TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا - با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا - کتاب الفضائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of کتاب الفضائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 66 · 9 Hadith
۔ (۱۲۴۹۴)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِینَ لِعَدُوِّہِمْ قَاہِرِینَ، لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ إِلَّا مَا أَصَابَہُمْ مِنْ لَأْوَائَ حَتَّییَأْتِیَہُمْ أَمْرُ اللّٰہِ وَہُمْ کَذٰلِکَ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَأَیْنَ ہُمْ؟ قَالَ: ((بِبَیْتِ الْمَقْدِسِ وَأَکْنَافِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۷۶)
سیدناابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ قیامت تک دین پر ثابت قدم اور دشمن پر غالب رہے گا، ان سے اختلاف کرنے والے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، سوائے اس کے کہ انہیں کچھ معاشی تنگدستی کا سامنا کرنا پڑے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے گا او روہ اسی حالت پر ہوں گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کہاں ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ بیت المقدس اور اس کے گرد و نواح میں ہوں گے۔
Takhreej
(۱۲۴۹۴) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ دون قولہ: قالوا: یا رسول اللہ، واین ھم… وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ عمرو بن عبد اللہ السیبانی الحضرمی، اخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۶۴۳ (انظر: ۲۲۳۲۰)
12494
Sahih
۔ (۱۲۴۹۵)۔ وَعَنْ مُعَاوِیْۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ یُرِدِ اللّٰہُ بِہِ خَیْرًایُفَقِّھْہُ فِی الدِّینِ، وَلَا تَزَالُ عِصَابَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَیُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِینَ عَلٰی مَنْ نَاوَأَہُمْ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۷۴)
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطافرما دیتا ہے،مسلمانوں میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور وہ قیامت تک اپنے مخالفین پر غالب رہیں گے۔
Takhreej
(۱۲۴۹۵) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۰۳۷(انظر: ۱۶۸۴۹)
12495
Sahih
۔ (۱۲۴۹۶)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ ذَکَرَ حَدِیثًا رَوَاہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، لَمْ أَسْمَعْہُ رَوٰی عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدِیثًا غَیْرَہُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ یُرِدِ اللّٰہُ بِہِ خَیْرًایُفَقِّھْہُ فِی الدِّینِ وَلَا تَزَالُ عِصَابَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَیُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِینَ عَلٰی مَنْ نَاوَأَہُمْ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۷۴)
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اہل شام میں بگاڑ آگیا تومسلمانوں میںکوئی خیر نہیں رہے گی میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ رہے گا، جنہیںاللہ کی نصرت حاصل رہے گی، ان کی مخالفت کرنے والے ان کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت بپا ہوجائے گی۔
Takhreej
(۱۲۴۹۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۱، ۳۱۱۶، ومسلم: ۱۰۳۷(انظر: ۱۶۸۴۹)
12496
Sahih
۔ (۱۲۴۹۷)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ، أَنَّ عُمَیْرَ بْنَ ہَانِئٍ حَدَّثَہُ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ عَلٰی ہٰذَا الْمِنْبَرِیَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی قَائِمَۃً بِأَمْرِ اللّٰہِ لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَذَلَہُمْ أَوْ خَالَفَہُمْ حَتّٰییَأْتِیَ أَمْرُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَہُمْ ظَاہِرُونَ عَلَی النَّاسِ۔)) فَقَامَ مَالِکُ بْنُ یَخَامِرٍ السَّکْسَکِیُّ: فَقَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ یَقُولُ: وَہُمْ أَہْلُ الشَّامِ، فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: وَرَفَعَ صَوْتَہُ ہٰذَا مَالِکٌ یَزْعُمُ أَنَّہُ سَمِعَ مُعَاذًا یَقُولُ: وَہُمْ أَہْلُ الشَّامِ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۵۶)
