مسنداحمد

Musnad Ahmad

کتاب الفضائل

باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے

۔ (۱۲۵۰۳)۔ عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَۃَ، قَالَ شُرَیْحُ بْنُ عُبَیْدٍ: مَرِضَ ثَوْبَانُ بِحِمْصَ وَعَلَیْہَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ قُرْطٍ الْأَزْدِیُّ فَلَمْ یَعُدْہُ، فَدَخَلَ عَلٰی ثَوْبَانَ رَجُلٌ مِنَ الْکَلَاعِیِّینَ عَائِدًا، فَقَالَ لَہُ ثَوْبَانُ: أَتَکْتُبُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: اکْتُبْ، فَکَتَبَ لِلْأَمِینِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قُرْطٍ مِنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَّا بَعْدُ! فَإِنَّہُ لَوْ کَانَ لِمُوسَی وَعِیسَی مَوْلًی بِحَضْرَتِکَ لَعُدْتَہُ ثُمَّ طَوَی الْکِتَابَ، وَقَالَ لَہُ: أَتُبَلِّغُہُ إِیَّاہُ، فَقَالَ: نَعَمْ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ بِکِتَابِہِ فَدَفَعَہُ إِلَی ابْنِ قُرْطٍ، فَلَمَّا قَرَأَہُ قَامَ فَزِعًا، فَقَالَ النَّاسُ: مَا شَأْنُہُ أَحَدَثَ أَمْرٌ؟ فَأَتٰی ثَوْبَانَ حَتّٰی دَخَلَ عَلَیْہِ فَعَادَہُ وَجَلَسَ عِنْدَہُ سَاعَۃً ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ ثَوْبَانُ بِرِدَائِہِ وَقَالَ: اجْلِسْ حَتّٰی أُحَدِّثَکَ حَدِیثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((لَیَدْخُلَنَّ الْجَنَّۃَ مِنْ أُمَّتِی سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَیْہِمْ وَلَا عَذَابَ مَعَ کُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۸۲)

شریح بن عبید سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حمص میں سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیمار پڑگئے، ان دنوں وہاں کا عامل عبداللہ بن قرط ازدی تھا، وہ ان کی عیادت کے لیے نہ آیا، جب بنو کلاع قبیلہ کا ایک آدمی سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عیادت کے لیے آیا تو انھوں نے اس سے کہا: کیا تم لکھنا جانتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: لکھو، پھر انہوں نے یہ تحریر لکھوائی: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے امیر عبداللہ بن قرط کے نام، امابعد! اگرتمہارے علاقہ میں موسی یا عیسیٰh کا کوئی خادم ہوتا تو تم ضرور اس کی بیمار پرسی کو جاتے۔ پھر انہوں نے خط لپیٹ کر کہا: کیا تم یہ خط عبداللہ تک پہنچادو گے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس جب اس آدمی نے جا کر وہ خط عبداللہ بن قرط کو دے دیا اور اس نے پڑھا تو وہ خوف زدہ سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا، لوگوں نے کہا: اسے کیا ہوا؟ کیا کوئی حادثہ پیش آگیا ہے؟ وہ ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں پہنچا، ان کی عیادت کی اور کچھ دیر ان کی خدمت میں بیٹھا رہا، اس کے بعد اٹھ کر جانے لگا تو سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کی چادر پکڑی اور کہا: بیٹھ جاؤ، میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں جائیں گے اور اس پر مستزاد یہ کہ ان میں سے ہر ہزار کے ساتھ ستر آدمی ہوں گے۔

۔ (۱۲۵۰۴)۔ وَعَنْ سَہْلٍ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ اُمَّتِیْ سَبْعُوْنَ اَلْفًا اَوْ قَالَ: سَبْعُمِائِۃِ اَلْفٍ بِغَیْرِ حِسَابٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۲۷)

سیدناسہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار یا فرمایا سات لاکھ آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔

