مسنداحمد

Musnad Ahmad

خلافت و امارت کے مسائل

فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان

۔ (۱۲۱۲۶)۔ حَدَّثَنَا یَزِیدُ وَمُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ قَالَا: حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: عَنِ الْقَاسِمِ، وَقَالَیَزِیدُ فِی حَدِیثِہِ: حَدَّثَنِی الْقَاسِمُ بْنُ عَوْفٍ الشَّیْبَانِیُّ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: کُنَّا قَدْ حَمَلْنَا لِأَبِی ذَرٍّ شَیْئًا نُرِیدُ أَنْ نُعْطِیَہُ إِیَّاہُ، فَأَتَیْنَا الرَّبَذَۃَ، فَسَأَلْنَا عَنْہُ، فَلَمْ نَجِدْہُ، قِیلَ: اسْتَأْذَنَ فِی الْحَجِّ، فَأُذِنَ لَہُ، فَأَتَیْنَاہُ بِالْبَلْدَۃِ وَہِیَ مِنًی، فَبَیْنَا نَحْنُ عِنْدَہُ إِذْ قِیلَ لَہُ: إِنَّ عُثْمَانَ صَلّٰی أَرْبَعًا، فَاشْتَدَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَبِی ذَرٍّ، وَقَالَ قَوْلًا شَدِیدًا، وَقَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، وَصَلَّیْتُ مَعَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ، ثُمَّ قَامَ أَبُو ذَرٍّ فَصَلّٰی أَرْبَعًا، فَقِیلَ لَہُ: عِبْتَ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ شَیْئًا، ثُمَّ صَنَعْتَ، قَالَ: الْخِلَافُ أَشَدُّ، إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَقَالَ: ((إِنَّہُ کَائِنٌ بَعْدِی سُلْطَانٌ، فَلَا تُذِلُّوہُ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ یُذِلَّہُ، فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَۃَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِہِ، وَلَیْسَ بِمَقْبُولٍ مِنْہُ تَوْبَۃٌ حَتّٰییَسُدَّ ثُلْمَتَہُ الَّتِی ثَلَمَ، وَلَیْسَ بِفَاعِلٍ۔)) ثُمَّ یَعُودُ فَیَکُونُ فِیمَنْیُعِزُّہُ، أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا یَغْلِبُونَا عَلٰی ثَلَاثٍ، أَنْ نَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَنْہٰی عَنِ الْمُنْکَرِ، وَنُعَلِّمَ النَّاسَ السُّنَنَ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۹۲)

قاسم بن عوف شیبانی، ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، اس نے کہا:ہم ابوذر کو کوئی چیز بطور ہدیہ دینا چاہتے تھے، ہم وہ اٹھا کر لے گئے اور ربذہ مقام میں پہنچے، جب ہم نے ان کے متعلق دریافت کیا تو بتلایا گیا کہ انہوں نے حج کے لیے جانے کی اجازت مانگی تھی اور انہیںمل گئی تھی، پھر ہم منیٰ میں ان سے ملے، ہم ان کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ان کو بتایا گیا کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مِنی میں چاررکعت پڑھی ہے، یہ بات ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر بہت گراں گزری اور انہوں نے سخت باتیں کہہ دیں اور پھر کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ یہاں نماز پڑھی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعتیں پڑھی تھیں، میں نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ یہاں مِنی میں نماز پڑھی ہے (انھوں نے بھی دو رکعتیں پڑھائی ہیں)، اس کے بعد سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اٹھ کر چار رکعات پڑھیں۔ کسی نے ان سے کہا کہ تم نے جس با ت کو امیر المومنین کے لیے معیوب سمجھا ہے، اس پر خود عمل کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا: اختلاف کرنا بہت برا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ میرے بعد ایک بادشاہ آئے گا، تم اسے رسوانہ کرنا، جس نے اسے رسواکرنے کا ارادہ کیا، اس نے اسلام کی رسی کو اپنی گردن سے اتار پھینکا، اور اس کی توبہ اس وقت تک قبول نہ ہوگی، جب تک اس کی ڈالی ہوئی دراڑ ختم نہ ہو گی، مگر وہ ایسا نہ کرسکے گا۔ یعنی اپنی ڈالی ہوئی دراڈ کو پر نہ کر سکے گا۔ اس کے بعد وہ اس بادشاہ کی عزت کرے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ یہ حکمران تین باتوں میں ہم پر غالب نہ آجائیں یعنی وہ ہمیں ان تین کاموں سے روک نہ سکیں، بلکہ ہم یہ کام برابر کرتے رہیں۔ امر بالمعروف، نہی عن المنکر او رلوگوں کو سنتوں کی تعلیم دینا۔

