سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مٹی دم کی جڑ کے آخری حصے کے علاوہ انسان کے پورے جسم کو کھا جاتی ہے۔ کسی نے کہا: اس کی مقدار کیا ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رائی کے دانے کے برابر، تم اسی سے دوبارہ اگو گے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور مجھے اس پر فخر نہیں ہے، قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر سے زمین پھٹے گی اورمجھے اس پر بھی فخر نہیں ہے اور قیامت کے دن میں ہی سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں گا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب لوگوں کو قبروں سے اٹھایا جائے گا تو آسمان ان پر ہلکی ہلکی بارش برسا رہا ہوگا۔
سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میںنے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کبھی ایسی بے آباد وادی سے گزرے ہو کہ وہاں سے جب دوبارہ گزرے ہو تو وہ سر سبز ہوچکی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسی طرح مردوں کو زندہ کرے گا۔
۔ (دوسری سند) اسی طرح ہی ہے، البتہ اس میں ہے: اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا اور یہ مخلوق میں اس کی نشانی ہے۔
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں تین طرح سے اٹھایا جائے گا، بعض لوگ سوار ہوں گے، بعض پیدل چلنے والے ہوں گے اور بعض چہروں کے بل چلتے ہوں گے، تم قیامت کے دن ستر کے عدد کو پورا کرو گے، جبکہ تم آخری امت ہو اور تم اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ معزز ہو، تمہارے چہروں پرمہریں لگی ہوں گی، سب سے پہلے تمہاری رانیں بولیں گی۔ ابن ابی بکیر نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارضِ شام کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: تمہیں وہاں اکٹھا کیا جائے گا۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کو چہروں کے بل کیسے چلایا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس ذات نے انہیں پاؤں کے بل چلنے کی طاقت دی ہے، وہ انہیں چہروں کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کے دن لوگوں کو اٹھایا جائے گا تو میں اور میری امت ایک بلند ٹیلے پر ہوں گے، میرا ربّ مجھے سبز رنگ کا لباس پہنائے گا، پھرمجھے اجازت دی جائے گی اور جیسے اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا، میں اس کی تعریف کروں گا، یہی مقامِ محمودہوگا۔