TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان قیامت کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کاحریص ہونا - قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان قیامت کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کاحریص ہونا - قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 7 of قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 30 · 7 Hadith
۔ (۱۳۰۹۱)۔ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: اِجْتَمَعَ اَبُوْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَکَعْبٌ، فَجَعَلَ اَبُوْھُرَیْرَۃَیَحَدِّثُ کَعْبًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَعْبٌ یُحَدِّثُ اَبَاھُرَیْرَۃَ عَنِ الْکُتُبِ، قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِکُلِّ نَبِیٍّ دَعْوَۃٌ مُسْتَجَابَۃٌ وَاِنِّیْ اخْتَبَاْتُ دَعْوَتِیْ شَفَاعَۃً لِاُمَّتِیْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۷۷۰۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدناکعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اکٹھے ہوئے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا کعب کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی احادیث بیان کرنے لگے اور وہ اِن کو سابقہ کتب کی باتیں سنانے لگے، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہوتی ہے اور میں نے اس دعا کو چھپا رکھا ہے، تاکہ قیامت کے دن اپنی امت کے لیے سفارش کر سکوں۔
Takhreej
(۱۳۰۹۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۴۷۴، ومسلم: ۱۹۸، ۳۳۶، ۳۳۷(انظر: )
Explanation
فوائد:… یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کمال صبر، دور رسی اور حکمت ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو یہ اختیار دیا کہ اس کو اپنی مرضی کے مطابق اللہ تعالیٰ سے ایک دعا قبول کروا لینے کا حق حاصل ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ حق بروز قیامت استعمال کریں گے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا مصداق بنا دے۔
13091
Sahih
۔ (۱۳۰۹۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَدْ اُعْطِیَ کُلُّ نَبِیٍّ عَطِیَّۃً، فَکُلٌّ قَدْ تَعَجَّلَہَا وَاِنِّیْ اَخَّرْتُ عَطِیَّتِیْ شَفَاعَۃً لِاُمَّتِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۶۵)
سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر نبی کو ایک قبول شدہ دعا دی گئی ہے، ہر نبی نے اس کے معاملے میںجلدی کی (اور دنیا میں ہی اس کو وصول کر لیا ہے)، البتہ میں نے اپنی امت کے حق میں سفارش کرنے کے لیے اس کو مؤخر کر دیا ہے۔
Takhreej
(۱۳۰۹۲) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۱/ ۴۵۴، وابویعلی: ۱۰۱۴، والبزار: ۳۴۵۸ (انظر: ۱۱۱۴۸)
13092
Sahih
۔ (۱۳۰۹۳)۔ وَعَنْ اَبِیْ نَضْرٍ قَالَ: خَطَبَ بِنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلٰی مِنْبَرِ الْبَصْرَۃِ فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہُ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ اِلَّا لَہُ دَعْوَۃٌ قَدْ تَنَجَّزَھَا فِی الدُّنْیَا وَاِنِّیْ قَدِ اخْتَبَاْتُ دَعْوَتِیْ شَفَاعَۃًلِاُمَّتِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۵۴۶)
ابو نضرہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بصرہ کے منبر پر ہم سے خطاب کیا اورکہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نبی کو ایک ایک قبول شدہ دعا کرنے کا اختیار دیا گیا، اور ہر ایک نے دنیا ہی میں وہ دعا کرلی، البتہ میں نے اپنی دعا کو امت کے حق میں سفارش کر نے کے لیے چھپا رکھا ہے۔
Takhreej
(۱۳۰۹۳) تخریج: حسن لغیرہ، وھو حدیث طویل، أخرجہ الطیالسی: ۲۷۱۱، وابن ابی شیبۃ: ۱۴/ ۱۳۵، وابویعلی: ۲۳۲۸، وأخرجہ بنحوہ الترمذی: ۳۱۴۸ (انظر: ۲۵۴۶)
13093
Sahih