۔ (۱۲۱۲۷)۔ وَعَنْ سَعِیدِ بْنِ جُمْہَانَ قَالَ: لَقِیتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أَبِی أَوْفٰی، وَہُوَ مَحْجُوبُ الْبَصَرِ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، قَالَ لِی: مَنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: أَنَا سَعِیدُ بْنُ جُمْہَانَ، قَالَ: فَمَا فَعَلَ وَالِدُکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَتَلَتْہُ الْأَزَارِقَۃُ، قَالَ: لَعَنَ اللّٰہُ الْأَزَارِقَۃَ، لَعَنَ اللّٰہُ الْأَزَارِقَۃَ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَنَّہُمْ کِلَابُ النَّارِ، قَالَ: قُلْتُ: الْأَزَارِقَۃُ وَحْدَہُمْ أَمْ الْخَوَارِجُ کُلُّہَا؟ قَالَ: بَلَی الْخَوَارِجُ کُلُّہَا، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ السُّلْطَانَ یَظْلِمُ النَّاسَ، وَیَفْعَلُبِہِمْ، قَالَ: فَتَنَاوَلَ یَدِی فَغَمَزَہَا بِیَدِہِ غَمْزَۃً شَدِیدَۃً ثُمَّ قَالَ: وَیْحَکَیَا ابْنَ جُمْہَانَ! عَلَیْکَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ، عَلَیْکَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ، إِنْ کَانَ السُّلْطَانُ یَسْمَعُ مِنْکَ، فَأْتِہِ فِی بَیْتِہِ فَأَخْبِرْہُ بِمَا تَعْلَمُ، فَإِنْ قَبِلَ مِنْکَ، وَإِلَّا فَدَعْہُ فَإِنَّکَ لَسْتَ بِأَعْلَمَ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۳۵)

سعید بن جمہان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ نابینا ہوچکے تھے، میں نے سلام کہا، انہوں نے مجھ سے پوچھا، تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں سعید بن جمہان ہوں، انہو ںنے کہا: تمہارے والد کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا؟ میں نے کہا: ازارقہ نے اسے قتل کر ڈالا۔ انھوں نے کہا: اللہ، ازارقہ پر لعنت کرے، اللہ ازارقہ پر لعنت کرے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے بیان فرمایا تھا کہ یہ لوگ جہنم کے کتے ہیں۔ میں نے پوچھا: صرف ازارقہ یا سارے خوارج؟ انہو ںنے کہا: سارے خوارج۔ میں نے کہا: بادشاہ لوگوں پر ظلم ڈھاتا ہے اور کچھ اچھے کام بھی کرتا ہے، (اس کے بارے میں کیا کہنا یا کرنا چاہیے)؟ انہو ں نے میرا ہاتھ پکڑ کر زور سے دبایا اور پھر کہا: اے ابن جمہان! تم پر افسوس، تم سوا داعظم یعنی بڑے لشکر کے ساتھ رہنا، اگر بادشاہ تمہاری بات سنتا ہو تو اس کے گھر میں اس کے پاس جا کر جو کچھ تم جانتے ہو، اس بتلا دینا، اگر وہ آپ کی بات مان لے تو بہتر، ورنہ رہنے دینا، کیونکہ تم اس سے زیادہ نہیں جانتے۔

