْتُ سُفْیَانَ بْنَ عُیَیْنَۃَ یُسَمِّی النُّقَبَائَ، فَسَمَّی عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ مِنْہُمْ، قَالَ سُفْیَانُ: عُبَادَۃُ عَقَبِیٌّ، أُحُدِیٌّ، بَدْرِیٌّ، شَجَرِیٌّ، وَہُوَ نَقِیبٌ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۵۴)

امام سفیان بن عیینہ نقباء کا نام لیتے تھے، اس ضمن میں انھوں نے سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نام بھی ان میں ذکر کیا اور انھوں نے کہا: عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ عقبی، احدی، بدری، شجری اور نقیب ہیں۔

۔ (۱۱۷۶۱)۔ وَعَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عُبَادَۃَ، حَدَّثَنِی أَبِیْ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی عُبَادَۃَ وَہُوَ مَرِیضٌ أَتَخَایَلُ فِیہِ الْمَوْتَ، فَقُلْتُ: یَا أَبَتَاہُ أَوْصِنِی وَاجْتَہِدْ لِی؟ فَقَالَ: أَجْلِسُونِی، قَالَ: یَا بُنَیَّ إِنَّکَ لَنْ تَطْعَمَ طَعْمَ الْإِیمَانِ، وَلَنْ تَبْلُغَ حَقَّ حَقِیقَۃِ الْعِلْمِ بِاللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی حَتّٰی تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَیْرِہِ وَشَرِّہِ، قَالَ: قُلْتُ: یَا أَبَتَاہُ فَکَیْفَ لِی أَنْ أَعْلَمَ مَا خَیْرُ الْقَدَرِ وَشَرُّہُ؟ قَالَ: تَعْلَمُ أَنَّ مَا أَخْطَأَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُصِیبَکَ، وَمَا أَصَابَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُخْطِئَکَ، یَا بُنَیَّ! إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی الْقَلَمُ، ثُمَّ قَالَ: اکْتُبْ، فَجَرٰی فِی تِلْکَ السَّاعَۃِ بِمَا ہُوَ کَائِنٌ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) یَا بُنَیَّ! إِنْ مِتَّ وَلَسْتَ عَلٰی ذَلِکَ دَخَلْتَ النَّارَ، وَفِیْ رِوَایَۃٍ مَا اَکْتُبُ قَالَ: فَاکْتُبْ مَا یَکُوْنُ وَمَا ہُوَ کَائِنٌ اِلٰی اَنْ تَقُوْمَ السَّاعَۃُ۔ (مسند احمد: ۲۳۰۸۱)

ولید بن عبادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گیا، جبکہ وہ مریض تھے اور موت کی کش مکش میںمبتلا تھے، میں نے ان سے گزارش کی کہ اے ابا جان! مجھے کوئی اچھی سی وصیت ہی کر دیں۔ انھوں نے کہا: مجھے بٹھائو۔ پھر کہا: بیٹا! تم اس وقت تک ایمان کا ذائقہ نہیں چکھ سکتے اور نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کی اصل حقیقت تک پہنچ سکتے ہو، جب تک کہ تم ہر اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہیں لاؤ گے۔ میں نے عرض: ابا جان!اچھی اور بری تقدیر کا علم مجھے کیسے ہوگا؟ انھوں نے کہا: تم اس بات کا یقین رکھو کہ جو چیز تمہیں نہیں ملی، وہ تمہیں کسی بھی صورت مل نہیں سکتی تھی اور تمہیں جو کچھ مل گیا ہے وہ تم سے چھوٹ نہیں سکتا تھا، بیٹے! میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا، اس کے بعد اس سے فرمایا کہ لکھ، چنانچہ وہ قلم اسی وقت لکھنے لگا اور اس نے قیامت تک ہونے والے ہر امر کو لکھ دیا۔ بیٹے! اگر تمہیں اس حال میں موت آئی کہ تمہارا یہ ایمان نہ ہوا تو تم جہنم میں جائو گے۔ دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں: قلم نے عرض کیا: میں کیا لکھو؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قیامت کے بپا ہونے تک جو کچھ بھی ہونے والا ہے ہر امر کو لکھ دے۔

۔ (۱۱۷۶۲)۔ عَنِ الصُّنَابِحِیِّ أَنَّہُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَہُوَ فِی الْمَوْتِ فَبَکَیْتُ، فَقَالَ: مَہْلًا لِمَ تَبْکِی؟ فَوَاللّٰہِ لَئِنِ اسْتُشْہِدْتُ لَأَشْہَدَنَّ لَکَ، وَلَئِنْ شُفِّعْتُ لَأَشْفَعَنَّ لَکَ، وَلَئِنْ اسْتَطَعْتُ لَأَنْفَعَنَّکَ، ثُمَّ قَالَ: وَاللّٰہِ مَا حَدِیثٌ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَکُمْ فِیہِ خَیْرٌ إِلَّا حَدَّثْتُکُمُوہُ إِلَّا حَدِیثًا وَاحِدًا، سَوْفَ أُحَدِّثُکُمُوہُ الْیَوْمَ وَقَدْ أُحِیطَ بِنَفْسِی، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ شَہِدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰہِ حُرِّمَ عَلَی النَّارِ۔)) حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ مِثْلَہُ قَالَ: حَرَّمَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلَیْہِ النَّارَ۔ (مسند احمد: ۲۳۰۸۷)

صنا بحی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ مرض الموت میںمبتلا تھے، ان کی حالت دیکھ کر میںرونے لگا، انہوںنے کہا: رک جاؤ، تم کیوں روتے ہو؟ اللہ کی قسم! اگر مجھ سے تمہارے بارے میں گواہی لی گئی تو میں تمہارے مومن ہونے کی گواہی دوں گا، اگر مجھے شفاعت کی اجازت دی گئی تو میں تمہارے حق میںشفاعت کروں گا اور اگر مجھ سے ہو سکا تو تمہیں نفع پہنچائوں گا۔ ‘ پھر کہا: اللہ کی قسم میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جو بھی کوئی ایسی حدیث سنی ہے جس میں تمہارے لیے بہتری ہے تو میں وہ حدیث تمہیں سنا چکا ہوں، البتہ ایک حدیث ہے، جو میں تمہیں نہیں سنا سکا، وہ تمہیں آج ابھی سناتا ہوں اور اب صورت حال یہ ہے کہ میری روح قبض کی جانے والی ہے۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمییہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے رسول ہیں، اس پر جہنم حرام کر دی جائے گییایوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کو حرا م کر دے گا۔