مسنداحمد

Musnad Ahmad

کتاب الفضائل

باب چہارم: دورِ اول، دورِ دوم، دورِ سوم، دورِ چہارم اور ایک روایت کے مطابق دورِ پنجم کی فضیلت کابیان

۔ (۱۲۵۲۹)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خَیْرُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ الْقَرْنُ الَّذِینَ بُعِثْتُ فِیہِمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، قَالَ حَسَنٌ: ثُمَّ یَنْشَأُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ أَیْمَانُہُمْ شَہَادَتَہُمْ وَشَہَادَتُہُمْ أَیْمَانَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۳۹)

سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس امت کا بہترین زمانہ اور بہترین لوگ وہ ہیں، جن کے اندر مجھے مبعوث کیا گیا، ان کے بعد وہ لوگ جو اِس زمانے کے بعد آئیں گے، ان کے بعد وہ لوگ جو اِن کے بعد آئیں گے، اِن کے بعد وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر ایسے لوگ آئیں گے، جن کی قسمیں ان کی گواہی پر اوران کی گواہی ان کی قسموں سے سبقت لے جائے گی۔

۔ (۱۲۵۳۰)۔ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَوَلَۃَ قَالَ: کُنْتُ أَسِیرُ مَعَ بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیِّ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((خَیْرُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ الْقَرْنُ الَّذِینَ بُعِثْتُ أَنَا فِیہِمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ یَکُونُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَہَادَتُہُمْ أَیْمَانَہُمْ وَأَیْمَانُہُمْ شَہَادَتَہُمْ۔)) وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّۃً: ((الْقَرْنُ الَّذِینَ بُعِثْتُ فِیہِمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۱۲)

عبداللہ بن مولہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ چل رہا تھا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اس امت کا بہترین دور وہ ہے، جس کے اندر مجھے مبعوث کیا گیا ہے، اس کے بعد صحابہ کا، اس کے بعد تابعین اور اسکے بعد تبع تابعین کادور ہے، ان کے بعد ایسے لوگ آجائیں گے کہ جن کی گواہی ان کی قسموں پر اور ان کی قسمیں ان کی گواہی سے سبقت لے جائے گی۔ عفان نے ایک مرتبہ روایت کو یوں بیان کیا: سب سے بہتر زمانہ وہ ہے، جس میں مجھے مبعوث کیا گیا، اس کے بعد صحابہ کا، اس کے بعد تابعین کا اس کے بعد تبع تابعین کا اور اس کے بعد بعدوالوں کا زمانہ ہے۔

۔ (۱۲۵۳۱)۔ وَعَنْ زَہْدَمٍ قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍیُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ خَیْرَکُمْ قَرْنِی، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، (قَالَ عِمْرَانُ: فَلَا أَدْرِی قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ قَرْنِہِ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃً؟) ثُمَّ یَکُونُ بَعْدَہُمْ قَوْمٌ یَشْہَدُونَ وَلَا یُسْتَشْہَدُونَ، وَیَخُونُونَ وَلَا یُؤْتَمَنُونَ، وَیَنْذُرُونَ وَلَا یُوفُونَ، وَیَظْہَرُ فِیہِمُ السِّمَنُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۴۸)

سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے میرا زمانہ سب سے بہتر ہے، اس کے بعد ان لوگوں کا زمانہ جو اس کے بعد آئیں گے، پھر ان کے بعد والے لوگوں کا اور پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ بہتر ہو گا، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے، جن سے گواہی طلب نہ کی جائے گی، مگر وہ پھر بھی گواہی دیں گے، وہ خیانتیں کریں گے، امانتوں کا پاس نہیں کریں گے، وہ نذر مانیں گے، مگر پوری نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا عام ہوگا۔ سیدنا عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: مجھے یہ یاد نہیں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے زمانے کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا۔

۔ (۱۲۵۳۲)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَا یَاْتِیْ عَلَیْکُمْ زَمَانٌ اِلَّا ھُوَ شَرٌّ مِنَ الزَّمَانِ الَّذِیْ قَبْلَہٗ،سَمِعْنَاذٰلِکَمِنْنَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۸۶)

سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: تم پر جو بھی زمانہ آئے گا، وہ گزرے ہوئے زمانہ سے بدتر ہوگا، ہم نے یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دومرتبہ سنی تھی۔