TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب دوم: دیگر امتوں کے مقابلے میں اس امت کی تعداد اورمقدار کا بیان اور اس حقیقت کا بیان کہ جنت میں دو تہائی تعداد اس امت کے افراد کی ہوگی - باب دوم: دیگر امتوں کے مقابلے میں اس امت کی تعداد اورمقدار کا بیان اور اس حقیقت کا بیان کہ جنت میں دو تہائی تعداد اس امت کے افراد کی ہوگی - کتاب الفضائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of کتاب الفضائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 66 · 7 Hadith
۔ (۱۲۴۸۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی قُبَّۃٍ نَحْوٌ مِنْ أَرْبَعِینَ، فَقَالَ: ((أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَکُونُوا رُبُعَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ؟)) قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: ((أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَکُونُوْا ثُلُثَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ؟)) قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! إِنِّی لَأَرْجُو أَنْ تَکُونُوْا نِصْفَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ، وَذَاکَ أَنَّ الْجَنَّۃَ لَا یَدْخُلُہَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَۃٌ، وَمَا أَنْتُمْ فِی الشِّرْکِ إِلَّا کَالشَّعْرَۃِ الْبَیْضَائِ فِی جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ أَوِ السَّوْدَائِ فِی جِلْدِ ثَوْرٍ أَحْمَرَ۔)) (مسند احمد: ۳۶۶۱)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم تقریباً چالیس آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک قبہ میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ اس بات پر راضی ہو کہ اہل جنت کا چوتھا حصہ تم لوگ ہو گے۔ ہم نے عرض کی: جی ہاں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ تمہاری تعداد اہل جنت کا تیسراحصہ ہو؟ ہم نے کہا:جی ہاں! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،مجھے امید ہے کہ جنت میں آدھی تعداد تمہاری ہوگی، اس لیے کہ جنت میں وہی لوگ جائیں گے جو مسلمان ہوں گے اور اہل شرک کے بالمقابل تمہاری تعداد یوں ہے، جیسے سیاہ بیل کی جلد پر سفید بال ہو یا سرخ بیل کی جلد پر سیاہ بال ہو۔
Takhreej
(۱۲۴۸۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۶۴۲ومسلم: ۳۷۶، ۳۷۸ (انظر: ۳۶۶۱)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی دو امتیازی خصوصیات بھی ہیں کہ اس کی عمر بھی زیادہ ہے اور ایک وقت میں اس کی تعداد بھی بہت زیادہ ہوتی ہے،اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی پندرہویں صدی جاری ہے اور تعداد کم و بیش سوا ارب سے زیادہ ہے۔ ان خصوصیات کا یہ نتیجہ تو واضح ہے کہ جنت میں بھی اس کی تعداد زیادہ ہو گی۔
12487
Sahih
۔ (۱۲۴۸۸)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((کَیْفَ أَنْتُمْ وَرُبُعَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ؟ لَکُمْ رُبُعُہَا وَلِسَائِرِ النَّاسِ ثَلَاثَۃُ أَرْبَاعِہَا۔)) قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((فَکَیْفَ أَنْتُمْ وَثُلُثَہَا؟)) قَالُوْا فَذَاکَ أَکْثَرُ، قَالَ: ((فَکَیْفَ أَنْتُمْ وَالشَّطْرَ؟)) قَالُوْا: فَذٰلِکَ أَکْثَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَہْلُ الْجَنَّۃِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ عِشْرُونَ وَمِائَۃُ صَفٍّ، أَنْتُمْ مِنْہَا ثَمَانُونَ صَفًّا۔)) (مسند احمد: ۴۳۲۸)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس وقت کیا عالم ہوگا، جب جنت میں ایک چوتھائی تم لوگ ہو گے، پوری جنت کا چوتھا حصہ صرف تمہارے لیے اور تین چوتھائی باقی ساری امتوں کے لیے۔ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا، جب جنت میں ایک تہائی تعداد تمہاری ہوگی؟ صحابہ نے کہا: تب تو پہلے سے بھی زیادہ ہوں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اہل جنت کی کل ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی صفیں تمہاری ہوں گی۔
Takhreej
(۱۲۴۸۸) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ البزار: ۳۵۳۴، وابویعلی: ۵۳۵۸، والطبرانی فی الکبیر : ۱۰۳۵۰ (انظر: ۴۳۲۸)
12488
Sahih
۔ (۱۲۴۸۹)۔ وَعَنْ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلَمِیِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَہْلُ الْجَنَّۃِ عِشْرُونَ وَمِائَۃُ صَفٍّ، مِنْہُمْ ثَمَانُونَ مِنْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ۔)) وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّۃً: ((أَنْتُمْ مِنْہُمْ ثَمَانُونَ صَفًّا۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۲۸)