۔ (۱۲۱۲۸)۔ وعن شُرَیْحِ بْنِ عُبَیْدٍ الْحَضْرَمِیِّ وَغَیْرِہِ قَالَ: جَلَدَ عِیَاضُ بْنُ غَنْمٍ صَاحِبَ دَارٍ حِینَ فُتِحَتْ، فَأَغْلَظَ لَہُ ہِشَامُ بْنُ حَکِیمٍ الْقَوْلَ حَتّٰی غَضِبَ عِیَاضٌ، ثُمَّ مَکَثَ لَیَالِیَ فَأَتَاہُ ہِشَامُ بْنُ حَکِیمٍ، فَاعْتَذَرَ إِلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ ہِشَامٌ لِعِیَاضٍ: أَلَمْ تَسْمَعِ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا أَشَدَّہُمْ عَذَابًا فِی الدُّنْیَا لِلنَّاسِ۔)) فَقَالَ عِیَاضُ بْنُ غَنْمٍ: یَا ہِشَامُ بْنَ حَکِیمٍ! قَدْ سَمِعْنَا مَا سَمِعْتَ، وَرَأَیْنَا مَا رَأَیْتَ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((مَنْ أَرَادَ أَنْ یَنْصَحَ لِسُلْطَانٍ بِأَمْرٍ فَلَا یُبْدِلَہُ عَلَانِیَۃً، وَلٰکِنْ لِیَأْخُذْ بِیَدِہِ فَیَخْلُوَ بِہِ، فَإِنْ قَبِلَ مِنْہُ فَذَاکَ، وَإِلَّا کَانَ قَدْ أَدَّی الَّذِی عَلَیْہِ لَہُ۔)) وَإِنَّکَ یَا ہِشَامُ! لَأَنْتَ الْجَرِیئُ إِذْ تَجْتَرِئُ عَلٰی سُلْطَانِ اللّٰہِ، فَہَلَّا خَشِیتَ أَنْ یَقْتُلَکَ السُّلْطَانُ، فَتَکُونَ قَتِیلَ سُلْطَانِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔ (مسند احمد: ۱۵۴۰۸)

شریح بن عبید حضرمی وغیرہ سے مروی ہے کہ ایک علاقہ فتح ہوا اور سیدنا عیاض بن غنم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک گھر کے مالک کی پٹائی کردی، سیدنا ہشام بن حکیم بن حزام نے ان کو سخت قسم کی باتیں کہہ دیں، عیاض ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ناراض ہوگئے، کچھ دنوں کے بعد سیدنا ہشام بن حکیم نے آکر معذرت کی، پھر سیدنا ہشام نے عیاض ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا:کیا تم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا، جو دنیا میں لوگوں کو سخت عذاب دیتے ہیں۔ سیدناعیاض بن غنم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہشام! جو کچھ تم نے سنا، وہ ہم بھی سن چکے ہیںاور جو کچھ تم نے دیکھا، وہ ہم بھی دیکھ چکے ہیں۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی بادشاہ کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا ارادہ کرے، وہ لوگوں کے سامنے کچھ نہ کہے، بلکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر خلوت میں لے جائے، اگر وہ حکمران اس کی بات کو قبول کر لے تو بہتر، ورنہ اس آدمی نے اپنا فریضہ ادا کر دیا۔ اے ہشام! تم بڑے جرأت مند ہو،کیونکہ تم نے تو اللہ کے سلطان پر جرأت کی ہے، کیا تمہیں اس بات سے ڈر نہیں لگتا کہ اللہ تعالیٰ کا بادشاہ تم کو قتل کر دے اور اس طرح تم اللہ کے بادشاہ کے مقتول بن جاؤ۔