سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نجدہ حروری نے ان کے نام ایک خط لکھ کر ان سے یہ مسائل دریافت کئے: بچوں کو قتل کرنا کیسا ہے؟ خمس کے اہل کون لوگ ہیں؟بچے پر سے یتیمی کا اطلاق کب ختم ہوتا ہے؟ کیا عورتیں جہاد میں جا سکتی ہیںیا نہیں؟ کیا مال غنیمت میں غلام کا بھی حصہ ہے یا نہیں؟ انھوں نے جواباً تحریر کیا: اگر تم خضر ہو اور جانتے ہو کہ بچہ بڑا ہو کر کافر بنے گا تو تم اسے قتل کر سکتے ہو ، رہا مسئلہ خمس کا تو ہم تو اب تک یہی کہتے آئے ہیں کہ یہ ہمارا یعنی بنو ہاشم اور بنو مطلب کا حق ہے، اب ہم میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ ہمارا حق نہیں۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواتین کو اپنے ساتھ جہاد میں لے جایا کرتے تھے، وہ مریضوں کا علاج معالجہ کرتیں، مریضوںکی تیمارداری کرتیں، البتہ جنگ میں شامل نہیں ہوتی تھیں۔بچہ جب بالغ ہو جائے تو اس سے یتیمی کا اطلاق ختم ہو جاتا ہے۔غلام کا مال غنیمتمیں کچھ حصہ نہیں، البتہ ان کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں کچھ نہ کچھ بطور عطیہ دیا جاتا تھا۔
یزید بن ہرمز سے مروی ہے کہ نجدہ بن عامر حروری نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر ان سے چند مسائل دریافت کئے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جب اس کا خط پڑھ کر اس کے سوالات کے جوابات لکھوائے تو میں بھی وہاں موجود تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ جس شر یعنی برائی اور فتنے میں گرر ہا ہے، اگر میں اس کو اس سے بچانا نہ چاہ رہا ہوتا تو میں اس کے خط کا جواب نہ دیتا اور نہ اس طرح اسے خوش کرتا، چنانچہ انہوںنے اسے لکھا کہ تم نے مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان قرابت داروں کے حصوں کے متعلق دریافت کیاہے، جن کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر کیاہے، کہ اس سے کون لوگ مراد ہیں، ہم تو اب تک یہی سمجھتے آئے ہیں کہ ان قرابت داروں سے ہم ہییعنی بنو ہاشم اور بنو مطلب مراد ہیں۔ لیکن اب ہماری قوم اس بارے میں اس بات کو تسلیم نہیں کرتی،نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ یتیم سے یتیمی کا اطلاق کب زائل ہوتا ہے؟انہوںنے لکھا کہ جب بچہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے اور سمجھدار ہوجائے، تب اس کا مال اس کے حوالے کر دیا جائے، اس سے یتیمی کا اطلاق ختم ہو جاتا ہے۔ نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آیا مشرکین کے بچوں میں سے کسی کو قتل کیا جا سکتا ہے؟ انھوں نے جواباً لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل نہیں کیا، تم بھی ان میں سے کسی کو قتل نہ کرو، الایہ کہ تم خضر کی طرح علم رکھتے ہو(کہ فلاں بچہ کافر ہی ہو گا تو تم اسے قتل کر سکتے ہو)، اسی طرح نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آیا مال غنیمت میں عورتوں اور غلاموں کا بھی حصہ مقرر ہے؟ جبکہ وہ میدان جنگ میں حاضر ہوں؟ انھوں نے لکھا کہ عورتوں اور غلاموں کا حصہ مال غنیمت میں سے مقرر نہیں ہے، البتہ ان کو مسلمانوں کے اموال غنیمت میں سے (حوصلہ افزائی کے طور پر) کچھ حصہ بطور ہدیہ دیا جا سکتا ہے۔