مسنداحمد

Musnad Ahmad

قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان

امت محمدیہ کے بعض صالحین کی دوسرے بعض نیک لوگوں کے حق میں شفاعت کرنے کا بیان

۔ (۱۳۱۱۸)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ اَبِی الْجَدْعَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیَدْخُلَنَّ الْجَنَّۃَ بِشَفَاعَۃِ رَجُلٍ مِنْ اُمَّتِیْ اَکْثَرُ مِنْ بَنِیْ تَمِیْمٍ۔)) فَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! سِوَاکَ؟ قَالَ: ((سِوَایَ سِوَایَ۔)) قُلْتُ: اَنْتَ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اَنَا سَمِعْتُہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۵۲)

سیدنا عبد اللہ بن ابی جد عاء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے ایک آدمی کی شفاعت کی وجہ سے قبیلہ ٔ بنو تمیم کے افراد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آدمی آپ کے علاوہ ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ میرے علاوہ ہو گا، میرے علاوہ۔ عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے کہا کہ تو نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خود سنا ہے۔

۔ (۱۳۱۱۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیَدْخُلَنَّ الْجَنَّۃَ بِشَفَاعَۃِ رَجُلٍ لَیْسَ بِنَبِیٍّ مِثْلُ الْحَیَّیْنِ اَوْ مِثْلُ اَحَدِ الْحَیَّیْنِ رَبِیْعَۃَ وَمُضَرَ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوْمَا رَبِیْعَۃُ مِنْ مُضَرَ فَقَالَ: ((اِنَّمَا اَقُوْلُ مَا اَقُوْلُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۶۸)

سیدناابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی، جو نبی بھی نہیں ہوگا، کی سفارش کی وجہ سے ربیعہ اور مضر دونوں یا ان میں سے ایک قبیلے کے افراد جتنے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول ! کیا ربیعہ بھی مضر میں سے نہیں ہیں؟ فرمایا: میں نے جو بات کہہ دی، سو کہہ دی۔

۔ (۱۳۱۲۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ اُمَّتِیْ لَمَنْ یَّشْفَعَ لِاَکْثَرَ مِنْ رَبِیْعَۃَ وَمُضَرَ، وَاِنَّ مِنْ اُمَّتِیْ لَمَنْ یَّعْظُمُ لِلنَّارِ حَتّٰییَکُوْنَ رُکْنًا مِنْ اَرْکَانِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۰۱۳)

سیدنا ابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں، جو ربیعہ اور مضر کے قبیلوں کے افراد کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کے حق میں شفاعت کریں گے، لیکن ایسے گنہگار لوگ بھی میری امت میں ہیں، کہ جو جہنم میں اس قدر بڑے ہو جائیں گے کہ جہنم کے کونوں میں ایک کونہ بن جائیں گے۔

۔ (۱۳۱۲۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَدْ اُعْطِیَ کُلُّ نَبِیٍّ عَطِیَّۃً فَکُلٌّ قَدْ تَعَجَّلَہَا وَاِنِّیْ اَخَّرْتُ عَطِیَّتِیْ شَفَاعَۃً لِاُمَّتِیْ، وَاِنَّ الرَّجُلَ مِنْ اُمَّتِیْیَشْفَعُ لِلْفِئَامِ مِنَ النَّاسِ فَیَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَاِنَّ الرَّجُلَ لَیَشْفَعُ لِلْقَبِیْلَۃِ، وَاِنَّ الرَّجُلَ لَیَشْفَعُ لِلْعَصَبَۃِ وَاِنَّ الرَّجُلَ لَیَشْفَعُ لِلثَّلاَثَۃِ وَلِلرَّجُلَیْنِ وَلِلرَّجُلِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۶۵)

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نبی کو ایک دعا بطورِ عطیہ دی گئی اور ہر نبی نے دنیا میں ہی جلدی جلدی وہ قبول کروا لی، لیکن میں نے اپنے عطیہ کو آخرت میں اپنی امت کے حق میں شفاعت کے لیے مؤخر کر رکھا ہے،جبکہ میری تو امت کا یہ حال ہو گا کہ اس کا ایک آدمی لوگوں کی بڑی بڑی جماعتوں کے حق میں شفاعت کرے گا اور وہ اس کے نتیجے میں جنت میں داخل ہو جائیں گے اور ایک آدمی ایک قبیلہ کے حق میں، ایک آدمی ایک گروہ کے حق میں، ایک آدمی تین افراد کے حق میں، ایک آدمی دو بندوں کے حق میں اور ایک آدمی ایک فرد کے حق میں شفاعت کرے گا۔

۔ (۱۳۱۲۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ مِثْلَہُ) وَزَادَ ((وَاِنَّ الرَّجُلَ لَیَشْفَعُ لِلرَّجُلِ وَاَھْلِ بَیْتِہِ فَیَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِشَفَاعَتِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۱۶۲۷)

۔ (دوسری سند) اس میں ہے: اور کوئی آدمی، ایک فرد اور اس کے اہل خانہ کے حق میں شفاعت کرے گا،جس کے نتیجے میں وہ لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