سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اللہ تمہیں بے وقوفوںاور نااہل لوگوں کی حکمرانی سے بچائے۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: بے وقوفوں کی حکومت سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو امراء میرے بعد آئیں گے، وہ میرے طریقے کی اقتداء نہیں کریں گے اور میری سنتوں پر عمل نہیں کریں گے، جس نے ان کے جھوٹے ہونے کے باوجود ان کی تصدیق کی اور ان کے ظلم وجور کے باوجود ان کی مدد کی، ان کا مجھ سے اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور نہ وہ مجھ پر میرے حوض پر آئیں گے اور جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کی اور نہ ان کے ظلم پر ان کی اعانت نہ کی، وہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں اور یہی لوگ میرے پاس میرے حوض پر آئیں گے۔
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے،ہم نو آدمی تھے، ہمارے درمیان چمڑے کا ایک تکیہ پڑا تھا، آپ نے فرمایا: عنقریب میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے، جو جھوٹ بولیں گے اور ظلم کریںگے، جو ان کے پا س گیا اور ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کی، … پھر سابق روایت کی طرح کے الفاظ ذکر کیے۔ ! مضارع کے نون اعرابی گرنے کی ظاہری کوئی وجہ نظر نہیں آتی (محقق مسند)۔ (عبداللہ رفیق)
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کیا ہے۔
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف اپنی نظر اٹھائی اور پھر اسے نیچے کیا، یہاں تک کہ ہم نے سمجھاکہ آسمان پر کوئی اہم واقعہ رونماہوا ہے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے، جو جھوٹ بولیں گے اور ظلم کریں گے، جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور ظلم پر ان کی مدد کی، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں اور جس نے ان کی جھوٹ کی تصدیق نہیں کی اور ان کے ظلم پر ان کی موافقت نہ کی، وہ میرا اور میں اس کا ہوں، خبردار! مسلمان کا خون کفارہ ہے اوریہ کلمات باقی رہنے والے اعمال صالحہ ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلَّہِ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ اور اَللَّہُ أَکْبَرُ۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے اوپر کچھ حکمران مسلط ہوں گے، تم دیکھو گے کہ وہ مستحقین پر غیر مستحق لوگوں کو ترجیح دیں گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو آدمی ایسے حالات پائے، وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ذمہ جو حقوق ہوں، تم ان کو ادا کرنا اور جو تمہارے حقوق ہوں، تم ان کا اللہ تعالیٰ سے سوال کرنا۔ ایک روایت میں ہے: تم میرے بعد دیکھو گے کہ نا اہل اور غیر مستحق لوگوں کو ترجیح دی جائے گی اور تم ایسے ایسے کام دیکھو گے جنہیں تم اچھا نہیں سمجھو گے۔ ہم نے کہا: ایسی صور ت حال میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ذمے ان کے جو حقوق ہوں، تم انہیں ادا کرتے رہنا اور اپنے حقوق کا اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے رہنا۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد تم پر ایسے لوگ حکمران ہوں گے، جو سنتوں کو مٹائیں گے،بدعات کو فروغ دیں گے اور نمازوں کو ان کے مقررہ اوقات سے مؤخر کریں گے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں ان لوگوں کو پالوں تو میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام عبد کے بیٹے! اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والے کی اطاعت نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار یہ بات ارشاد فرمائی۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے اوپر ایسے حکمران آئیں گے کہ وہ تمہیں ایسی باتوں کا حکم دیں گے جن پر خود عمل نہیں کریں گے، جس نے ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، ایسا آدمی ہر گز میرے پاس حوض پر نہیں آئے گا۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ حکمران ہوں گے کمینے قسم کے لوگ ان کے پاس کثرت سے ہوں گے، وہ ظلم کریں گے او رجھوٹ بولیں گے، جو آدمی ان کے پاس جا کر ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم پر ان کی اعانت کرے گا، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کچھ تعلق نہیں ہے اور جو آدمی ان کے پاس نہ گیا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی او رنہ ظلم پر ان کی مدد کی، وہ مجھ سے ہے اور میں اس کاہوں۔