۔ (۱۳۰۹۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : مَاذَا رَدَّ اِلَیْکَ رَبُّکَ فِی الشَّفَاعَۃِ فَقَالَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! لَقَدْ ظَنَنْتُ اَنَّکَ اَوَّلُ مَنْ یَسْاَلُنِیْ عَنْ ذٰلِکَ مِنْ اُمَّتِیْ لِمَا رَاَیْتُ مِنْ حِرْصِکَ عَلٰی الْعِلْمِ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! مَا یَہُمُّنِیْ مِنَ انْقِصَافِہِمْ عَلٰی اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ اَھَمُّ عِنْدِیْ مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِیْ، وَشَفَاعَتِیْ لِمَنْ شَہِدَ اَنْ لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہَ مُخْلِصًا یُصَدِّقُ قَلْبُہُ لِسَانَہُ، وَلِسَانُہُ قَلْبَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۰۵۶)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا کہ شفاعت کے بارے میں آپ کی درخواست پر آپ کے رب نے آپ کو کیا جواب دیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )کی جان ہے! میرا خیال تھا کہ میری امت میں سے تم ہی اس کے بارے میں مجھ سے سب سے پہلے سوال کرو گے، کیونکہ میں نے تم کو علم پر حریص پایا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھوں میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی جان ہے! میرے نزدیک جنت کے دروازوں پر لوگوں کے ہجوم کی بہ نسبت اپنی شفاعت کی تکمیل زیادہ اہم ہے اور میری یہ سفارش ہر اس آدمی کے حق میں ہو گی، جو اخلاص سے اللہ تعالیٰ کے معبودِ برحق ہونے کا شہادت اس طرح دیتا ہے کہ اس کا دل، اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہے اور اس کی زبان اس کے دل کی۔
Takhreej
(۱۳۰۹۴) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الحاکم: ۱/ ۶۹، وابن خزیمۃ: ۲/ ۶۹۸ (انظر: ۸۰۷۰)
13094
Sahih
۔ (۱۳۰۹۵)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خُیِّرْتُ بَیْنَ الشَّفَاعَۃِ اَوْ یَدْخُلُ نِصْفُ اُمَّتِیَ الْجَنَّۃَ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَۃَ لِاَنَّہَا اَعَمُّ وَاَکْفٰی، اَتَرَوْنَہَا لِلْمُتَّقِیْنَ؟ لَا وَلٰکِنَّہَا لِلْمُتَلَوِّثِیْنَ الْخَطَّاؤُوْنَ۔)) قَالَ زِیَادٌ: اَمَا اِنَّہَا لَحْنٌ وَلٰکِنْ ہٰکَذَا حَدَّثَنَا الَّذِیْ حَدَّثَنَا۔ (مسند احمد: ۵۴۵۲)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اِن دو باتوںمیں سے ایک کا اختیار دیا گیا، یا تو میں سفارش کرلوں یا پھر میری نصف امت جنت میں چلی جائے، میں نے سفارش کو اختیار کیا، کیونکہ اس میں زیادہ وسعت اور عموم ہے اور یہ زیادہ لوگوںکو کفایت کرنے والی ہے۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں یہ سفارش متقی لوگوں کے لیے ہے؟ نہیں نہیں، یہ تو گناہوںمیں ملوّث ہو جانے والوں کے لیے ہے، جو خطا کار ہوتے ہیں۔ زیاد نے کہا: اس متن میں الْخَطَّاؤُوْنَ پڑھنا خطا ہے، بہرحال ہمیں بیان کرنے والوں نے ایسے ہی بیان کیا۔
Takhreej
(۱۳۰۹۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام راویہ عن ابن عمر، ولجھالۃ علی بن النعمان بن قراد ، ولاضطرابہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۳۱۱ (انظر: ۵۴۵۲)
Explanation
فوائد:… متن کے الفاظ الْخَطَّاؤُوْنَ‘مبتدا محذوف ھُمْ کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہو سکتے ہیں، اس لیے زیاد راوی کی بات درست نہیں ہے، یہ بات علیحدہ ہے کہ اگر الْخَطَّاؤُوْنَ کو اَلْمُتَلَوِّثِیْنَ کی صفت یا بدل بنایا جائے تو نحوی قواعد کی روشنی میں اسے الْخَطَّائِیْنَ پڑھا جائے گا۔
13095
Zaeef
۔ (۱۳۰۹۶)۔ وَعَنْ اُمِّ حَبِیْبَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((رَاَیْتُ مَا تَلْقٰی اُمَّتِیْ بَعْدِیْ وَسَفْکَ بَعْضِہِمْ دِمَائَ بَعْضٍ وَسَبَقَ ذٰلِکَ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی کَمَا سَبَقَ لِاُمَمٍ قَبْلَہُمْ، فَسَاَلْتُہُ اَنْ یُّوَلِّیَنِیْ شَفَاعَۃًیَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِیْہِمْ فَفَعَلَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۵۵)
زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ میری امتی میرے بعد کیسے کیسے گناہوں میں پڑ جائے گی، یہ ایک دوسرے کا خون بھی بہا دیں گے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فیصلہ اسی طرح ہو چکا ہے، جیسے سابقہ امتوںکے حق میں ہوا تھا، اس لیے میںنے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ وہ مجھے قیامت کے دن ان کے حق میں شفاعت کی اجازت دے، سو اس نے میری دعا قبول فرمالی۔
Takhreej
(۱۳۰۹۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۳/ ۴۰۹، والحاکم: ۱/ ۶۸ (انظر: ۲۷۴۱۰)
13096
Sahih
۔ (۱۳۰۹۷)۔ وَعَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلِمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَخَلَ عَلٰی مُعَاوِیَۃَ فَاِذَا رَجُلٌ یَتَکَلَّمُ، فَقَالَ بُرَیْدَۃُ: یَامُعَاوِیَۃُ! فَأْذَنْ لِیْ فِی الْکَلَامِ، فَقَالَ: نَعَمْ وَھُوَ یَرٰی اَنَّہُ سَیَتَکَلَّمُ بِمِثْلِ مَا قَالَ الْآخَرُ، فَقَالَ بُرَیْدَۃُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنِّیْ لَاَرْجُوْ اَنْ اَشْفَعَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدَدَ مَا عَلٰی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ وَمَدَرَۃٍ۔)) قَالَ: اَفَتَرْجُوْھَا اَنْتَ یَا مُعَاوِیَۃُ! وَلَایَرْجُوْھَا عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌؟ (مسند احمد: ۲۳۳۳۱)
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور وہاں ایک آدمی (سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے میں ناروا گفتگو) کر رہا تھا، سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: معاویہ! مجھے بات کرنے کی اجازت دو۔ سیدنامعاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی کرو بات، جبکہ ان کا خیال یہ تھا کہ یہ بھی اسی آدمی کی طرح بات کریں گے، لیکن سیدہ بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مجھے امید ہے کہ میں قیامت کے دن روئے زمین پر موجود درختوں اور اینٹوں کے برابر لوگوں کے حق میں شفاعت کروں گا۔ معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ! اب آپ مجھے یہ بتائیں کہ تم اس سفارش کے امیدوار ہوسکتے ہیںاور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نہیں ہوسکتے؟
Takhreej
(۱۳۰۹۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی اسرائیل، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۴۱۱۲(انظر: ۲۲۹۴۳)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میدانِ حشر میں سب سے پہلے سفارش کریں گے اور سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سفارش ہی قبول ہو گی، اگلے ابواب کا موضوع سفارش ہے، ہم ذیل میں اس مسئلہ کی حقیقت واضح کر دیتے ہیں: کسی کہنے والے نے کیا خوب کہا: مَا لِلْعِبَادِ عَلَیْہِ حَقٌّ وَّاجِبٗ کَلَّا، وَلَا سَعْیَ لَدَیْہِ ضَـائِعٗ اِنْ عُذِّبُوْا فَبِعَدْلِہٖ، اَوْ نُعِّمُوْا فَبِفَضْلِہٖ وَھُوَ الْکَرِیْمُ السَّامِعٗ اللہ تعالیٰ پر بندوں کا کوئی حق واجب نہیں ہے۔ ہر گز نہیں، لیکن اس کے ہاں محنت اور کوشش کو ضائع بھی نہیں کیا جاتا۔ اگر لوگوں کو عذاب دیا جائے گا تو وہ اس کے انصاف کا تقاضا ہو گا، یا اگر لوگوں پر انعام کیا جائے گا تو وہ اس کا فضل ہو گا، پس وہ کریم ہے اور سب کچھ سننے والا ہے۔ ہمارے ہاں سفارش کا مفہوم واضح ہے، سفارش کرنے والے کو جن تعظیمی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے، اتنی قدر و منزلت تو اس بیچارے کو بھی نصیب نہیں ہوتی، جو سفارش قبول کر کے ہماری ضروریات پوری کرتا ہے، دنیا و آخرت میں یہی قدر مشترک ہے کہ سفارش سے سفارش کرنے والے کے مقام و مرتبہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ واضح اور بنیاد ی فرق ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ دنیا میں زیادہ تر سفارش کرنے والے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے اپنی بات منواتے ہیں اور جن کے پاس شفاعت کی جاتی ہے، وہ ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے، اللہ تعالیٰ خود سفارش کرنے والے کو منتخب کریں گے اور پھر اس کے لیے حد مقرر کریں گے، قرآن مجید میں کئی مقامات پر یہ موضوع دوہرایا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّا بِاِذْنِہٖ}(سورۂ بقرہ: ۲۵۵)… کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے سفارش کر سکے۔ دوسرے مقام پر ارشاد ہوا: {لَا یَتَکَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًاo} (سورۂ نبا: ۷۸: ۳۸) … وہ کوئی کلام نہیں کریں گے، مگر جس کو رحمن اجازت دے گا اور وہ ٹھیک بات زبان سے نکالے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفارش کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اس کے حضور طویل سجدہ کریں گے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ملے گی۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے حد مقرر کرے گا۔ (ملاحظہ ہو: مسند احمد، صحیح بخاری، صحیح مسلم) صحیح مسلم کی روایت کے مطابق ملائکہ، انبیاء اور دوسرے مومن سفارش کریں گے، لیکن شفاعت ِ عظمی اور دوسری اہم مقامات کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو منتخب کرناآپ کے عظیم و کریم ہونے کی علامت ہے۔ یہ شافع محشر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہی ہیں کہ جو میدانِ حشر میں سب سے پہلے اور ایسے نازک موقع پر سفارش کریں گے کہ تمام دوسرے انبیا و رسل اس موقع سے گھبرائے ہوئے ہوں گے۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((… وَاَوَّلُ مَنْ یَنْشَقُّ عَنْہُ الْقَبْرُ، وَاَوَّلُ شَافِعٍ وَاَوَّلُ مُشَفَّعٍ۔)) … سب سے پہلے میری قبر پھٹے گی اور سب سے پہلے سفارش کرنے والا بھی میں ہوں گا اور سب سے پہلے شفاعت قبول بھی میری ہو گی۔ (صحیح مسلم: ۲۲۷۸) اس موقع پر آٹھویں صدی کے امام ابن ابی العز الحنفی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ کی بحث کا خلاصہ پیش کرنا ضروری ہے، وہ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ: صـ ۱۹۷ الی ۲۰۴) میں کہتے ہیں: شفاعت کی آٹھ اقسام ہیں، پہلی سات اقسام نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ خاص ہیں اور آخری قسم میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بھرپور حصہ پایا جاتا ہے: الشفاعۃ الاولي: یہ شفاعت ِ عظمی ہے، جو ہمارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خاصہ ہے، بلکہ اس موقع پر بقیہ انبیاء و رسل گھبرائے ہوئے ہوں گے اور نفسی نفسی کی صدائیں بلند کر رہے ہوں گے۔ اس سفارش کے بعد اللہ کی مخلوق کا حساب و کتاب شروع ہو گا۔ الشفاعۃ الثانیۃ والثالثۃ: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان لوگوں کے لیے جنت کی سفارش کرنا جن کی حسنات و سیئات برابر برابر ہوں گی اور بعض ایسے لوگوں کو جہنم میں داخل نہ کرنے کی سفارش کرنا، جن کے بارے میں آگ کا حکم دیا چکا ہو گا۔ الشفاعۃ الرابعۃ: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بعض جنتی لوگوں کے لیے بلندی ٔ درجات کی سفارش کرنا۔ الشفاعۃ الخامسۃ: بعض لوگوں کے حق میں یہ سفارش کرنا کہ وہ حساب و کتاب کے بغیر جنت میں داخل کیے جائیں، ممکن ہے کہ اس صورت کا سیدنا عکاشہ بن محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ والی حدیث سے استدلال کیا جائے۔ الشفاعۃ السادسۃ: بعض مستقل جہنمیوں کے حق میں یہ سفارش کرنا کہ ان کے عذاب میں تخفیف کر دی جائے، جیسا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا ابو طالب کا مسئلہ ہو گا۔ الشفاعۃ السابعۃ: تمام مومنوں کے حق میں یہ سفارش کرنا کہ جنت میں ان کا داخلہ شروع کیا جائے، جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث ہے، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اَوَّلَ شَفِیْعٍ فِیْ الْجَنَّۃِ۔)) یعنی: جنت میں داخل ہونے کے لیے پہلا سفارشی میں ہوں گا۔ الشفاعۃ الثامنۃ: جہنم میں داخل ہو جانے والے کبیرہ گناہوں کے مرتکبین کے حق میں سفارش کرنا، اس موضوع پر متواتر احادیث موجود ہیں۔ یہ واحد قسم میں جس میں دوسری انبیائ، فرشتے اور مومن بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرح سفارش کریں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار دفعہ یہ سفارش کریں گے۔
