TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب دوم: اس امر کا بیان کہ قریش کی اقتداء کی جائے اور خلافت ان ہی کا استحقاق ہے - باب دوم: اس امر کا بیان کہ قریش کی اقتداء کی جائے اور خلافت ان ہی کا استحقاق ہے - کتاب الفضائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 13 of کتاب الفضائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 13 of 66 · 6 Hadith
۔ (۱۲۵۴۱)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ شَہْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((خُذُوا بِقَوْلِ قُرَیْشٍ وَدَعُوا فِعْلَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۷۵)
سیدناعامر بن شہر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے, رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم قریش کی بات کو سامنے رکھو اور ان کے اعمال کو نذر انداز کرو۔
Takhreej
(۱۲۵۴۱) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۸۲۸۶)
12541
Sahih
۔ (۱۲۵۴۲)۔ وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اسْتَقِیْمُوْا لِقُرَیْشٍ مَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۴۷)
مولائے رسول سیدناثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم قریش کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، جب تک وہ بھی تمہارے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہیں۔
Takhreej
(۱۲۵۴۲) تخریج: اسنادہ منقطع، سالم بی ابی الجعد لم یسمع من ثوبان، اخرجہ الطبرانی فی الصغیر : ۲۰۱ (انظر: ۲۲۳۸۸)
12542
Sahih
۔ (۱۲۵۴۳)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعَتْ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِی، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَیْشٍ، صَالِحُہُمْ تَبَعٌ لِصَالِحِہِمْ، وَشِرَارُہُمْ تَبَعٌ لِشِرَارِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۷۹۰)
سیدنا علی بن طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ بات میرے کانوں نے سنی اور میرے دل نے یاد کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ قریش کے پیرو کار ہیں، نیک لوگ قریش کے نیک لوگوں کی پیروی کرتے ہیں اور برے لوگ قریش کے برے لوگوں کے پیچھے چلتے ہیں۔
Takhreej
(۱۲۵۴۳) تخریج: صحیح لغیرہ، اخرجہ البزار: ۵۱۲ (انظر: ۷۹۰)
12543
Sahih
۔ (۱۲۵۴۴)۔ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ: سَمِعْتُ أَبِی،یَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَا یَزَالُ ہٰذَا الْأَمْرُ فِی قُرَیْشٍ، مَا بَقِیَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ۔)) قَالَ: وَحَرَّکَ إِصْبَعَیْہِیَلْوِیہِمَا ہٰکَذَا۔ (مسند احمد: ۴۸۳۲)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک دنیا میں دو آدمی باقی رہیں گے، یہ اقتدار ہمیشہ قریش میں رہے گا۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو حرکت دے کر دو کا اشارہ کیا۔
Takhreej
(۱۲۵۴۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۵۰۱، ۷۱۴۰، ومسلم: ۱۸۲۰(انظر: ۴۸۳۲)
12544
Sahih
۔ (۱۲۵۴۵)۔ عَنْ خُبَیْبِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أَبِی الْہُذَیْلِ، قَالَ: کَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ یَتَخَوَّلُنَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ: لَئِنْ لَمْ تَنْتَہِ قُرَیْشٌ لَیَضَعَنَّ اللّٰہُ ہٰذَا الْأَمْرَ فِی جُمْہُورٍ مِنْ جَمَاہِیرِ الْعَرَبِ سِوَاہُمْ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: کَذَبْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((قُرَیْشٌ وُلَاۃُ النَّاسِ فِی الْخَیْرِ وَالشَّرِّ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۶۱)
