مسنداحمد

Musnad Ahmad

کتاب الفضائل

باب دوم: دور اول اور دورثانی کی فضیلت

۔ (۱۲۵۲۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قِیلَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ؟ قَالَ: ((أَنَا وَمَنْ مَعِی۔)) قَالَ: فَقِیلَ لَہُ: ثُمَّ مَنْ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((الَّذِی عَلَی الْأَثَرِ۔)) قِیلَ لَہُ: ثُمَّ مَنْ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: فَرَفَضَہُمْ۔ (مسند احمد: ۷۹۴۴)

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگوںمیں سب سے افضل کون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اور میرے ساتھ والے۔ پھر پوچھا گیا کہ ان کے بعد کون لوگ افضل ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان سے بعد والے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا گیا کہ ان کے بعد کون ہیں؟ تو آپ نے انس کو چھوڑ دیا (یعنی خاموش رہے)۔

۔ (۱۲۵۲۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیقٍ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ: ((خَیْرُکُمْ قَرْنِی ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ۔)) قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: لَا أَدْرِی ذَکَرَ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ((ثُمَّ خَلَفَ مِنْ بَعْدِہِمْ قَوْمٌ یُحِبُّونَ السَّمَانَۃَ،یَشْہَدُونَ وَلَا یُسْتَشْہَدُونَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۱۴)

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے میرا زمانہ سب سے بہتر ہے، پھراس کے بعد والا۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نہیںجانتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو بار اس چیز کا ذکر کیا یا تین بار، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بعد ایسے لوگ آئیں گے، جو موٹاپے کو پسند کریں گے اور بغیر گواہی طلب کیے وہ گواہیاں دیں گے۔

۔ (۱۲۵۲۳)۔ (وَعَنْہَااَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((خَیْرُ أُمَّتِی الْقَرْنُ الَّذِی بُعِثْتُ فِیہِمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ۔)) وَاللّٰہُ أَعْلَمُ أَقَالَ الثَّالِثَۃَ أَمْ لَا، ((ثُمَّ یَجِیئُ قَوْمٌ یُحِبُّونَ السَّمَانَۃَیَشْہَدُونَ قَبْلَ أَنْ یُسْتَشْہَدُوْا))۔ (مسند احمد: ۷۱۲۳)

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کا سب سے بہترین زمانہ وہ ہے، جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے،پھر اس کے بعدوالا زمانہ افضل ہو گا، پھر اس کے بعد والا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بعد تیسرے زمانے کا ذکر کیا یا نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بعد ایسے لوگ آجائیں گے، جو موٹاپے کو پسند کریں گے اور وہ گواہی دیں گے، جب کہ ان سے گواہی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔

۔ (۱۲۵۲۴)۔ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَوَلَۃَ قَالَ: بَیْنَمَا أَنَا أَسِیرُ بِالْأَہْوَازِ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ یَسِیرُ بَیْنَیَدَیَّ عَلٰی بَغْلٍ أَوْ بَغْلَۃٍ، فَإِذَا ہُوَ یَقُولُ: اللَّہُمَّ ذَہَبَ قَرْنِی مِنْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ فَأَلْحِقْنِی بِہِمْ، فَقُلْتُ: وَأَنَا فَأَدْخِلْ فِی دَعْوَتِکَ، قَالَ: وَصَاحِبِی ہٰذَا إِنْ أَرَادَ ذٰلِکَ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((خَیْرُ أُمَّتِی قَرْنِی مِنْہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ۔)) قَالَ: وَلَا أَدْرِی أَذَکَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا، ثُمَّ تَخْلُفُ أَقْوَامٌ یَظْہَرُ فِیہِمُ السِّمَنُ، یُہْرِیقُونَ الشَّہَادَۃَ وَلَا یَسْأَلُونَہَا۔)) قَالَ: وَإِذَا ہُوَ بُرَیْدَۃُ الْأَسْلَمِیُّ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۴۸)

عبد اللہ بن مولہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں اہوا ز میں چلا جارہا تھااور میرے آگے آگے ایک آدمی خچر پر سوار یوں کہتا جارہا تھا: یا اللہ اس امت میں میرا زمانہ پورا ہوگیا ہے، اب تو مجھے میرے ساتھیوں کے ساتھ ملا دے، میں نے ان کی بات سن کر کہا: اور میں بھی، مجھے بھی اپنی دعامیںشامل کرو، اس نے کہا: اے اللہ! میرا یہ ساتھی بھی میرے ساتھ ہو،اگر یہ بھی اس بات کا متمنی ہے تو، پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارشاد ہے: میری امت میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والوںکا۔ اب میں نہیں جانتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسرے زمانے کا ذکر کیا تھا یا نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بعدایسے لوگ آجائیں گے، جن میں موٹاپا عام ہوگا، ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی، مگر وہ گواہی دیں گے۔ یہ آدمی سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