بشر بن حرب سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے اور ان سے کہا: مجھے اطلاع پہنچی ہے کہ کہ لوگوں کے ایک امیر کی امارت پر متفق ہونے سے پہلے ہی آپ نے دو امیروں کی بیعت کر لی ہے؟ انہوںنے کہا: جی ہاں، میں سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر چکا تھا کہ شامی آگئے اوروہ مجھے ابن دلحہ کے لشکر کی طرف لے گئے، میں نے اس کی بیعت بھی کرلی، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اس بات کا اندیشہ تھا، میں اسی سے ڈرتا تھا، ان الفاظ کو ادا کرتے ہوئے حماد بن سلمہ نے اپنی آواز کو لمبا کر کے کھینچا،ابو سعید نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! کیا آپ نے نہیں سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے اگر کوئی آدمی اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ کسی امیر کی امارت کے نہ ہوتے ہوئے نہ صبح کرے اور نہ شام کرے تو اسے ضرورکسی کی امارت میں چلے جانا چاہیے۔ ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، مگر میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ لوگوں کے کسی ایک امیر کی امارت پر متفق ہونے سے پہلے میں دوامیروں کی بیعت کروں۔
ابو عمران سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے جندب سے کہا: میں ان لوگوں یعنی سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر چکا ہوں،اب یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں ان کے ہمراہ شام کی طرف جاؤں، انہوں نے کہا: مت جانا، میں نے کہا: وہ مجھے اپنے ساتھ لے جانے پر مصر ہیں، انہوںنے کہا: تم مال دے کر جان چھڑا لو، میں نے کہا: ان کا ایک ہی اصرا ر ہے کہ میں ان کے ساتھ مل کر قتال میں حصہ لوں، جندب نے کہا: مجھے فلاں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاارشاد ہے: قیامت کے دن ایک مقتول اپنے قاتل کو ساتھ لے کر آئے گا اور کہے گا: اے میرے رب! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھ کیوں قتل کیا تھا؟شعبہ کے الفا ظ ہیں: وہ کہے گا کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا؟ وہ کہے گا: میں نے فلاں کی حکومت بچانے کے لیے اسے قتل کیا تھا۔ تو جندب نے کہا: پس تم بچ ہی جاؤ۔