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل جنت کی کل ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی صفیںاس میری امت کے لوگوں کی ہوں گی۔
Takhreej
(۱۲۴۸۹) تخریج: اسنادہ صحیح، اخرجہ الترمذی: ۲۵۴۶، وابن ماجہ: ۴۲۸۹ (انظر: ۲۲۹۴۰)
Explanation
فوائد:… جنت کی ایک صف میں کتنے افراد ہوں گے، کوئی بھی اس کا اندازہ نہیں لگا سکتا، ما سوائے اللہ تعالیٰ کے
12489
Sahih
۔ (۱۲۴۹۱)۔ عَنْ جَابِرٍ، أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((أَرْجُو أَنْ یَکُونَ مَنْ یَتَّبِعُنِی مِنْ أُمَّتِییَوْمَ الْقِیَامَۃِ رُبُعَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: فَکَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: ((أَرْجُو أَنْ یَکُونُوْا ثُلُثَ النَّاسِ۔)) قَالَ: فَکَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: ((أَرْجُوْ أَنْ یَّکُوْنُو الشَّطْرَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۸۱)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا: مجھے امید ہے کہ میری امت میں سے میری اتباع کرنے والے قیامت کے دن کل اہل جنت کا چوتھا حصہ ہوں گے۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:یہ سن کر ہم نے خوشی سے اللہ اکبر کہا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ میرے پیروکار اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہوں گے۔ یہ سن کر ہم نے خوشی سے پھر اللہ اکبر کہا،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ میرے متبعین ا ہل جنت کی کل تعداد کا نصف ہوںگے۔
Takhreej
(۱۲۴۹۱) تخریج: حدیث صحیح، اخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۹۰۷۸ (انظر: ۱۴۷۲۴)
12491
Sahih
۔ (۱۲۴۹۲)۔ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰییَقُولُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ لِآدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ: قُمْ فَجَہِّزْ مِنْ ذُرِّیَّتِکَ تِسْعَ مِائَۃٍ وَتِسْعَۃً وَتِسْعِینَ إِلَی النَّارِ وَوَاحِدًا إِلَی الْجَنَّۃِ۔)) فَبَکٰی أَصْحَابُہُ وَبَکَوْا ثُمَّ قَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ارْفَعُوا رُؤُ وْسَکُمْ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! مَا أُمَّتِی فِی الْأُمَمِ إِلَّا کَالشَّعْرَۃِ الْبَیْضَائِ فِی جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ۔)) فَخَفَّفَ ذٰلِکَ عَنْہُمْ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۳۷)
سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا: تم اٹھو اور اپنی اولاد کے ہر ہزار افراد میں سے نو سو ننانوے آدمی جہنم کے لیے اور ایک جنت کے لیے الگ کردو۔ یہ سن کر تمام صحابہ کرام f رونے لگ گئے، اس کے بعدرسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے سر اوپر اٹھاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میر ی جان ہے! دوسری امتوں کے مقابلے میں میری امت کی مثال ایسے ہے، جیسے سیاہ بیل کی جلد پر ایک سفید بال ہو۔ یہ سن کر صحابہ کا غم کچھ ہلکا ہوا۔
Takhreej
(۱۲۴۹۲) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۷۴۸۹)
12492
Sahih
۔ (۱۲۴۹۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَوَّلُ مَنْ یُدْعٰییَوْمَ الْقِیَامَۃِ آدَمُ، فَیُقَالُ: ہٰذَا أَبُوکُمْ آدَمُ، فَیَقُولُ: یَا رَبِّ لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ، فَیَقُولُ لَہُ رَبُّنَا: أَخْرِجْ نَصِیبَ جَہَنَّمَ مِنْ ذُرِّیَّتِکَ، فَیَقُولُ: یَا رَبِّ! وَکَمْ؟ فَیَقُولُ: مِنْ کُلِّ مِائَۃٍ تِسْعَۃً وَتِسْعِینَ۔)) فَقُلْنَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ إِذَا أُخِذَ مِنَّا مِنْ کُلِّ مِائَۃٍ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُونَ فَمَاذَا یَبْقٰی مِنَّا؟ قَالَ: ((إِنَّ أُمَّتِی فِی الْأُمَمِ کَالشَّعْرَۃِ الْبَیْضَائِ فِی الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۰۰)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو لا کر کہا جائے گا: یہ تمہارا باپ آدم علیہ السلام ہے، آدم علیہ السلام کہیں گے: اے میرے رب! میں حاضر ہوں، پھر ہمارا رب ان سے فرمائے گا: تم اپنی اولاد میں سے جہنم کا حصہ الگ کر دو، وہ کہیں گے:اے میرے رب! کتنا حصہ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر سو میںسے ننانوے۔ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ہر سو میں ننانوے نکل گئے تو جنت میں جانے کے لیے ہم میں سے کتنے باقی بچیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: باقی امتوں کے بالمقابل میری امت یوں ہوگی، جیسے سیاہ بیل کی جلد پر ایک سفید بال۔
Takhreej
(۱۲۴۹۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۲۹ (انظر: ۸۹۱۳)
Explanation