۔ (۱۲۵۰۵)۔ حَدَّثَنَا حَسَنٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ، حَدَّثَنَا ابْنُ ہُبَیْرَۃَ، أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا تَمِیمٍ الْجَیْشَانِیَّیَقُولُ: أَخْبَرَنِی سَعِیدٌ، أَنَّہُ سَمِعَ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِیَقُولُ: غَابَ عَنَّا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا فَلَمْ یَخْرُجْ حَتّٰی ظَنَنَّا أَنَّہُ لَنْ یَخْرُجَ، فَلَمَّا خَرَجَ سَجَدَ سَجْدَۃً، فَظَنَنَّا أَنَّ نَفْسَہُ قَدْ قُبِضَتْ فِیہَا، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَہُ قَالَ: ((إِنَّ رَبِّی تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اسْتَشَارَنِی فِی أُمَّتِی، مَاذَا أَفْعَلُ بِہِمْ؟ فَقُلْتُ: مَا شِئْتَ أَیْ رَبِّ، ہُمْ خَلْقُکَ، وَعِبَادُکَ، فَاسْتَشَارَنِی الثَّانِیَۃَ، فَقُلْتُ لَہُ کَذٰلِکَ، فَقَالَ: لَا أُحْزِنُکَ فِی أُمَّتِکَ یَا مُحَمَّدُ، وَبَشَّرَنِی أَنَّ أَوَّلَ مَنْ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ أُمَّتِی سَبْعُونَ أَلْفًا مَعَ کُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا، لَیْسَ عَلَیْہِمْ حِسَابٌ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَیَّ فَقَالَ: ادْعُ تُجَبْ، وَسَلْ تُعْطَ، فَقُلْتُ لِرَسُولِہِ: أَوَمُعْطِیَّ رَبِّی سُؤْلِی؟ فَقَالَ: مَا أَرْسَلَنِی إِلَیْکَ إِلَّا لِیُعْطِیَکَ، وَلَقَدْ أَعْطَانِی رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ وَلَا فَخْرَ، وَغَفَرَ لِی مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِی وَمَا تَأَخَّرَ، وَأَنَا أَمْشِی حَیًّا صَحِیحًا، وَأَعْطَانِی أَنْ لَا تَجُوعَ أُمَّتِی وَلَا تُغْلَبَ، وَأَعْطَانِی الْکَوْثَرَ فَہُوَ نَہْرٌ مِنَ الْجَنَّۃِیَسِیلُ فِی حَوْضِی، وَأَعْطَانِی الْعِزَّ وَالنَّصْرَ وَالرُّعْبَ، یَسْعٰی بَیْنَیَدَیْ أُمَّتِی شَہْرًا، وَأَعْطَانِی أَنِّی أَوَّلُ الْأَنْبِیَائِ أَدْخُلُ الْجَنَّۃَ، وَطَیَّبَ لِی وَلِأُمَّتِی الْغَنِیمَۃَ، وَأَحَلَّ لَنَا کَثِیرًا مِمَّا شَدَّدَ عَلٰی مَنْ قَبْلَنَا، وَلَمْ یَجْعَلْ عَلَیْنَا مِنْ حَرَجٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۲۵)

سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہم سے پورا دن غائب رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف نہ لائے، ہم نے سمجھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اب باہر بالکل نہیں آئیں گے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لے آئے اور آتے ہی اس قدر طویل سجدہ کیا کہ ہم نے سمجھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی روح قبض کر لی گئی ہے، بالآخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا: میرے رب نے مجھ سے میری امت کے بارے میں مشورہ لیاہے کہ میں ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کروں؟ میں نے کہا: اے میرے رب! وہ تیری مخلوق اور بندے ہیں، تو ان کے ساتھ جو سلوک کرنا چاہے، کر سکتا ہے، اللہ نے دوبارہ مجھ سے مشورہ لیا، میں نے پھر اسی طرح کہا، پھر اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا: اے محمد! میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آپ کی امت کے بارے میں غمگین نہیں کروں گا اور اس نے مجھے بشارت دی کہ سب سے پہلے میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ان میں سے ہر ہزار افراد کے ساتھ ستر ہزار آدمی بغیر حساب و عذاب کے جنت میں جائیں گے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی کہ آپ کوئی دعا کریں، قبول ہوگی، کچھ مانگیں آپ کو دیا جائے گا، میں نے اللہ کے فرستادے یعنی فرشتے سے کہا: کیا میں جو سوال کروں گا، میرا رب مجھے ضرو ر دے گا؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا اسی لیے ہے کہ آپ جو سوال بھی کریں گے، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دے دے گا۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت کچھ دیا ہے اور میں اس پر فخر نہیں کرتا، اس نے میرے اگلے پیچھے گناہ معاف کر دئیے ہیں اور میں تندرست صحیح چلتا ہوں اور اس نے مجھے یہ خصوصیت بھی دی ہے کہ میری امت قحط سے نہیں مرے گی اور نہ دشمن اس پر غالب آئے گا اور اللہ نے مجھے کو ثر سے نوازا ہے، یہ ایک نہر ہے، جو جنت سے بہہ کر میرے حوض میں گرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت اور نصرت عطا فرمائی ہے اور میری امت کا رعب اس سے ایک مہینہ کی مسافت کے برابر آگے آگے چلتا ہے اور اللہ نے مجھے یہ فضیلت بھی دی ہے کہ انبیائے کرام میں سے میں سب سے پہلے جنت میں جاؤں گا اور اللہ تعالیٰ نے میرے لیے اور میری امت کے لیے غنیمت کو حلال ٹھہرا یا ہے اور ہم سے پہلے لوگوں پر جو سخت احکامات نازل ہوئے تھے ان میں سے بہت سے ہمارے لیے حلال کر دئیے اور ہم پر کوئی مشقت یا تنگی مقرر نہیں کی۔

