سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے، وہ ان دنوں ابو بکر رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں، وہ لوگ بیٹھے ہی تھے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آگئے، انہوںنے ان لوگوں کو اپنی اہلیہ کے ہاں دیکھا تو انہیںیہ بات ناگوار گزری۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس واقعہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا اور کہا کہ میں نے کوئی قابل اعتراض بات تو نہیں دیکھی بلکہ میں نے تو اچھی بات ہی دیکھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اسماء کو ایسی باتوں سے محفوظ رکھا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: آج کے بعد کوئی آدمی اکیلا کسی ایسی خاتون کے ہاں نہ جائے، جس کا خاوند گھر پر نہ ہو، الایہ کہ اس کے ساتھ ایک دو آدمی اس کے ساتھ ہوں۔
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے ملاقات ہو گئی تو انھوں نے کہا: تم بڑے اچھے لوگ ہو، بس یہ بات ہے کہ لوگ تم سے پہلے ہجرت کر آئے ہیں اور ہم تم سے افضل ہیں۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے، تمہیں جس چیز کا علم نہ ہوتا، اللہ کے رسول تمہیں تعلیم دیتے اور تم میں سے جس کے پاس سواری نہ ہوتی، اللہ کے رسول اسے سواری عنایت کر دیتے اور ہم اپنے دین کو بچاتے ہوئے فرار ہوگئے تھے۔ بہرحال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر آپ سے ضرور اس بات کا ذکر کروں گی، چنانچہ انہوںنے جا کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ساری بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں دو ہجرتوں کا ثواب ملے گا، ایک حبشہ کی طرف اور ایک مدینہ کی طرف۔