مسنداحمد

Musnad Ahmad

کتاب الفضائل

با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا

۔ (۱۲۴۹۴)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِینَ لِعَدُوِّہِمْ قَاہِرِینَ، لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ إِلَّا مَا أَصَابَہُمْ مِنْ لَأْوَائَ حَتَّییَأْتِیَہُمْ أَمْرُ اللّٰہِ وَہُمْ کَذٰلِکَ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَأَیْنَ ہُمْ؟ قَالَ: ((بِبَیْتِ الْمَقْدِسِ وَأَکْنَافِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۷۶)

سیدناابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ قیامت تک دین پر ثابت قدم اور دشمن پر غالب رہے گا، ان سے اختلاف کرنے والے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، سوائے اس کے کہ انہیں کچھ معاشی تنگدستی کا سامنا کرنا پڑے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے گا او روہ اسی حالت پر ہوں گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کہاں ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ بیت المقدس اور اس کے گرد و نواح میں ہوں گے۔

۔ (۱۲۴۹۵)۔ وَعَنْ مُعَاوِیْۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ یُرِدِ اللّٰہُ بِہِ خَیْرًایُفَقِّھْہُ فِی الدِّینِ، وَلَا تَزَالُ عِصَابَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَیُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِینَ عَلٰی مَنْ نَاوَأَہُمْ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۷۴)

سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطافرما دیتا ہے،مسلمانوں میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور وہ قیامت تک اپنے مخالفین پر غالب رہیں گے۔

۔ (۱۲۴۹۷)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ، أَنَّ عُمَیْرَ بْنَ ہَانِئٍ حَدَّثَہُ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ عَلٰی ہٰذَا الْمِنْبَرِیَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی قَائِمَۃً بِأَمْرِ اللّٰہِ لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَذَلَہُمْ أَوْ خَالَفَہُمْ حَتّٰییَأْتِیَ أَمْرُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَہُمْ ظَاہِرُونَ عَلَی النَّاسِ۔)) فَقَامَ مَالِکُ بْنُ یَخَامِرٍ السَّکْسَکِیُّ: فَقَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ یَقُولُ: وَہُمْ أَہْلُ الشَّامِ، فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: وَرَفَعَ صَوْتَہُ ہٰذَا مَالِکٌ یَزْعُمُ أَنَّہُ سَمِعَ مُعَاذًا یَقُولُ: وَہُمْ أَہْلُ الشَّامِ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۵۶)

عمیر بن ہانی سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا وہ اس منبر پر کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ قیامت تک اللہ کے حکم سے موجود رہے گا، ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے،بلکہ وہ لوگوںپر غالب رہیں گے۔ مالک بن یخامر سکسکی نے کہا: اے امیر المومنین! میں نے معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کہتے سنا ہے کہ اس حدیث کا مصداق اہل شام ہیں، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بلند آواز سے کہا: یہ مالک کہہ رہا ہے کہ اس نے سیدنا معا ذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا ہے کہ اس گروہ سے مراد اہل شام ہیں۔

۔ (۱۲۴۹۸)۔ عَنْ سَہْلٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَزَالُ الْأُمَّۃُ عَلَی الشَّرِیعَۃِ مَا لَمْ یَظْہَرْ فِیہَا ثَلَاثٌ، مَا لَمْ یُقْبَضِ الْعِلْمُ مِنْہُمْ، وَیَکْثُرْ فِیہِمْ وَلَدُ الْحِنْثِ، وَیَظْہَرْ فِیہِمُ الصَّقَّارُونَ۔)) قَالَ: وَمَا الصَّقَّارُونَ أَوْ الصَّقْلَاوُونَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((بَشَرٌ یَکُونُ فِی آخِرِ الزَّمَانِ تَحِیَّتُہُمْ بَیْنَہُمُ التَّلَاعُنُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۱۳)

سیدنا معاذ بن انس جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت شریعت پر ثابت قدم رہے گی، جب تک ان میں یہ تین باتیں ظاہر نہ ہو جائیں گی: (۱) علم کا اٹھ جانا، (۲) زنا کی یعنی حرامی اولاد کی کثرت ہو جانا اور صَقَّارُون کا ظاہر ہونا۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! صقارون سے کون لوگ مرادہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخر زمانہ میں ایسے لوگ آئیں گے، جو ملاقات کے وقت سلام کی بجائے ایک دوسرے کو گالیاں دیں گے۔

۔ (۱۲۴۹۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ عِنَبَۃَ الْخَوْلَانِیَّیَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((لَا یَزَالُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ یَغْرِسُ فِی ہٰذَا الدِّینِ بِغَرْسٍ یَسْتَعْمِلُہُمْ فِی طَاعَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۴۰)

سیدنا ابو عتبہ خولانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس دین میں ہمیشہ ایسے لوگ پیدا کرتا رہے گا، جن کو وہ اپنی اطاعت کے لیے استعمال کرے گا۔

۔ (۱۲۵۰۰)۔ عَنْ جَابِرٍ، أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِییُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِینَ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: ((فَیَنْزِلُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَیَقُولُ أَمِیرُہُمْ: تَعَالَ صَلِّ بِنَا، فَیَقُولُ: لَا، إِنَّ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ أَمِیرٌ لِیُکْرِمَ اللّٰہُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃَ۔))(مسند احمد: ۱۴۷۷۷)

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور وہ قیامت تک دوسروں پر غالب رہیں گے، یہاں تک کہ جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول ہو گا، تو اس گروہ کا امیر ان سے کہے گا: تشریف لائیں اور ہمیں نماز پڑھائیں، لیکن وہ جواباً کہیں گے:تم ہی ایک دوسرے پر امیر ہو (لہٰذا تم خود نماز پڑھاؤ)، یہ دراصل اللہ تعالیٰ اس امت کو عزت دے گا۔

۔ (۱۲۵۰۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَنْ یَزَالَ عَلٰی ہٰذَا الْأَمْرِ عِصَابَۃٌ عَلَی الْحَقِّ، لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ حَتّٰییَأْتِیَہُمْ أَمْرُ اللّٰہِ، وَہُمْ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۸۴۶۵)

سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا اور ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت بپا ہو جائے گی اور وہ اسی طرز عمل پر ہوں گے۔

۔ (۱۲۵۰۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَنْ یَزَالَ عَلٰی ہٰذَا الْأَمْرِ عِصَابَۃٌ عَلَی الْحَقِّ، لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ حَتّٰییَأْتِیَہُمْ أَمْرُ اللّٰہِ، وَہُمْ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۸۴۶۵)

سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ اپنے مخالفین پر ہمیشہ غالب رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر یعنی قیامت آجائے گی اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