سیدہ ام ہانی فاختہ بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: فتح مکہ والے دن میں نے اپنے دو سسرالی رشتہ داروں کو پناہ دی اور ان کو گھر میں داخل کر کے دروازہ بند کر دیا، میری اپنی ماں کا بیٹا سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آئے اور ان پر تلوار سونت لی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے نہ مل سکے، البتہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں، لیکن وہ میرے معاملے میں مجھ پر اپنے خاوند سے بھی زیادہ سختی کرنے والی تھیں، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گردو غبار کا اثر تھا، جب میں نے اپنی بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام ہانی! جن کو تو نے پناہ دی، ہم نے بھی ان کو پناہ دی اور جن کو تو نے امن دیا، ہم نے بھی ان کو امن دے دیا۔
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی طلب فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی پی کر باقی پانی ان کو واپس دیا تو انہوںنے (آپ کا جوٹھا پانی) پی لیا اور پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نفلی روزے دار اپنے نفس کا خود امیر ہوتا ہے، چاہے تو روزہ پورا کر لے اور چاہے تو روزہ توڑ دے۔
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی نے مجھے خبر نہیں دی کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہو، انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن اس کے گھر میں داخل ہوئے،غسل کیا اور آٹھ رکعات نماز پڑھی، تخفیف کے ساتھ رکوع و سجود کیے، (بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ) اس نے نبی کریمfکو اس سے ہلکی نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا تھا، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع و سجود مکمل کر رہے تھے۔
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ ہو گئی ہوں اور کمزور ہو گئی ہے، اس لیے مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں کہ بیٹھ کر کر لیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سو (۱۰۰) بار سُبْحَانَ اللّٰہ کہو، یہ عمل تمہارے لیے اولادِ اسماعیل سے سو گردنیں آزاد کرنے کے برابر ہو گا، سو (۱۰۰) دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہو، یہ عمل تمہارے لیے اللہ کے راستے میں سو لگام شدہ اور زین شدہ گھوڑے دینے کے برابر ہو گا، سو (۱۰۰) بار اَللّٰہُ اَکْبَر کہو، یہ عمل تیرے لیے ان سو (۱۰۰) اونٹوں کے برابر ہو گا، جن کو قلادے ڈال کر حج کے زمانے میں مکہ مکرمہ کی طرف بھیج دیا جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبول بھی کر لیے جائیں اور سو (۱۰۰) بار لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہو، یہ عمل آسمان و زمین کے درمیانی خلا کو ثواب سے بھر دے گا، اس دن کسی آدمی کا ایسا عظیم عمل اوپر کی طرف نہیں اٹھائے، الا یہ کہ وہ اسی طرح کا عمل کرے، جیسے تو نے کیا ہے۔
سیدہ ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جمعہ کے دن ان کی ملاقات کے لیے جایا کرتے تھے، بدر کے موقع پر انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا مجھے اجازت ہے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں تاکہ مریضوں کی تیمار داری اور زخمیوں کا علاج معالجہ کروں، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مقام شہادت عطا فرما دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر ہی ٹھہری رہو، اللہ تعالیٰ تمہیںیہیں شہادت سے سرفراز کرے گا۔ سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک غلام اور لونڈی کو مدبر کیا تھا (یعنی انہوںنے یہ اعلان کر دیا تھا کہ میری وفات کے بعد یہ دونوں آزاد ہوں گے۔) مگر اللہ کی قدرت کہ سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہ کی عمر طویل ہو گئی اور ان دو غلام اور لونڈی نے اپنی آزادی کے لالچ میں ان کے منہ اور ناک پر کس کر کپڑا لپیٹ کر ان کا سانس بند کرکے ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور خود فرار ہوگئے۔ امیر المومنین سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاں مقدمہ گیا اور ان سے کہا گیا کہ ان کو ان کے غلام اور لونڈی نے قتل کیا ہے اور خود فرار ہوگئے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں کھڑے ہو کر خطاب کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا کی ملاقات کے لیے جایا کرتے اور کہا کرتے تھے کہ آئو شہیدہ کی ملاقات کو جائیں۔ ان کی فلاں لونڈی اور فلاں غلام نے ان کا سانس گھونٹ کر ان کو قتل کر دیا ہے اور فرار ہوگئے ہیں، کوئی بھی آدمی ان دونوں کو پناہ نہ دے اور جسے وہ دونوں ملیں، وہ ان کو ہمارے ہاں پیش کرے۔ چنانچہ ان دونوں کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا گیا اور انہیں پھانسی دے دی گئی، سب سے پہلے ان دونوں کو پھانسی دی گئی تھی۔
ابومعشرکہتے ہیں کہ ابراہیم نخعیl، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس جایا کرتے تھے۔ حدیث کے راوی سعید بن ابی عروبہ نے اپنے شیخ ابو معشر سے دریافت کیا کہ وہ ان کی خدمت میں کیسے چلے جاتے تھے؟ انھوں نے کہا: وہ اپنے ماموں اسود کے ساتھ جاتے تھے، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور اسود کے مابین بھائی چارہ اور کافی الفت و محبت تھی۔
حسن سے روایت ہے کہ احنف نے کہا: میں ایک دفعہ بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا کہ بنو سلیم کا ایک آدمی آ کر مجھے ملا اور اس نے مجھ سے کہا:کیا میں تمہیں ایک خوش خبری سنائوں؟ میں نے کہا: جی ضرور سنائیں۔ اس نے کہا: کیا آپ کو یاد ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تمہاریقوم بنو سعد کی طرف روانہ فرمایا تھا تاکہ میں انہیں اسلام کی دعوت دوں تو تم نے اس موقع پر کہا تھا کہ اللہ کی قسم! اس رسول نے اچھی بات ہی کہی ہے اور میں نے بھی ان کے متعلق اچھا ہی سنا ہے، جب میں نے واپس آکر تمہاری بات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آگاہ کیا تو آپ نے یوں دعا کی تھی: اے اللہ! تو احنف کو بخش دے۔ انھوں نے کہا: پس مجھے سب سے زیادہ امید اسی دعا پر ہے۔