عبد اللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں ایک آدمی دوسرے کے ہاں مہمان ٹھہرا، میزبان کے گھر میں ایک حاملہ کتیا تھی، کتیا نے سوچا، اللہ کی قسم! میں اپنے مالکوں کے مہمان کو نہیں بھونکوں گی۔ اتنے میں اس کے پیٹ کا پلّا مسلسل چیخنے لگ گیا، کسی نے کہا: یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ یہ اس امت کی مثال ہے، جو تمہارے بعد آئے گی، اس کے بیوقوف لوگ اس کے عقلمندوں پر غالب آ جائیں گے۔
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے اس انتظار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ ظہر کے لیے باہر تشریف لائیں گے، آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا: سنو! ہم نے عرض کیا: جی ہم سن رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: سنو! ہم نے کہا: ہم سن رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے اوپر حکمران مسلط ہوں گے، تم نے ان کے ظلم پر ان کی مدد نہیں کرنا، جس نے ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کی وہ حوضِ کوثر پرمیرے پاس نہیں آئے گا۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد عنقریب ایسے حکمران آئیں گے، جو ایسی باتیں کریں گے، جن پر ان کا اپنا عمل نہیں ہو گا اور وہ جو کچھ کریں گے، اس کا ان کو حکم نہیں دیا جائے گا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی، جب تک کہ یہ حقیر کی ملکیت میں نہیں آجائے گی۔ اسمٰعیل بن عمر اور ابن بکیر نے کہا: جب تک یہ حقیر بن حقیر کی ملکیت میں نہیں آجائے گی۔ اسود راوی نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ اس سے مراد برا شخص کا برا بیٹا ہے۔
سیدنا ابو بردہ بن نیاز رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
سیدنا مقداد بن اسود اور سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب حاکم لوگوںکے عیوب ڈھونڈنا شروع کر دیتا ہے تو وہ ان کو خراب کر دیتاہے۔
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ کی معصیت کر کے اپنے بادشاہ کو تقویت پہنچاتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مکر کو کمزور اور ناکام کر دے گا۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب فلاں آدمی کی اولاد کی تعداد تیس ہوجائے گی تو یہ لوگ اللہ کے مال کو آپس میں ہی ادل بدل کریں گے، اللہ تعالیٰ کے دین میں عیب و نقص نکالیں گے اور اللہ کے بندوں کو غلام بنا لیں گے۔
داود بن ابی صالح کہتے ہیں کہ ایک دن مرو ان آیا اور اس نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے اپنا چہرہ قبر کے اوپر رکھا ہوا تھا، مروان نے کہا: کیا تو جانتا ہے کہ تو کیا کر رہا ہے؟ جب وہ اس پر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ وہ تو سیدنا ابو ایو ب تھے، پس انہوں نے کہا: ہاں، میں جانتا ہوں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ہوں، نہ کہ کسی پتھر کے پاس، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جب دین کے وارث اہل اور مستحق لوگ ہوں تو تم دین پر مت رونا، البتہ تم دین پر اس وقت رونا، جب نا اہل لوگ اس کے وارث اور مالک بن جائیں گئے۔
حسن کہتے ہیں کہ سیدنا عائذبن عمرو رضی اللہ عنہ ، جو کہ نیکوکار صحابہ میں سے تھے، عبید اللہ بن زیاد کے ہاں گئے،اور انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بد ترین حکمران وہ ہوں گے جو لوگوں پر ظلم ڈھائیں گے، پس تو ان میں سے ہونے سے بچ جا۔ آگے سے ابن زیاد نے کہا: بیٹھ جا، تو تو آٹے کے چھانن کی طرح کم تر صحابہ میں سے ہے، انھوں نے کہا: صحابۂ کرام میں سے کم تر کوئی نہیں تھا، یہ کمتری تو بعد والوں میں اور غیر صحابہ میں پائی جاتی ہے۔