13097
Zaeef

Chapters

30
01
اس بارے میں سیدنا ابو رزین لقیط بن عامر بن منتفق عقیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی جامع حدیث
6 Hadith
02
قیامت کے اچانک برپا ہو جانے اور سب سے آخرمیں مرنے والے آدمی کا بیان
3 Hadith
03
لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھائے جانے ، میدان ِ حشر میں جمع کیے جانے اور ان کی اس وقت کی شدید گھبراہٹ کا بیان لوگوں کو اٹھائے جانے کا اور سب سے پہلے اٹھائے جانے والے بشر کا بیان
8 Hadith
04
حشر اور اس میں لوگوں کی کیفیت کا بیان
4 Hadith
05
قیامت کے دن کی ہولناکی اور سورج کے لوگوں کے سروں کے قریب ہو جانے کا بیان
6 Hadith
06
جہنم والوںکی تعداد اور ان میں سے بعض کی علامات
5 Hadith
07
قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان قیامت کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کاحریص ہونا
7 Hadith
08
شفاعت کے منکرین کا رد
1 Hadith
09
حشر والوں کے لیے شفاعت عظمیٰ کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ خاص ہونا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سب سے پہلا سفارشی ہونا
1 Hadith
10
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث
1 Hadith
11
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث
1 Hadith
12
بسلسلۂ شفاعت سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث
2 Hadith
13
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، اور اس میں اصدقائ، انبیاء اور شہداء کی شفاعت کا تذکرہ
1 Hadith
14
امت کا ایک گروہ، جو عذاب کا مستحق ہو گا،لیکن جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے حق میں سفارش کر دینا، اور ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جہنم سے نکالنا، جن کو بعد میں بھی جہنمی ہی کہا جائے گا
4 Hadith
15
فرشتوں، نبیوں اور مومنوں کی شفاعت کا بیان، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توحید والے اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے
3 Hadith
16
بعض صحابہ کا نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
6 Hadith
17
امت محمدیہ کے بعض صالحین کی دوسرے بعض نیک لوگوں کے حق میں شفاعت کرنے کا بیان
5 Hadith
18
کوثر اور اس کی صفات کا بیان
4 Hadith
19
حوض کا سر چشمہ کوثر کی نہر ہو گی
1 Hadith
20
حوض کی کیفیت اور اس سے متعلقہ دیگر روایات
3 Hadith
21
عبیداللہ بن زیاد کا پہلے حوض کو تسلیم نہ کرنا، لیکن بعد میں اس کا اپنے اس موقف سے رجوع کر لینا اور حوض کے وجود کی تصدیق کرنا
5 Hadith
22
ان لوگوں کا تذکرہ، جنہیں حوض کو ثر سے دھتکار دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
7 Hadith
23
حوضِ کوثر پر آنے والے لوگوں کی کثرت اوراس حوض کی صفات کے ساتھ ساتھ اس پر آنے والے بعض لوگوں کی صفات کا بیان
4 Hadith
24
نامہ اعمال کی وصولی اور ترازو کا بیان
4 Hadith
25
محاسبہ کی سختی ، اہل ایمان کا مزید نیکیاں نہ کر لانے پر ندامت اور کفار کی ڈانٹ ڈپٹ کا بیان
8 Hadith
26
قیامت کے دن زمین اور انسان کے اعضاء کی انسان کے خلاف شہادت
2 Hadith
27
قیامت کے دن قصاص اور مظلوموں کو ان کے حقوق دلائے جانے کا بیان
7 Hadith
28
فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان
8 Hadith
29
مومنوں کی آزمائش اور ان کو جہنم سے بچانے کے لیے ان کے بدلے کافروں کو جہنم میں ڈالنے کا بیان
4 Hadith
30
پل صراط ،انبیاء اور اہل ایمان کی شفاعت اور اللہ تعالیٰ کے اپنے موحد بندوں پر مہربانی کرنے کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.