فوائد:… اس موضوع سے متعلقہ ایک حدیث درج ذیل ہے: سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : ((یَقُولُ اللّٰہُ تَعَالٰی یَا آدَمُ فَیَقُولُ لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ فِی یَدَیْکَ فَیَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ کُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَۃٍ وَتِسْعَۃً وَتِسْعِینَ فَعِنْدَہُ یَشِیبُ الصَّغِیرُ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَتَرَی النَّاسَ سُکَارٰی وَمَا ہُمْ بِسُکَارٰی وَلٰکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیدٌ۔)) قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَأَیُّنَا ذٰلِکَ الْوَاحِدُ قَالَ: ((أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْکُمْ رَجُلًا وَمِنْ یَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفًا۔)) ثُمَّ قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنِّی أَرْجُو أَنْ تَکُونُوا رُبُعَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) فَکَبَّرْنَا فَقَالَ: ((أَرْجُو أَنْ تَکُونُوا ثُلُثَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) فَکَبَّرْنَا فَقَالَ: ((أَرْجُو أَنْ تَکُونُوا نِصْفَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) فَکَبَّرْنَا فَقَالَ: ((مَا أَنْتُمْ فِی النَّاسِ إِلَّا کَالشَّعَرَۃِ السَّوْدَائِ فِی جِلْدِ ثَوْرٍ أَبْیَضَ أَوْ کَشَعَرَۃٍ بَیْضَائَ فِی جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ۔)) … اللہ تعالیٰ (قیامت کے روز) فرمائے گا: اے آدم! وہ عرض کریں گے: جی میں حاضر ہوں اور شرف یاب ہوں اور ہر طرح کی بھلائی سب تیرے ہاتھ میں ہے، اللہ فرمائے گا: دوزخ میں جانے والا لشکر نکالو، وہ عرض کریں گے: دوزخ کا کتنا لشکر ہے؟ اللہ فرمائے گا: ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ میں اور ایک جنت میں جائے گا، پس وہ ایسا وقت ہوگا کہ (خوف کے مارے) بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا اور تو لوگوں کو نشہ کی حالت میں دیکھو گے حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہونگے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ (جنت میں فی ہزار ایک جانے والا) ہم میں سے کون ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ، کیونکہ تم میں سے ایک آدمی ہوگا اور یاجوج ماجوج میں سے ایک ہزار۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا چوتھا حصہ ہو گے۔ ہم لوگوں نے اللہ اکبر کہا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو گے۔ ہم نے پھر تکبیر کہی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف حصہ ہو گے (یعنی نصف تم اور نصف دوسرے لوگ)۔ ہم نے پھر تکبیر کہی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم تو اور لوگوں کے مقابلہ میں ایسے ہو جیسے سیاہ بال سفید بیل کے جسم پر یا سفید بال سیاہ بیل کے جسم پر۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
12493
Sahih

Chapters

66
01
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
20 Hadith
02
باب دوم: دیگر امتوں کے مقابلے میں اس امت کی تعداد اورمقدار کا بیان اور اس حقیقت کا بیان کہ جنت میں دو تہائی تعداد اس امت کے افراد کی ہوگی
7 Hadith
03
با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا
9 Hadith
04
باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے
5 Hadith
05
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ قیامت کے دن باقی امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کی امتیازی علامت یہ ہوگی کہ ان کے ہاتھ پائوں روشن ہوں گے
4 Hadith
06
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی امت کے حق میں دعاؤں کا بیان
7 Hadith
07
امت کے ابتدائی ادوار کی فضیلت پر مشتمل ابواب باب اول: اس دور کی فضیلت، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مبعوث ہوئے
2 Hadith
08
باب دوم: دور اول اور دورثانی کی فضیلت
4 Hadith
09
باب سوم: دور اول، دورِ دوم اور دورِ سوم کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
10
باب چہارم: دورِ اول، دورِ دوم، دورِ سوم، دورِ چہارم اور ایک روایت کے مطابق دورِ پنجم کی فضیلت کابیان
4 Hadith
11
عربوں کی مطلق فضیلت کا بیان
4 Hadith
12
قریش اور بعض دیگر عرب قبائل کے فضائل کا بیان باب اول: اس امر کابیان کہ قریش کی تکریم کی جائے اور ان کی اہانت اور ان کو برا بھلا کہنے سے احتراز کیاجائے
4 Hadith
13
باب دوم: اس امر کا بیان کہ قریش کی اقتداء کی جائے اور خلافت ان ہی کا استحقاق ہے
6 Hadith
14
باب سوم: قریش کے خصالٔص اور ان کے حق میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا کا بیان
9 Hadith
15
بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
2 Hadith
16
