سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر تھے،میں نے آپ کے لیے رات کو وضو کرنے کے لیے پانی رکھا۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو بتلایا کہ اے اللہ کے رسول! آپ کے لیےیہ پانی عبداللہ بن عباس نے رکھا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں یوں دعا فرمائی: یا اللہ! اسے دین میں گہری سمجھ اور قرآن کی تفسیر کا علم عطا فرما۔
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا کی: یا اللہ! اسے دین میں فقاہت اور تفسیر کا علم عطا فرما۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میںیوں دعا فرمائی: یا اللہ ابن عباس کو حکمت اور تفسیر کا علم عطا فرما۔
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے حق میں حکمت کی دعا فرمائی۔
۔ (تیسری سند) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے ساتھ لگایا اور یہ دعا کی: یا اللہ! اسے قرآن مجید کا علم عطا فرما۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رات کے آخری حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھنا شروع کی،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آگے کی طرف کھینچ کر اپنے پہلو میں اپنے برابر کھڑا کر لیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کی طرف متوجہ ہوئے تو میں کھسک کر کچھ پیچھے کو ہو گیا، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کی تو مجھ سے فرمایا: تمہیں کیا ہوا تھا، میں نے تمہیں اپنے برابر کھڑا کیا اور تم کھسک گئے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے آپ کو عظیم منصب و مرتبہ سے نوازا ہے۔ کیا (مجھ جیسے) کسی فرد کے لیے مناسب ہے کہ وہ آپ کے برابر کھڑا ہو کر نماز ادا کرے؟ میرییہ بات آپ کو بہت پسندآئی، آپ نے اللہ سے میرے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ میرے علم اور فہم میں اضافہ فرمائے۔ میں نے اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس قدر گہری نیند سو گئے کہ خراٹے لینے لگے۔ اس کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آواز دی: اے اللہ کے رسول! نماز کا وقت ہو گیا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اٹھ کر نماز ادا کی اور دوبارہ وضونہیں کیا (کیونکہ نیند میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل بیدار ہی رہتا تھا)۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میرے پاس سے گز ر ہوا تو میں ایک دروازے کے پیچھے چھپ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلوا کر ہلکا سا جھنجھوڑا دیا اور مجھے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لیے بھیجا۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ کے پاس ایک اور آدمی بھی بیٹھا تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سرگوشی کر رہا تھا،یوں لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے والد کی طرف توجہ نہیں فرما رہے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں سے اٹھ آئے،میرے والدنے مجھ سے کہا: بیٹا! دیکھا کہ تمہارے چچا زاد (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے میری طرف توجہ ہی نہیں کی۔ میں نے عرض کیا: ابا جان، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک اور آدمی بیٹھا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ محو کلام تھے۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس آگئے، اب کی بار میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میں نے عبداللہ سے اس طرح بات کی اوراس نے بتلایا کہ آپ کے پاس کوئی آدمی بیٹھا آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہم کلام تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ! کیا تم نے اس آدمی کو دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا:جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام تھے،میں ان کیوجہ سے آپ لوگوں کی طرف تو جہ نہ کر سکا۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اور ان کے بھائی کو اپنے سواری پر اٹھا لیا، ایک کو اپنے آگے اور ایک کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر پندرہ برس تھی۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں محکم سورتیںیاد کر لی تھیں، جبکہ میری عمر دس برس تھی۔ میں (سعید بن جبیر) نے ان سے کہا: محکم سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: مفصل سورتیں۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تم جن سورتوں کو مفصل کہتے ہو، ان کو محکم بھی کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت میری عمر دس سال تھی، لیکن میں یہ محکم سورتیںیاد کر چکا تھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی اس وقت میرا ختنہ ہو چکا تھا۔