عمیر بن ہانی سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا وہ اس منبر پر کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ قیامت تک اللہ کے حکم سے موجود رہے گا، ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے،بلکہ وہ لوگوںپر غالب رہیں گے۔ مالک بن یخامر سکسکی نے کہا: اے امیر المومنین! میں نے معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کہتے سنا ہے کہ اس حدیث کا مصداق اہل شام ہیں، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بلند آواز سے کہا: یہ مالک کہہ رہا ہے کہ اس نے سیدنا معا ذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا ہے کہ اس گروہ سے مراد اہل شام ہیں۔
Takhreej
(۱۲۴۹۷) تخریج: انظر الحدیث السابق
12497
Sahih
۔ (۱۲۴۹۸)۔ عَنْ سَہْلٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَزَالُ الْأُمَّۃُ عَلَی الشَّرِیعَۃِ مَا لَمْ یَظْہَرْ فِیہَا ثَلَاثٌ، مَا لَمْ یُقْبَضِ الْعِلْمُ مِنْہُمْ، وَیَکْثُرْ فِیہِمْ وَلَدُ الْحِنْثِ، وَیَظْہَرْ فِیہِمُ الصَّقَّارُونَ۔)) قَالَ: وَمَا الصَّقَّارُونَ أَوْ الصَّقْلَاوُونَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((بَشَرٌ یَکُونُ فِی آخِرِ الزَّمَانِ تَحِیَّتُہُمْ بَیْنَہُمُ التَّلَاعُنُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۱۳)
سیدنا معاذ بن انس جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت شریعت پر ثابت قدم رہے گی، جب تک ان میں یہ تین باتیں ظاہر نہ ہو جائیں گی: (۱) علم کا اٹھ جانا، (۲) زنا کی یعنی حرامی اولاد کی کثرت ہو جانا اور صَقَّارُون کا ظاہر ہونا۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! صقارون سے کون لوگ مرادہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخر زمانہ میں ایسے لوگ آئیں گے، جو ملاقات کے وقت سلام کی بجائے ایک دوسرے کو گالیاں دیں گے۔
Takhreej
(۱۲۴۹۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، لضعف زبان بن فائد وسھل بن معاذ فی روایۃ زبان عنہ، اخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۴۳۹ (انظر: ۱۵۶۲۸)
12498
Zaeef
۔ (۱۲۴۹۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ عِنَبَۃَ الْخَوْلَانِیَّیَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((لَا یَزَالُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ یَغْرِسُ فِی ہٰذَا الدِّینِ بِغَرْسٍ یَسْتَعْمِلُہُمْ فِی طَاعَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۴۰)
سیدنا ابو عتبہ خولانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس دین میں ہمیشہ ایسے لوگ پیدا کرتا رہے گا، جن کو وہ اپنی اطاعت کے لیے استعمال کرے گا۔
Takhreej
(۱۲۴۹۹) تخریج: اسنادہ حسن، اخرجہ ابن ماجہ: ۸ (انظر:۱۷۷۸۷)
12499
Sahih
۔ (۱۲۵۰۰)۔ عَنْ جَابِرٍ، أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِییُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِینَ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: ((فَیَنْزِلُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَیَقُولُ أَمِیرُہُمْ: تَعَالَ صَلِّ بِنَا، فَیَقُولُ: لَا، إِنَّ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ أَمِیرٌ لِیُکْرِمَ اللّٰہُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃَ۔))(مسند احمد: ۱۴۷۷۷)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور وہ قیامت تک دوسروں پر غالب رہیں گے، یہاں تک کہ جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول ہو گا، تو اس گروہ کا امیر ان سے کہے گا: تشریف لائیں اور ہمیں نماز پڑھائیں، لیکن وہ جواباً کہیں گے:تم ہی ایک دوسرے پر امیر ہو (لہٰذا تم خود نماز پڑھاؤ)، یہ دراصل اللہ تعالیٰ اس امت کو عزت دے گا۔