فصل دوم: قبیلہ ازد اور حمیر کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
17
فصل سوم: قبیلہ بنی ناجیہ، نخع اور غزہ کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
4 Hadith
18
باب پنجم: عرب کے بعض قبائل کی مدح اور مذمت میں وارد احادیث کا بیان
7 Hadith
19
بجیلہ، احمس، قیس اورناجیہ کے قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
20
بنو ثقیف اور دوس کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
21
بنوازد اور بنو تمیم کے بارے میں وراد احادیث کا بیان
3 Hadith
22
ربیعہ اور مضر ے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
4 Hadith
23
بنو نجران، بنو تغلب، بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
2 Hadith
24
مضر قبیلے کی مذمت میں وارد شدہ احادیث
2 Hadith
25
مختلف مقامات کے فضائل کے ابواب باب اول: مکہ مکرمہ کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
26
باب دوم: مسجد حرام یعنی مکہ کی مسجد کا تذکرہ
3 Hadith
27
باب سوم: آب زمزم کی فضیلت
3 Hadith
28
باب چہارم: مکہ مکرمہ کے راستے میں واقع وادی سرر کا تذکرہ
1 Hadith
29
باب پنجم: مکہ کے قبرستان اور بیت اللہ کے بالمقابل واقع گھاٹی کا تذکرہ
1 Hadith
30
مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
17 Hadith
31
باب دوم: مدینہ اور اہل مدینہ کی خیرو برکت اور یہاں سے وباؤں کے ٹلنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعاؤں کا تذکرہ
10 Hadith
32
باب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
14 Hadith
33
باب چہارم: اس امر کا بیان کہ جو آدمی اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے ہلاک اور اپنی رحمت سے دور کر دے گا
6 Hadith
34
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو طاعون اور دجال کے دخول سے محفوظ رکھا ہے اور آخری زمانے تک یہاں اہل ایمان باقی رہیں گے
5 Hadith
35
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ سے محبت اور آپ کا اس کو طیبہ کا نام دینا اور اس کے یثرب کے نام کو ناپسند کرنا
5 Hadith
36
باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
7 Hadith
37
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
7 Hadith
38
فصل دوم: مسجد میں مشرک کے داخل ہونے کا حکم اس امر کا بیان کہ جس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ مسجد نبوی ہے، جو مدینہ منورہ میں واقع ہے
4 Hadith
39
فصل سوم: مسجد نبوی کے پلاٹ اور تعمیر کا بیان
3 Hadith
40
فصل چہارم: مسجد نبوی میں توسیع کرنے والوں کا بیان
2 Hadith
41
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
42
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر کی کیفیت اور اس امر کابیان کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا تھا
3 Hadith
43
تینوں مساجد یعنی مسجدحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے فضائل
3 Hadith
44
مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت اور مسجد فضیخ کا بیان
5 Hadith
45
باب نہم: بقیع، احد اور حجاز کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
46
مختلف شہروں اور مقامات و جہات کے فضائل باب اول: جزیرۂ عرب اور حجاز کے فضائل کا بیان
5 Hadith
47
باب دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان
12 Hadith
48
فصل دوم: دمشق اور غوطہ کی فضیلت
3 Hadith
49
فصل سوم: حمص، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
50
فصل چہارم: عسقلان کی فضیلت
1 Hadith
51
باب سوم: یمن اور اہل یمن اور اس کے بعض شہروں اور قبائل کی فضیلت اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر یمن کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
52
فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت
8 Hadith
53
فصل سوم: عمان، عدن اور وہاں کے باشندوں کی فضیلت
4 Hadith
54
فصل چہارم: یمن کے بعض قبائل کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
55
باب چہارم: طائف اورمکہ کے مابین واقع وادی وج کی فضیلت
1 Hadith
56
باب پنجم: اہل فارس اور خراسان کے نواح میں واقع مروشہر کے بارے میں وارد نصوص کا بیان
3 Hadith
57
باب ششم: مصر اور مغرب کی سمت کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
1 Hadith
58
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
59
فصل: صبح کے اوقات کی فضیلت
2 Hadith
60
باب دوم: مطلق طور پر راتوں کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
61
فصل: نصف شعبان کی رات فضیلت
2 Hadith
62
فصل: یوم عرفہ کی فضیلت
1 Hadith
63
خاتمہ: درختوں اور شجر کاری خصوصاً کھجور کی فضیلت
4 Hadith
64
فصل: کھجور اور عجوہ کی فضیلت
5 Hadith
65
نر کھجور کا بور مادہ کھجور پر ڈالنے کا بیان
1 Hadith
66
فصل: شجر کاری وغیرہ کی فضیلت
2 Hadith
No chapter matched that.