۔ (۱۲۵۰۶)۔ عَنْ أَنَسٍ، أَوْ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَنِی أَنْ یُدْخِلَ الْجَنَّۃَ مِنْ أُمَّتِی أَرْبَعَ مِائَۃِ أَلْفٍ۔)) فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: زِدْنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَہٰکَذَا۔)) وَجَمَعَ کَفَّہُ قَالَ: زِدْنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((وَہٰکَذَا)) فَقَالَ عُمَرُ: حَسْبُکَ یَا أَبَا بَکْرٍ!، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: دَعْنِییَا عُمَرُ! مَا عَلَیْکَ أَنْ یُدْخِلَنَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّۃَ کُلَّنَا، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَائَ أَدْخَلَ خَلْقَہُ الْجَنَّۃَ بِکَفٍّ وَاحِدٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((صَدَقَ عُمَرُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۲۵)

سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے چار لاکھ آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہاـ: اے اللہ کے رسول! اس تعداد میں ہمارے لیے اضافہ کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی ہتھیلی کو جمع کر کے فرمایا: اور اس طرح۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس تعداد میں ہمارے لیے اضافہ کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور اس طرح۔ اتنے میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ابو بکر! تمہیں یہ کافی ہے، اب بس کرو، لیکن سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: عمر! تم مجھے چھوڑو، اور درخواست کر لینے دو، اگر اللہ تعالیٰ ہم سب کو جنت میںداخل کرے تو آپ کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ایک ہی ہتھیلی سے اپنی ساری مخلوق کو جنت میں داخل کر دے، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سچ کہا ہے۔

۔ (۱۲۵۰۷)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَکْثَرْنَا الْحَدِیثَ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ ثُمَّ غَدَوْنَا إِلَیْہِ، فَقَالَ: ((عُرِضَتْ عَلَیَّ الْأَنْبِیَائُ اللَّیْلَۃَ بِأُمَمِہَا، فَجَعَلَ النَّبِیُّیَمُرُّ وَمَعَہُ الثَّلَاثَۃُ، وَالنَّبِیُّ وَمَعَہُ الْعِصَابَۃُ، وَالنَّبِیُّ وَمَعَہُ النَّفَرُ، وَالنَّبِیُّ لَیْسَ مَعَہُ أَحَدٌ، حَتّٰی مَرَّ عَلَیَّ مُوسٰی مَعَہُ کَبْکَبَۃٌ مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ، فَأَعْجَبُونِی فَقُلْتُ: مَنْ ہٰؤُلَائِ؟ فَقِیلَ لِی: ہٰذَا أَخُوکَ مُوسٰی مَعَہُ بَنُو إِسْرَائِیلَ، قَالَ: قُلْتُ: فَأَیْنَ أُمَّتِی؟ فَقِیلَ لِیَ: انْظُرْ عَنْ یَمِینِکَ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا الظِّرَابُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوہِ الرِّجَالِ، ثُمَّ قِیلَ لِیَ: انْظُرْ عَنْ یَسَارِکَ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوہِ الرِّجَالِ، فَقِیلَ لِی: أَرَضِیتَ؟ فَقُلْتُ: رَضِیتُیَا رَبِّ، رَضِیتُیَا رَبِّ، قَالَ: فَقِیلَ لِی: إِنَّ مَعَ ہَؤُلَائِ سَبْعِینَ أَلْفًا یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : فِدًا لَکُمْ اَبِیْ وَاُمِّیْ ٔوَأُمِّی إِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَکُونُوا مِنَ السَّبْعِینَ الْأَلْفِ فَافْعَلُوا، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَکُونُوْا مِنْ أَہْلِ الظِّرَابِ، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَکُونُوا مِنْ أَہْلِ الْأُفُقِ، فَإِنِّی قَدْ رَأَیْتُ ثَمَّ نَاسًا یَتَہَاوَشُونَ۔)) فَقَامَ عُکَاشَۃُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ: ادْعُ اللّٰہَ لِییَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنْ یَجْعَلَنِی مِنَ السَّبْعِینَ، فَدَعَا لَہُ، فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: ادْعُ اللّٰہَیَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ، فَقَالَ: ((قَدْ سَبَقَکَ بِہَا عُکَاشَۃُ۔)) قَالَ: ثُمَّ تَحَدَّثْنَا فَقُلْنَا: مَنْ تَرَوْنَ ہٰؤُلَائِ السَّبْعُونَ الْأَلْفُ، قَوْمٌ وُلِدُوا فِی الْإِسْلَامِ لَمْ یُشْرِکُوا بِاللّٰہِ شَیْئًا حَتّٰی مَاتُوا، فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((ہُمْ الَّذِینَ لَا یَکْتَوُونَ، وَلَا یَسْتَرْقُونَ، وَلَا یَتَطَیَّرُونَ، وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُونَ۔)) (مسند احمد: ۳۸۰۶)

