ام بکر بنت مسور سے مروی ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک زمین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو چالیس ہزار دینار میں فروخت کی۔اور انہوں نے یہ ساری رقم بنو زہرہ کے فقراء ، مہاجرین صحابہ اور امہات المومنین میں تقسیم کر دی۔ مسور کہتے ہیں: میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا حصہ لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوںنے دریافت کیا کہ یہ رقم کس نے بھیجی ہے؟ میں نے عرض کیا: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے۔ سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی بیویوں کے حق میں فرماتے سنا ہے کہ میرے بعد صبر کی صفت سے متصف لوگ ہی تم پر شفقت و مہربانی کریں۔ اللہ تعالیٰ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو جنت کی سلسبیل سے سیراب فرمائے۔
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج سے مخاطب ہو کر فرمایا: میرے بعد جو کوئی تمہارے اوپر شفقت کرے گا وہ انتہائی سچا اور صالح ہوگا۔ یا اللہ! تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو جنت کے سلسبیل نامی چشمے سے سیراب کرنا۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر تشریف فرما تھیں کہ انہوںنے مدینہ منورہ میں زور زور کی آوازیں سنیں،انھوں نے پوچھا: یہ کیسی آواز ہے؟ بتانے والوں نے بتلایا کہ شام سے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ایک تجارتی قافلہ آیا ہے، جو ہر قسم کا سامان اٹھائے ہوئے ہے۔ و ہ سات سو اونٹ تھے، قافلے کی آوازوں سے مدینہ گونج اٹھا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ سرین کے بل گھسٹے ہوئے جنت میں گئے۔ جب یہ بات سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انھوں نے کہا: اگر کوشش کروں تو سیدھا کھڑا ہو کر بھی جنت میں جا سکتا ہوں، چنانچہ انہوںنے وہ سارا قافلہ اس کے پالانوں اور اٹھائے ہوئے سامان سمیت اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیا۔
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فلاں فلاں اراضی الاٹ کر دیں، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے آل عمرکے ہاں جا کر ان سے ان کا حصہ خرید لیا اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ہاں جا کر کہا: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فلاں فلاں اراضی الاٹ کی تھیں، اب میں نے آل عمر رضی اللہ عنہ کا حصہ تو خرید لیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: عبدالرحمن بن عوف کی گواہی ہر حال میں مقبول ہے،وہ ان کے حق میں ہو یا ان کی مخالفت میں۔