Takhreej
(۱۲۵۰۰) تخریج: حدیث صحیح، اخرجہ ابویعلی: ۲۰۷۸ (انظر:۱۴۷۲۰)
12500
Sahih
۔ (۱۲۵۰۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَنْ یَزَالَ عَلٰی ہٰذَا الْأَمْرِ عِصَابَۃٌ عَلَی الْحَقِّ، لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ حَتّٰییَأْتِیَہُمْ أَمْرُ اللّٰہِ، وَہُمْ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۸۴۶۵)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا اور ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت بپا ہو جائے گی اور وہ اسی طرز عمل پر ہوں گے۔
Takhreej
(۱۲۵۰۱) تخریج: اسنادہ قوی، اخرجہ ابن ماجہ: ۷(انظر:۸۴۸۴)
12501
Sahih
۔ (۱۲۵۰۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَنْ یَزَالَ عَلٰی ہٰذَا الْأَمْرِ عِصَابَۃٌ عَلَی الْحَقِّ، لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ حَتّٰییَأْتِیَہُمْ أَمْرُ اللّٰہِ، وَہُمْ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۸۴۶۵)
سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ اپنے مخالفین پر ہمیشہ غالب رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر یعنی قیامت آجائے گی اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔
Takhreej
(۱۲۵۰۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، اخرجہ ابوداود: ۲۴۸۴(انظر: ۱۹۸۵۱)
Explanation
فوائد:… امام بخاری نے کہا: اس جماعت سے مراد اہل علم ہیں۔ امام احمد نے کہا: اِنْ لَّمْ یَکُوْنُوْا اَھْلَ الْحَدِیْثِ فَلَا اَدْرِیْ مَنْ ھُمْ۔ یعنی: اگر اس جماعت سے مراد اہل الحدیث (یعنی محدثین) نہیں ہیں، تو میں نہیں جانتا کہ کون مراد ہیں۔ قاضی عیاض نے کہا: اِنَّمَا اَرَادَ اَحْمَدُ اَہْلَ السُّنَّۃِ وَالْجَمَاعَۃِ وَمَنْ یَعْتَقِدُ مَذَہْبَ اَہْلِ الْحَدِیْثِ۔ یعنی: امام احمد کی مراد اہل السنہ والجماعہ ہیں اور وہ لوگ ہیں جو اہل الحدیث کے منہج کے پیروکار ہوں۔ امام نووی نے کہا: ممکن ہے کہ یہ طائفہ مومنوں کی متعدد جماعتوں پر مشتمل ہو، مثلا: بہادری والے، بصیرت والے، فقیہ، محدث، مفسر، آمر بالمعروف، ناہی عن المنکر، زاہد اور عابد۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ ایک علاقے میں جمع ہوں۔ (دیکھئے: فتح الباری: ۱۳/ ۳۶۳، ۳۶۵، عون المعبود: حدیث: ۲۴۸۴) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جو لوگ علم و عمل کی صورت میں قرآن و حدیث کی خدمت اور ان کا تحفظ کرتے رہے ، وہ اس خوشخبری کے مستحق ہیں۔ شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ لکھتے ہیں: عجیب حسنِ اتفاق ہے کہ اس حدیث ِ مبارکہ کا محل متعین کرتے ہوئے ہر دور اور زمانہ کے نیز ہر طبقہ کے محدثین کرام متفق نظر آتے ہیں۔ امام احمد بن حنبل، امام بخاری، امام علی بن مدینی، یزید بن ہارون اور متأخرین میں سے خطیب بغدادی وغیرہ، کوئی بھی اختلاف کرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ الفاظ اگرچہ مختلف ہیں، مگر مسمّی ایک ہی ہے۔ ایسا زبردست اتفاق شاید ہی کسی حدیث کی توضیح و تعبیر میں دیکھنے میں آیا ہو۔ بعض لوگ اس اختصاص پر چیں بجبیں ہوتے ہیں اور اہل حدیث کے تذکرہ سے سخت کبیدہ خاطر ہوتے ہیں، مگر انہیں دو باتیں ذہن نشین کر لینی چاہئیں۔ ایک یہ کہ حدیث و سنت کے ساتھ والہانہ شغف ، حدیث و سنت کے جملہ علوم کے ساتھ حد درجہ اعتنا و توجہ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت و اخلاق اور غزوات و سرایا نیز حدیث پڑھنے پڑھانے میں یہ محدثین سب لوگوں سے فائق ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ صدر اول کے بعد امت مرحومہ کئی فرقوں میں بٹ گئی، ہر مذہب والوں نے اپنے اصول و فروع مقرر کر لئے اور مسلک کی رو رعایت کرتے ہوئے مخصوص احادیث سے استدلال کرنے لگے اور دوسری طرف نگاہ اٹھانا ہی گوارہ نہ کیا۔ مگر قربان جائیے اہل حدیث پر، ان کے ماتھے کا جھومر اور مانگ کا سیندور ہمیشہ فرمودۂ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رہا ہے۔ انہوں نے فرمانِ رسول کو ہمیشہ سینے سے لگایا ہے، خواہ روایت کرنے والا شیعہ ہو یا قدریہ یا خارجی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والا ہے، حنفی اور مالکی وغیرہ ہونا تو دوسری بات ہے، بشرطیکہ وہ عادل مسلم اور ثقہ ہو۔ اہل حدیث کسی دھڑے بندی اور گروہی تعصب کا شکار نہیں ہوئے۔ حدیث ِ رسول ہی ان کا مطمح نظر رہا۔ فللہ درھم۔ ہم اپنی گفتگو کو حنفی سرخیل عالم مولانا محمد عبد الحئی لکھنوی کی بات پر ختم کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص بنظرِ انصاف دیکھے، فقہ و اصول کے سمندر میں تنگ نظری کے بغیر غوطہ خوری کرے تو اسے یقین کامل ہو جائے گا کہ اختلافی مسائل ، خواہ ان کا تعلق اصول سے ہو یا فروع سے، ان میںمحدثین کرام کا مؤقف محفوظ، قوی اور بادلائل ہے۔ میں نے جب اختلافی مسائل میں تحقیق و تدقیق سے کام لیا تو محدثین کی بات کو قرین انصاف پایا ہے۔ بھلا ایسا کیوں نہ ہو، وہ وارثانِ علوم نبوت اور نائبینِ شرعیت ِ محمدی ہیں۔ مولائے کریم ہمیں ان کی رفاقت کے شرفِ عظیم سے بہرہ ور فرمائیں اور ان کی محبت و کردار کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائیں۔ (ملخص از صحیحہ: ۲۷۰)
12502
Sahih

Chapters

66
01
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
20 Hadith
02
باب دوم: دیگر امتوں کے مقابلے میں اس امت کی تعداد اورمقدار کا بیان اور اس حقیقت کا بیان کہ جنت میں دو تہائی تعداد اس امت کے افراد کی ہوگی
7 Hadith
03
با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا
9 Hadith
04
باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے
5 Hadith
05
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ قیامت کے دن باقی امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کی امتیازی علامت یہ ہوگی کہ ان کے ہاتھ پائوں روشن ہوں گے
4 Hadith
06
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی امت کے حق میں دعاؤں کا بیان
7 Hadith
07
امت کے ابتدائی ادوار کی فضیلت پر مشتمل ابواب باب اول: اس دور کی فضیلت، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مبعوث ہوئے
2 Hadith
08
باب دوم: دور اول اور دورثانی کی فضیلت
4 Hadith
09
باب سوم: دور اول، دورِ دوم اور دورِ سوم کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
10
باب چہارم: دورِ اول، دورِ دوم، دورِ سوم، دورِ چہارم اور ایک روایت کے مطابق دورِ پنجم کی فضیلت کابیان
4 Hadith
11
عربوں کی مطلق فضیلت کا بیان
4 Hadith
12
قریش اور بعض دیگر عرب قبائل کے فضائل کا بیان باب اول: اس امر کابیان کہ قریش کی تکریم کی جائے اور ان کی اہانت اور ان کو برا بھلا کہنے سے احتراز کیاجائے
4 Hadith
13
باب دوم: اس امر کا بیان کہ قریش کی اقتداء کی جائے اور خلافت ان ہی کا استحقاق ہے
6 Hadith
14
باب سوم: قریش کے خصالٔص اور ان کے حق میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا کا بیان
9 Hadith
15
بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
2 Hadith
16
فصل دوم: قبیلہ ازد اور حمیر کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
17
فصل سوم: قبیلہ بنی ناجیہ، نخع اور غزہ کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
4 Hadith
18
باب پنجم: عرب کے بعض قبائل کی مدح اور مذمت میں وارد احادیث کا بیان
7 Hadith
19
بجیلہ، احمس، قیس اورناجیہ کے قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
20
بنو ثقیف اور دوس کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
21
بنوازد اور بنو تمیم کے بارے میں وراد احادیث کا بیان
3 Hadith
22
ربیعہ اور مضر ے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
4 Hadith
23
بنو نجران، بنو تغلب، بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
2 Hadith
24
مضر قبیلے کی مذمت میں وارد شدہ احادیث
2 Hadith
25