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ایک رات ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کا فی دیر تک باتیں کیں، پھر جب صبح کو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج رات تمام انبیاء اور ان کی امتیں میرے سامنے پیش کیے گئے، کسی نبی کے ساتھ تین آدمی تھے، کسی کے ساتھ چھوٹی سی جماعت، کسی کے ساتھ جھوٹا سا گروہ تھا اور کچھ نبی ایسے بھی تھے کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھی نہیں تھا، یہاں تک کہ میرے سامنے سے موسیٰ علیہ السلام گزرے اور ان کے ساتھ بنو اسرائیل کی ایک بڑی جماعت تھی، وہ لوگ مجھے بڑے اچھے لگے،میں نے پوچھا:یہ کون لو گ ہیں؟ مجھے بتلایا گیا کہ یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بھائی موسیٰ علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ ان کی قوم بنو اسرائیل ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے پوچھا کہ میری امت کہاںہے؟ مجھ سے کہا گیا کہ آپ اپنی دائیں جانب دیکھیں، میں نے دیکھاتو وہاں ایک بہت بڑا ہجوم ساتھا، جو لوگوں کے چہروں سے بھر ا ہوا تھا، پھر مجھے کہا گیا: اپنی بائیں جانب دیکھیں، میں نے دیکھا تو اس طرف والا افق لوگوں سے بھرا ہوا تھا، پھر مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اب راضی ہیں؟ میں نے کہا: جی میں راضی ہوں، اے میرے رب! میں راضی ہوں، اے میرے ربّ! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بعد مجھ سے کہا گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان امتیوں کے ساتھ ستر ہزار لوگ ایسے ہیں، جو حساب کے بغیر جنت میںجائیں گے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ماں باپ تم لوگوں پر فدا ہوں، اگر ہوسکے تو تم ان ستر ہزار میں سے بننے کی کوشش کرو اور اگر اس قدرمحنت نہ ہو سکے تو کم از کم اس ہجوم والوںمیں سے ہی بننے کی کوشش کرو اور اگر اتنا بھی نہ ہوسکے تو افق والوں میں سے بننے کی کوشش کرو، میں نے وہاں کچھ لوگوں کو دھکم پیل کرتے بھی دیکھا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھے اور انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ ان ستر ہزار والوں میں سے مجھے بھی بنا دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی، اتنے میں ان کے بعد ایک اور آدمی کھڑ اہوا اور اس نے بھی یہی درخواست کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عکاشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تم سے سبقت لے گیا۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پھر ہم باتوں میں مصروف ہوگئے اور ہم نے کہا کہ اس بارے میں کیا خیال ہے کہ یہ ستر ہزار آدمی کون ہوسکتے ہیں، کیا یہ وہ لوگ ہیںجو اسلام میں پیدا ہوئے اور پھر مرتے دم تک شرک کے قریب نہیں گئے؟ جب یہ باتیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں، جو نہ زخموں کو داغتے ہیں،نہ دم جھاڑ کرتے ہیں اور نہ بد فالی یا بد شگونی لیتے ہیں، بلکہ اپنے رب پر مکمل توکل کرتے ہیں۔