عبداللہ بن ہذیل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے، بکر بن وائل کے قبیلہ میں سے کسی نے کہا: اگر قریش اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو یہ اقتدار ان سے نکل کر عربوں کے دوسرے قبائل میں چلا جائے گا، یہ سن کر سیدنا عمر و بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم غلط کہتے ہو، میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ بھلائی کا کوئی کام ہو یا برائی کا، قیامت تک ہر کام میں قریش ہی لوگوں کے سربراہ رہیں گے۔
Takhreej
(۱۲۵۴۵) تخریج: اسنادہ صحیح، اخرجہ الترمذی: ۲۲۲۷ (انظر: ۱۷۸۰۸)
12545
Sahih
۔ (۱۲۵۴۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ لِی عَلٰی قُرَیْشٍ حَقًّا، وَإِنَّ لِقُرَیْشٍ عَلَیْکُمْ حَقًّا، مَا حَکَمُوا فَعَدَلُوا، وَأْتُمِنُوا فَأَدَّوْا، وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا۔)) (مسند احمد: ۷۶۴۰)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے کچھ حقوق قریش کے ذـمہ ہیں اور قریش کے لیے کچھ حقوق تمہارے ذمے ہیں، جب تک وہ عدل و انصاف سے فیصلے کرتے رہیں، جب ان کے پاس امانتیں رکھی جائیں تو وہ امانتیں ادا کرتے رہیں اور جب ان سے رحم کا مطالبہ کیا جائے تو وہ شفقت کرتے رہیں۔
Takhreej
(۱۲۵۴۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، اخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۳۰۱۲، وعبدالرزاق: ۱۹۹۰۲(انظر: ۷۶۵۳)
Explanation
فوائد:… امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ لکھتے ہیں: اس قسم کی احادیث میں بعض ایسے قدیم گمراہ فرقوں، بعض مولفین اور بعض جدید احزابِ اسلامیہ کا ردّکیا گیا ہے، جو خلیفہ میں عربی اور قریشی ہونے کی شرط نہیں لگاتے۔ بڑی عجیب بات ہے کہ سلفیت کے دعویدار ایک شیخ نے (الدولۃ الاسلامیۃ) کے نام سے ایک رسالہ لکھا، اس کے شروع میں خلیفہ کی تمام شروط لکھیں، ماسوائے اس شرط کے کہ وہ قریشی ہونا چاہیے، ظاہر بات تو یہی ہے کہ یہ احادیث اس کے علم میں نہ ہوں گی۔ جب میںنے ان کے سامنے ان احادیث کا ذکر کیا تو وہ مسکرانے لگے، لیکن اس موضوع پر نظر ثانی کرنے پر آمادگی کا اظہار نہ کیا، … …۔ بہرحال ہر مؤلف کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر مضمون لکھتے وقت حق کا خیال رکھے اور حزبی اور سیاسی جانبداری کو ترجیح نہ دے اور جمہور کی موافقت یا مخالفت کا خیال نہ رکھے۔ واللہ ولی التوفیق۔ (صحیحہ: ۱۰۰۷) دورِ جاہلیت میں قریش کو جو شرف حاصل رہا، ان کے مسلمان ہونے کے بعد اسلام نے اس کو برقرار رکھا اور اسے عربوں کے بقیہ قبائل پر امامت و امارت میں مقدم قرار دیا۔ امام نووی نے کہا: اِن اور اس موضوع سے متعلقہ دیگر احادیث میں واضح دلالت موجود ہے کہ خلافت قریش کے ساتھ مختص ہے، کسی دوسرے کو یہ منصب دینا ناجائز ہے، صحابہ کے عہد اور ان کے بعد والے زمانے میں اسی بات پر اجماع منعقد ہوا۔ اگر اہل بدعت نے مخالفت کی ہے تو ان کا ردّ کرنے کے لیے صحابہ کا اتفاق ہی کافی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ وضاحت کر دی ہے کہ آخر زمانہ تک خلافت کا یہی حکم جاری رہے گا اور ابھی تک ایسے ہی ہوا۔ لیکن ملا علی قاری نے کہا: اشکال یہ ہے کہ اکثر علاقوں میں دو سو (۲۰۰) برسوں تک غیر قریشی حکمران رہے۔ تین جوابات دیے جا سکتے ہیں: احادیث میں مذکورہ خبر کو امر کے معنی میں لیا جائے یا پھر خبر کو درج ذیل حدیث کے ساتھ مقید کیا جائے: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ (خلافت والا) معاملہ قریش میں رہے گا، جب تک یہ دین (کے احکام) کو قائم رکھیں گے، مخالفت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ ذلیل کر دے گا۔ (بخاری) جب قریشی خلفاء نے دین کی حرمتوں کو پامال کیا تو وہ خلافت سے محروم ہو گئے۔ اس لیے احادیث میں مذکورہ خبر کو امر کے معنی میں لیا جائے گا، یا پھر ناس سے مراد عرب لوگ ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۱۰/ ۳۳۴) سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ((اَلنَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَیْشٍ فِيْ ھٰذَا الشَّاْنِ، مُسْلِمُھُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِھِمْ، وَکَافِرُھُمْ تَبَعٌ لِکَافِرِھِمْ۔)) … لوگ اس (خلافت کے) معاملے میں قریشیوں کے تابع ہیں، مسلمان لوگ قریشی مسلمانوں کے تابع ہوں گے اور کافر لوگ قریشی کافروں کے تابع ہوں گے۔ (صحیح بخاری: ۶/ ۴۱۳، صحیح مسلم: ۶/ ۲) قریش ہمیشہ متبوع اور دوسرے ان کے تابع رہے، جب یہ کافر تھے تو لوگ کفر میں ان کے پیروکار تھے، جیسا کہ عام عرب لوگوں کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں خیال تھا کہ دیکھتے ہیں کہ ان کی قوم قریش کیا کرتی ہے، جب وہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے تو عرب قبائل نے ان کی پیروی کرتے ہوئے جماعتوں کی شکل میں اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔
12546
Sahih

Chapters

66
01
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
20 Hadith
02
باب دوم: دیگر امتوں کے مقابلے میں اس امت کی تعداد اورمقدار کا بیان اور اس حقیقت کا بیان کہ جنت میں دو تہائی تعداد اس امت کے افراد کی ہوگی
7 Hadith
03
با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا
9 Hadith
04
باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے
5 Hadith
05
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ قیامت کے دن باقی امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کی امتیازی علامت یہ ہوگی کہ ان کے ہاتھ پائوں روشن ہوں گے
4 Hadith
06
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی امت کے حق میں دعاؤں کا بیان
7 Hadith
07
امت کے ابتدائی ادوار کی فضیلت پر مشتمل ابواب باب اول: اس دور کی فضیلت، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مبعوث ہوئے
2 Hadith
08
باب دوم: دور اول اور دورثانی کی فضیلت
4 Hadith
09
باب سوم: دور اول، دورِ دوم اور دورِ سوم کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
10
باب چہارم: دورِ اول، دورِ دوم، دورِ سوم، دورِ چہارم اور ایک روایت کے مطابق دورِ پنجم کی فضیلت کابیان
4 Hadith
11
عربوں کی مطلق فضیلت کا بیان
4 Hadith
12
قریش اور بعض دیگر عرب قبائل کے فضائل کا بیان باب اول: اس امر کابیان کہ قریش کی تکریم کی جائے اور ان کی اہانت اور ان کو برا بھلا کہنے سے احتراز کیاجائے
4 Hadith
13
باب دوم: اس امر کا بیان کہ قریش کی اقتداء کی جائے اور خلافت ان ہی کا استحقاق ہے
6 Hadith
14
باب سوم: قریش کے خصالٔص اور ان کے حق میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا کا بیان
9 Hadith
15
بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
2 Hadith
16
فصل دوم: قبیلہ ازد اور حمیر کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
17
فصل سوم: قبیلہ بنی ناجیہ، نخع اور غزہ کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
4 Hadith
18
باب پنجم: عرب کے بعض قبائل کی مدح اور مذمت میں وارد احادیث کا بیان
7 Hadith
19
بجیلہ، احمس، قیس اورناجیہ کے قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
20
بنو ثقیف اور دوس کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
21
بنوازد اور بنو تمیم کے بارے میں وراد احادیث کا بیان
3 Hadith
22
ربیعہ اور مضر ے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
4 Hadith
23
بنو نجران، بنو تغلب، بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
2 Hadith
24
مضر قبیلے کی مذمت میں وارد شدہ احادیث
2 Hadith
25
مختلف مقامات کے فضائل کے ابواب باب اول: مکہ مکرمہ کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
26
باب دوم: مسجد حرام یعنی مکہ کی مسجد کا تذکرہ
3 Hadith
27
