۔ (۱۳۰۹۱)۔ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: اِجْتَمَعَ اَبُوْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ وَکَعْبٌ، فَجَعَلَ اَبُوْھُرَیْرَۃَیَحَدِّثُ کَعْبًا عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَکَعْبٌ یُحَدِّثُ اَبَاھُرَیْرَۃَ عَنِ الْکُتُبِ، قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ: قَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((لِکُلِّ نَبِیٍّ دَعْوَۃٌ مُسْتَجَابَۃٌ وَاِنِّیْ اخْتَبَاْتُ دَعْوَتِیْ شَفَاعَۃً لِاُمَّتِیْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۷۷۰۰)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدناکعب رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا کعب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث بیان کرنے لگے اور وہ اِن کو سابقہ کتب کی باتیں سنانے لگے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہوتی ہے اور میں نے اس دعا کو چھپا رکھا ہے، تاکہ قیامت کے دن اپنی امت کے لیے سفارش کر سکوں۔
Takhreej
(۱۳۰۹۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۴۷۴، ومسلم: ۱۹۸، ۳۳۶، ۳۳۷(انظر: )
Explanation
فوائد:… یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کمال صبر، دور رسی اور حکمت ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو یہ اختیار دیا کہ اس کو اپنی مرضی کے مطابق اللہ تعالیٰ سے ایک دعا قبول کروا لینے کا حق حاصل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ حق بروز قیامت استعمال کریں گے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا مصداق بنا دے۔
13091
Sahih