مسنداحمد

Musnad Ahmad

قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان

حوض کی کیفیت اور اس سے متعلقہ دیگر روایات

۔ (۱۳۱۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ لِیْ حَوْضًا مَا بَیْنَ اَیْلَۃَ اِلٰی صَنْعَائَ عَرْضُہُ کَطُوْلِہٖفِیْہِ مِیْزَابَانِیَنْثَعِبَانِ مِنَ الْجَنَّۃِ مِنْ وَرِقٍ وَالْآخَرُ مِنْ ذَھَبٍ، اَحْلٰی مِنَ الْعَسَلِ وَاَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ وَاَبْیَضُ مِنَ اللَّبَنِ، مَنْ شَرِبَ مِنْہُ لَمْ یَظْمَاْ حَتّٰییَدْخُلَ الْجَنَّۃَ، فِیْہِ اَبَارِیْقُ عَدَدُ نُجُوْمِ السَّمَائِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۴۲)

سیدنا ابوبرزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخرت میںمیرا ایک حوض ہوگا، اس کی وسعت اس قد رہوگی جیسے ایلہ سے صنعاء تک کی مسافت ہے، اس کی چوڑائی اس کی لمبائی جتنی ہو گی، اس میں جنت سے آنے والے پانی کے دو پرنالے گر رہے ہوں گے، ایک پرنالہ چاندی کا ہوگا اور دوسرا سونے کا، اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں، برف سے زیادہ ٹھنڈا، دودھ سے زیادہ سفید ہوگا، جس نے اس سے ایک دفعہ پی لیا وہ جنت میں جانے تک پیاس محسوس نہیں کرے گا، اس کے آبخوروں کی تعداد آسمان کے تاروں سے بھی جتنی ہوگی۔

۔ (۱۳۱۲۹)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَمَامَکُمْ حَوْضًا مَا بَیْنَ نَاحِیَتَیْہِ کَمَا بَیْنَ جَرْبَائَ وَاَذْرُحَ۔)) (مسند احمد: ۶۰۷۹)

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے آگے (یعنی آخرت میں) ایک حوض ہوگا، اس کے دو کناروں کے مابین اس قدر مسافت ہوگی، جس قدر جرباء اور اذرح کے درمیان ہے۔

۔ (۱۳۱۳۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَعَدَنِیْ اَنْ یُّدْخِلَ مِنْ اُمَّتِی الْجَنَّۃَ سَبْعِیْنَ اَلْفًا بِغَیْرِ حِسَابٍ۔)) فَقَالَ یَزِیْدُ بْنُ الْاَخْنَسِ السُّلَمِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : وَاللّٰہِ! مَا اُوْلٰئِکَ فِیْ اُمَّتِکَ اِلَّا کَالذُّبَابِ الْاَصْہَبِ فِی الذُّبَّانِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَانَ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ قَدْ وَعَدَنِیْ سَبْعِیْنَ اَلْفًا، مَعَ کُلِّ اَلْفٍ سَبْعُوْنَ اَلْفًا وَزَادَنِیْ ثَلَاثَ حَثَیَاتٍ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مِنْ حَثَیَاتِ الرَّبِّ)۔)) قَالَ: فَمَا سِعَۃُ حَوْضِکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((کَمَا بَیْنَ عَدَنَ اِلٰی عُمَانَ وَاَوْسَعَ وَاَوْسَعَ یُشِیْرُ بِیَدِہٖ قَالَ فِیْہِ مَثْعَبَانِ مِنْ ذَھَبٍ وَفِضَّۃٍ۔)) قَالَ: فَمَا حَوْضُکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((اَشَدُّ بَیَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَاَحْلٰی مَذَاقَۃً مِنَ الْعَسَلِ وَاَطْیَبُ رَائِحَۃً مِنَ الْمِسْکِ، مَنْ شَرِبَ مِنْہُ لَمْ یَظْمَاْ بَعْدَھَا، وَلَمْ یَسَوَدَّ وَجْہُہُ اَبَدًا۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: وَجَدْتُ ہٰذَا الْحَدِیْثَ فِیْ کِتَابِ اَبِیْ بِخَطِّ یَدِہٖ وَقَدْ ضَرَبَ عَلَیْہِ فَظَنَنْتُ اَنَّہُ قَدْ ضَرَبَ عَلَیْہِ، لِاَنَّہُ خَطَاٌ اِنَّمَا ھُوَ عَنْ زَیْدٍ عَنْ اَبِیْ سَلَامٍ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۲۵۰۸)

سیدناابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار افراد کو بلا حساب جنت میں داخل فرمائے گا۔ یہ سن کر سیدنا یزید بن اخنس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تعداد تو آپ کی امت میں ایسے ہی ہے، جیسے عام مکھیوں میں سفید سرخی مائل رنگ کی مکھی ہوتی ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے میرے ساتھ ستر ہزار کا وعدہ کیا اور ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار کا بھی وعدہ کیا اور اس پر مستزاد یہ کہ کہ اللہ تعالیٰ کی تین مٹھیاں اس تعداد کے علاوہ ہیں۔ انھوں نے پھر کہا: اللہ کے نبی!آپ کے حوض کی وسعت کتنی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس قد رعدن سے عمان تک مسافت ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: بلکہ اس سے بھی زیادہ وسیع ہے، اس سے زیادہ وسیع ہے، اس میں دو پرنالے ہوں گے، ایک سونے کا ہو گا اور دوسرا چاندی کا۔ انھوں نے کہا: اللہ کے نبی! آپ کے حوض کا پانی کیسا ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ شیریں اور کستوری سے بڑھ کر خوش بود ار ہوگا، جس نے ایک دفعہ وہاں سے پی لیا، اس کے بعد وہ کبھی بھی پیاس محسوس نہیں کرے گا اور اس کا چہرہ بھی کبھی سیاہ نہیں ہوگا۔ عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں: یہ حدیث میں نے اپنے والد کی کتاب میں ان کے ہاتھ کے ساتھ لکھی ہوئی پائی اور اس پر نشان لگایا گیا تھا، جس سے مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ حدیث اس طرح ٹھیک نہیں دراصل یہ حدیث عن زید عن ابی سلام عن ابی امامہ کے واسطے سے مروی ہے۔ (عبداللہ رفیق)