مسنداحمد

Musnad Ahmad

قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان

قیامت کے دن کی ہولناکی اور سورج کے لوگوں کے سروں کے قریب ہو جانے کا بیان

۔ (۱۳۰۸۰)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قِیْلَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَوْمًا کَانَ مِقْدَارُہُ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ مَا اَطْوَلَ ہٰذَا الْیَوْمَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ! اِنَّہُ لَیُخَفَّفُ عَلٰی الْمُوْمِنِ حَتّٰییَکُوْنَ اَخَفَّ عَلَیْہِ مِنْ صَلَاۃٍ مَکْتُوْبَۃٍیُصَلِّیْہَا فِی الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۴۰)

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کسی نے کہا: قیامت کا دن، جو پچاس ہزار برس کے برابر ہوگا،وہ کس قدر طویل دن ہوگا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ دن مومن کے لیے اس قدر مختصر ہوگا کہ جتنی دیر میں دنیا میںایک فرضی نماز ادا کرتا ہے، اس وقت سے بھی کم محسوس ہو گا۔

۔ (۱۳۰۸۱)۔ وَعَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَدْنُوْ الشَّمْسُ مِنَ الْاَرْضِ فَیَعْرَقُ النَّاسُ، فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّبْلُغُ عَرَقُہُ عَقِبَیْہِ وَمِنْہُمْ مَنْ یَّبْلُغُ اِلٰی نِصْفِ السَّاقِ وَمِنْہُمْ مَنْ یَّبْلُغُ اِلٰی رُکْبَتَیْہِ وَمِنْہُمْ مَنْ یَّبْلُغُ الْعَجُزَ وَمِنْہُمْ مَنْ یَّبْلُغُ الْخَاصِرَۃَ وَمِنْہُمْ مَنْ یَّبْلُغُ مَنْکِبَیْہِ وَمِنْہُمْ مَنْ یَّبْلُغُ عُنُقَہُ وَمِنْہُمْ مَنْ یَّبْلُغُ وَسْطَ فِیْہِ وَاَشَارَ بِیَدِہِ فَاَلْجَمَہَا فَاہُ۔)) رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُشِیْرُ ہٰکَذَا ((وَمِنْہُمْ مَنْ یُّغَطِّیْہِ عَرَقُہُ۔)) وَضَرَبَ بِیَدِہِ اِشَارَۃً۔ (مسند احمد: ۱۷۵۷۶)

سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سورج زمین کے بہت قریب آجائے گا، اس وجہ سے لوگ پسینے میں شرابور ہوںگے، بعض لوگوں کا پسینہ ایڑیوں تک، بعض نصف پنڈلی تک، بعض کا گھٹنوں تک اور بعض کا دبر تک ، بعض کا کوکھ تک، بعض کا کندھوں تک ، بعض کا گردن تک اور بعض کا منہ تک پہنچ جائے گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے منہ تک کی کیفیت بیان کی اور بعض لوگوں کا پسینہ تو ان کو ڈھانپ لے گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔

۔ (۱۳۰۸۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَدْنُو الشَّمْسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی قَدْرِ مِیْلٍ وَزَادَ فِیْ حَرِّھَا کَذَا وَکَذَا، یَغْلِیْ مِنْہَا الْھَوَامُّ کَمَا یَغْلِی الْقُدُوْرَ یَعْرَقُوْنَ فِیْہَا عَلٰی قَدْرِ خَطَایَاھُمْ، مِنْہُمْ مَنْ یَّبْلُغُ اِلٰی کَعْبَیْہِ، وَمِنْہُمْ مَنْ یَّبْلُغَ اِلٰی سَاقَیْہِ، وَمِنْہُمْ مَنْ یَبْلُغَ اِلٰی وَسَطِہِ، وَمِنْہُمْ مَن یُلْجِمُہُ الْعَرَقُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۳۹)

سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سورج ایک نیزے کے بقدر قریب آجائے گا اور اس کی حرارت بھی کئی گناہ بڑھ جائے گی، اس کی حرارت کی وجہ سے دماغ یوں کھولیں گے، جیسے ہنڈیا ابلتی ہیں، لوگ اپنے اپنے گناہوں کے حساب سے پسینے میں شرابور ہوں گے، بعض لوگوں کا پسینہ ٹخنوں تک ، بعض کا پنڈلیوں تک، بعض کا کمر تک اور بعض کا منہ تک پہنچ جائے گا۔

۔ (۱۳۰۸۳)۔ وَعَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْاَسْوَدِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ اُدْنِیَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْعِبَادِ حَتّٰی تَکُوْنَ قَدْرَ مِیْلٍ اَوْ مِیْلَیْنِ قَالَ: فَتَصْہَرُھُمُ الشَّمْسُ، فَیَکُوْنُوْنَ فِی الْعَرَقِ کَقَدْرِ اَعْمَالِھِمْ ،مِنْہُمْ مَنْ یَّاْخُذُہُ اِلٰی عَقِبَیْہِ، وَمِنْہُمْ مَنْ یَّاْخُذُہُ اِلٰی حَقْوَیْہِ، وَمِنْہُمْ مَنْ یُّلْجِمُہُ اَلْجَامًا۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۱۴)

سیدنا مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو سورج انسانوں کے اتنا قریب ہو جائے گا کہ وہ ایک یا دومیل کے فاصلے پر ہو گا، سورج ان کو جھلسے گا اور لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں شرابور ہوں گے، بعض کا ایڑیوں تک اور بعض کا کمر تک ہو گا اور بعض کا منہ تک پہنچ جائے گا۔

۔ (۱۳۰۸۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْعَرَقَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَیَذْھَبُ فِی الْاَرْضِ سَبْعِیْنَ بَاعًا، وَاِنَّہُ لَیَبْلُغُ اِلٰی اَفْوَاہِ النَّاسِ اَوْ اِلٰی آذَانِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۹۴۱۶)

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن پسینہ زمین پر ستر ہاتھ تک پھیل جائے گا اور وہ لوگوں کے مونہوں یا گردنوں تک پہنچ جائے گا۔

۔ (۱۳۰۸۵)۔ وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ لِعَظَمَۃِ الرَّحْمٰنِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰییَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی اِنَّ الْعَرَقَ لَیُلْجِمُ الرِّجَالَ اِلٰی اَنْصَافِ آذَانِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۴۸۶۲)

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن رحمان کی تعظیم کے لیے لوگ ربّ العالمین کے لیے کھڑے ہوں گے، یہاں تک کہ پسینہ ان کے نصف کانوں تک پہنچا ہوا ہو گا۔