۔ (۱۲۴۹۴)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَا
تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِینَ لِعَدُوِّہِمْ قَاہِرِینَ، لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ إِلَّا مَا أَصَابَہُمْ مِنْ لَأْوَائَ حَتَّییَأْتِیَہُمْ أَمْرُ اللّٰہِ وَہُمْ کَذٰلِکَ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَأَیْنَ ہُمْ؟ قَالَ: ((بِبَیْتِ الْمَقْدِسِ وَأَکْنَافِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۷۶)
سیدناابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ قیامت تک دین پر ثابت قدم اور دشمن پر غالب رہے گا، ان سے اختلاف کرنے والے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، سوائے اس کے کہ انہیں کچھ معاشی تنگدستی کا سامنا کرنا پڑے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے گا او روہ اسی حالت پر ہوں گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ بیت المقدس اور اس کے گرد و نواح میں ہوں گے۔
Takhreej
(۱۲۴۹۴) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ دون قولہ: قالوا: یا رسول اللہ، واین ھم… وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ عمرو بن عبد اللہ السیبانی الحضرمی، اخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۶۴۳ (انظر: ۲۲۳۲۰)
12494
Sahih