سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدناکعب رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا کعب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث بیان کرنے لگے اور وہ اِن کو سابقہ کتب کی باتیں سنانے لگے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہوتی ہے اور میں نے اس دعا کو چھپا رکھا ہے، تاکہ قیامت کے دن اپنی امت کے لیے سفارش کر سکوں۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر نبی کو ایک قبول شدہ دعا دی گئی ہے، ہر نبی نے اس کے معاملے میںجلدی کی (اور دنیا میں ہی اس کو وصول کر لیا ہے)، البتہ میں نے اپنی امت کے حق میں سفارش کرنے کے لیے اس کو مؤخر کر دیا ہے۔
ابو نضرہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے منبر پر ہم سے خطاب کیا اورکہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کو ایک ایک قبول شدہ دعا کرنے کا اختیار دیا گیا، اور ہر ایک نے دنیا ہی میں وہ دعا کرلی، البتہ میں نے اپنی دعا کو امت کے حق میں سفارش کر نے کے لیے چھپا رکھا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ شفاعت کے بارے میں آپ کی درخواست پر آپ کے رب نے آپ کو کیا جواب دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی جان ہے! میرا خیال تھا کہ میری امت میں سے تم ہی اس کے بارے میں مجھ سے سب سے پہلے سوال کرو گے، کیونکہ میں نے تم کو علم پر حریص پایا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھوں میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے! میرے نزدیک جنت کے دروازوں پر لوگوں کے ہجوم کی بہ نسبت اپنی شفاعت کی تکمیل زیادہ اہم ہے اور میری یہ سفارش ہر اس آدمی کے حق میں ہو گی، جو اخلاص سے اللہ تعالیٰ کے معبودِ برحق ہونے کا شہادت اس طرح دیتا ہے کہ اس کا دل، اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہے اور اس کی زبان اس کے دل کی۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اِن دو باتوںمیں سے ایک کا اختیار دیا گیا، یا تو میں سفارش کرلوں یا پھر میری نصف امت جنت میں چلی جائے، میں نے سفارش کو اختیار کیا، کیونکہ اس میں زیادہ وسعت اور عموم ہے اور یہ زیادہ لوگوںکو کفایت کرنے والی ہے۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں یہ سفارش متقی لوگوں کے لیے ہے؟ نہیں نہیں، یہ تو گناہوںمیں ملوّث ہو جانے والوں کے لیے ہے، جو خطا کار ہوتے ہیں۔ زیاد نے کہا: اس متن میں الْخَطَّاؤُوْنَ پڑھنا خطا ہے، بہرحال ہمیں بیان کرنے والوں نے ایسے ہی بیان کیا۔
زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ میری امتی میرے بعد کیسے کیسے گناہوں میں پڑ جائے گی، یہ ایک دوسرے کا خون بھی بہا دیں گے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فیصلہ اسی طرح ہو چکا ہے، جیسے سابقہ امتوںکے حق میں ہوا تھا، اس لیے میںنے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ وہ مجھے قیامت کے دن ان کے حق میں شفاعت کی اجازت دے، سو اس نے میری دعا قبول فرمالی۔
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور وہاں ایک آدمی (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ناروا گفتگو) کر رہا تھا، سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: معاویہ! مجھے بات کرنے کی اجازت دو۔ سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی کرو بات، جبکہ ان کا خیال یہ تھا کہ یہ بھی اسی آدمی کی طرح بات کریں گے، لیکن سیدہ بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مجھے امید ہے کہ میں قیامت کے دن روئے زمین پر موجود درختوں اور اینٹوں کے برابر لوگوں کے حق میں شفاعت کروں گا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ ! اب آپ مجھے یہ بتائیں کہ تم اس سفارش کے امیدوار ہوسکتے ہیںاور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہیں ہوسکتے؟