سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کو تین حالتوں میں اٹھایا جائے گا، بعض لوگ پیدل ہوں گے، بعض سوار ہوں گے اور بعض چہروں کے بل چل رہے ہوں گے۔ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ اپنے چہروں کے بل کیسے چلیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس ہستی نے ان کو ٹانگوں کے بل چلنے کی طاقت دی ہے، وہ انہیں چہروں کے بل چلانے پر بھی قادر ہے، خبردار! وہ اپنے چہروں کے ذریعے بلند اورسخت جگہ اور کانٹوں سے بچنے کی کوشش بھی کر یںگے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان وعظ و نصیحت کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیںاللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ تم ننگے پاؤں ، برہنہ جسم اور غیر مختون ہوگے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {کَمَا بَدَاْنَا اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہُ وَعْدًا عَلَیْنَا اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ} (سورۂ انبیائ: ۱۰۴) (جس طرح ہم نے تخلیق کی ابتداء کی تھی، اسی طرح ہم پھر اس کا اعادہ کریں گے، یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے، بیشک ہم اسے پورا کرنے والے ہیں۔) مخلوقات میں سب سے پہلے خلیل الرحمن ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا، پھر تم میں سے ایک گروہ کو بائیں طرف لے جایا جائے گا۔ ابن جعفر کے الفاظ یوں ہیں: میری امت کے کچھ لوگوں کو لا کر بائیں طرف کر دیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میری امت کے لوگ ہیں، تو مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعات جاری کیں، آپ کے جانے کے بعد یہ لوگ اپنی ایڑیوں پر واپس پلٹ جاتے رہے، تو میں بھی اسی طرح کہوں گا جیسے اللہ تعالیٰ کے نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام ) نے کہا:{وَ کُنْتُ عَلَیْھِم شَھِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْھِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ وَ اَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْدٌ۔ اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔} (سورۂ مائدہ: ۱۱۷،۱۱۸) (میں ان پر نگران تھا، جب تک میں ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھالیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر نگران ہے، اگر تو انہیں عذاب دے تو بے شک وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی غالب ہے، بڑی حکمت والا ہے)۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں قیامت کے دن ننگے پاؤں ، برہنہ جسم اور غیر مختون اٹھایا جائے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس طرح تو مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اس وقت معاملہ اتنا سنگین ہو گا کہ ان کو یہ خیال ہی نہیں آئے گا۔
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! شرمگاہوں کا کیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً یہ آیت تلاوت فرمائی: {لِکُلِّ امْرِیٍٔ مِّنْہُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ} (اس دن ان میں سے ہر شخص کا حال ایسا ہوگا جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گا۔) (سورۂ عبس:۳۷)۔