باب سوم: آب زمزم کی فضیلت
3 Hadith
28
باب چہارم: مکہ مکرمہ کے راستے میں واقع وادی سرر کا تذکرہ
1 Hadith
29
باب پنجم: مکہ کے قبرستان اور بیت اللہ کے بالمقابل واقع گھاٹی کا تذکرہ
1 Hadith
30
مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
17 Hadith
31
باب دوم: مدینہ اور اہل مدینہ کی خیرو برکت اور یہاں سے وباؤں کے ٹلنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعاؤں کا تذکرہ
10 Hadith
32
باب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
14 Hadith
33
باب چہارم: اس امر کا بیان کہ جو آدمی اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے ہلاک اور اپنی رحمت سے دور کر دے گا
6 Hadith
34
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو طاعون اور دجال کے دخول سے محفوظ رکھا ہے اور آخری زمانے تک یہاں اہل ایمان باقی رہیں گے
5 Hadith
35
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ سے محبت اور آپ کا اس کو طیبہ کا نام دینا اور اس کے یثرب کے نام کو ناپسند کرنا
5 Hadith
36
باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
7 Hadith
37
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
7 Hadith
38
فصل دوم: مسجد میں مشرک کے داخل ہونے کا حکم اس امر کا بیان کہ جس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ مسجد نبوی ہے، جو مدینہ منورہ میں واقع ہے
4 Hadith
39
فصل سوم: مسجد نبوی کے پلاٹ اور تعمیر کا بیان
3 Hadith
40
فصل چہارم: مسجد نبوی میں توسیع کرنے والوں کا بیان
2 Hadith
41
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
42
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر کی کیفیت اور اس امر کابیان کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا تھا
3 Hadith
43
تینوں مساجد یعنی مسجدحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے فضائل
3 Hadith
44
مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت اور مسجد فضیخ کا بیان
5 Hadith
45
باب نہم: بقیع، احد اور حجاز کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
46
مختلف شہروں اور مقامات و جہات کے فضائل باب اول: جزیرۂ عرب اور حجاز کے فضائل کا بیان
5 Hadith
47
باب دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان
12 Hadith
48
فصل دوم: دمشق اور غوطہ کی فضیلت
3 Hadith
49
فصل سوم: حمص، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
50
فصل چہارم: عسقلان کی فضیلت
1 Hadith
51
باب سوم: یمن اور اہل یمن اور اس کے بعض شہروں اور قبائل کی فضیلت اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر یمن کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
52
فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت
8 Hadith
53
فصل سوم: عمان، عدن اور وہاں کے باشندوں کی فضیلت
4 Hadith
54
فصل چہارم: یمن کے بعض قبائل کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
55
باب چہارم: طائف اورمکہ کے مابین واقع وادی وج کی فضیلت
1 Hadith
56
باب پنجم: اہل فارس اور خراسان کے نواح میں واقع مروشہر کے بارے میں وارد نصوص کا بیان
3 Hadith
57
باب ششم: مصر اور مغرب کی سمت کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
1 Hadith
58
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
59
فصل: صبح کے اوقات کی فضیلت
2 Hadith
60
باب دوم: مطلق طور پر راتوں کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
61
فصل: نصف شعبان کی رات فضیلت
2 Hadith
62
فصل: یوم عرفہ کی فضیلت
1 Hadith
63
خاتمہ: درختوں اور شجر کاری خصوصاً کھجور کی فضیلت
4 Hadith
64
فصل: کھجور اور عجوہ کی فضیلت
5 Hadith
65
نر کھجور کا بور مادہ کھجور پر ڈالنے کا بیان
1 Hadith
66
فصل: شجر کاری وغیرہ کی فضیلت
2 Hadith
No chapter matched that.