مختلف مقامات کے فضائل کے ابواب باب اول: مکہ مکرمہ کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
26
باب دوم: مسجد حرام یعنی مکہ کی مسجد کا تذکرہ
3 Hadith
27
باب سوم: آب زمزم کی فضیلت
3 Hadith
28
باب چہارم: مکہ مکرمہ کے راستے میں واقع وادی سرر کا تذکرہ
1 Hadith
29
باب پنجم: مکہ کے قبرستان اور بیت اللہ کے بالمقابل واقع گھاٹی کا تذکرہ
1 Hadith
30
مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
17 Hadith
31
باب دوم: مدینہ اور اہل مدینہ کی خیرو برکت اور یہاں سے وباؤں کے ٹلنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعاؤں کا تذکرہ
10 Hadith
32
باب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
14 Hadith
33
باب چہارم: اس امر کا بیان کہ جو آدمی اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے ہلاک اور اپنی رحمت سے دور کر دے گا
6 Hadith
34
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو طاعون اور دجال کے دخول سے محفوظ رکھا ہے اور آخری زمانے تک یہاں اہل ایمان باقی رہیں گے
5 Hadith
35
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ سے محبت اور آپ کا اس کو طیبہ کا نام دینا اور اس کے یثرب کے نام کو ناپسند کرنا
5 Hadith
36
باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
7 Hadith
37
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
7 Hadith
38
فصل دوم: مسجد میں مشرک کے داخل ہونے کا حکم اس امر کا بیان کہ جس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ مسجد نبوی ہے، جو مدینہ منورہ میں واقع ہے
4 Hadith
39
فصل سوم: مسجد نبوی کے پلاٹ اور تعمیر کا بیان
3 Hadith
40
فصل چہارم: مسجد نبوی میں توسیع کرنے والوں کا بیان
2 Hadith
41
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
42
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر کی کیفیت اور اس امر کابیان کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا تھا
3 Hadith
43
تینوں مساجد یعنی مسجدحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے فضائل
3 Hadith
44
مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت اور مسجد فضیخ کا بیان
5 Hadith
45
باب نہم: بقیع، احد اور حجاز کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
46
مختلف شہروں اور مقامات و جہات کے فضائل باب اول: جزیرۂ عرب اور حجاز کے فضائل کا بیان
5 Hadith
47
باب دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان
12 Hadith
48
فصل دوم: دمشق اور غوطہ کی فضیلت
3 Hadith
49
فصل سوم: حمص، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
50
فصل چہارم: عسقلان کی فضیلت
1 Hadith
51
باب سوم: یمن اور اہل یمن اور اس کے بعض شہروں اور قبائل کی فضیلت اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر یمن کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
52
فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت
8 Hadith
53
فصل سوم: عمان، عدن اور وہاں کے باشندوں کی فضیلت
4 Hadith
54
فصل چہارم: یمن کے بعض قبائل کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
55
باب چہارم: طائف اورمکہ کے مابین واقع وادی وج کی فضیلت
1 Hadith
56
باب پنجم: اہل فارس اور خراسان کے نواح میں واقع مروشہر کے بارے میں وارد نصوص کا بیان
3 Hadith
57
باب ششم: مصر اور مغرب کی سمت کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
1 Hadith
58
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
59
فصل: صبح کے اوقات کی فضیلت
2 Hadith
60
باب دوم: مطلق طور پر راتوں کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
61
فصل: نصف شعبان کی رات فضیلت
2 Hadith
62
فصل: یوم عرفہ کی فضیلت
1 Hadith
63
خاتمہ: درختوں اور شجر کاری خصوصاً کھجور کی فضیلت
4 Hadith
64
فصل: کھجور اور عجوہ کی فضیلت
5 Hadith
65
نر کھجور کا بور مادہ کھجور پر ڈالنے کا بیان
1 Hadith
66
فصل: شجر کاری وغیرہ کی فضیلت
2 Hadith
No chapter matched that.