مسنداحمد

Musnad Ahmad

خلافت و امارت کے مسائل

فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے پوچھ گچھ ہو گی کی وضاحت


۔ (۱۲۰۵۲)۔ (وَبِالطَّرِیْقِ الثَّانِیْ) عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: مَرِضَ مَعْقِلُ بْنُ یَسَارٍ مَرَضًا ثَقُلَ فِیہِ فَأَتَاہُ ابْنُ زِیَادٍیَعُودُہُ، فَقَالَ: إِنِّی مُحَدِّثُکَ حَدِیثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنِ اسْتُرْعِیَ رَعِیَّۃً فَلَمْیُحِطْہُمْ بِنَصِیحَۃٍ لَمْ یَجِدْ رِیحَ الْجَنَّۃِ، وَرِیحُہَایُوجَدُ مِنْ مَسِیرَۃِ مِائَۃِ عَامٍ۔)) قَالَ ابْنُ زِیَادٍ: أَلَا کُنْتَ حَدَّثْتَنِی بِہٰذَا قَبْلَ الْآنَ، قَالَ: وَالْآنَ لَوْلَا الَّذِی أَنْتَ عَلَیْہِ لَمْ أُحَدِّثْکَ بِہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۸۱)

۔ (دوسری سند) حسن سے مروی ہے کہ سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیمار پڑ گئے، مرض شدت اختیار کر گئی، ابن زیاد ان کی تیمارداری کے لیے آئے، سیدنا معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو حکمرانی ملی اور وہ اپنی رعایا کے ساتھ بھلائی نہ کرے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا،حالانکہ اس کی خوشبو سوسال کی مسافت سے محسوس ہوجاتی ہے۔ ابن زیادنے کہا: تم نے یہ حدیث اس سے پہلے بیان کیوں نہیں کی؟سیدنا معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ جس مقام پر اب ہیں، اگر اس پر نہ ہوتے تو میں اب بھی آپ کو یہ حدیث نہ سناتا۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۰۵۲) تخریج: حدیث صحیح، وانظر الحدیث بالطریق الاول