TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حوض کی کیفیت اور اس سے متعلقہ دیگر روایات - حوض کی کیفیت اور اس سے متعلقہ دیگر روایات - قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 20 of قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 20 of 30 · 3 Hadith
۔ (۱۳۱۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ لِیْ حَوْضًا مَا بَیْنَ اَیْلَۃَ اِلٰی صَنْعَائَ عَرْضُہُ کَطُوْلِہٖفِیْہِ مِیْزَابَانِیَنْثَعِبَانِ مِنَ الْجَنَّۃِ مِنْ وَرِقٍ وَالْآخَرُ مِنْ ذَھَبٍ، اَحْلٰی مِنَ الْعَسَلِ وَاَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ وَاَبْیَضُ مِنَ اللَّبَنِ، مَنْ شَرِبَ مِنْہُ لَمْ یَظْمَاْ حَتّٰییَدْخُلَ الْجَنَّۃَ، فِیْہِ اَبَارِیْقُ عَدَدُ نُجُوْمِ السَّمَائِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۴۲)
سیدنا ابوبرزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخرت میںمیرا ایک حوض ہوگا، اس کی وسعت اس قد رہوگی جیسے ایلہ سے صنعاء تک کی مسافت ہے، اس کی چوڑائی اس کی لمبائی جتنی ہو گی، اس میں جنت سے آنے والے پانی کے دو پرنالے گر رہے ہوں گے، ایک پرنالہ چاندی کا ہوگا اور دوسرا سونے کا، اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں، برف سے زیادہ ٹھنڈا، دودھ سے زیادہ سفید ہوگا، جس نے اس سے ایک دفعہ پی لیا وہ جنت میں جانے تک پیاس محسوس نہیں کرے گا، اس کے آبخوروں کی تعداد آسمان کے تاروں سے بھی جتنی ہوگی۔
Takhreej
(۱۳۱۲۸) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ البزار: ۳۸۴۹، وابن حبان: ۶۴۵۸، والحاکم: ۱/۷۶ (انظر: ۱۹۸۰۴)
13128
Sahih
۔ (۱۳۱۲۹)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَمَامَکُمْ حَوْضًا مَا بَیْنَ نَاحِیَتَیْہِ کَمَا بَیْنَ جَرْبَائَ وَاَذْرُحَ۔)) (مسند احمد: ۶۰۷۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے آگے (یعنی آخرت میں) ایک حوض ہوگا، اس کے دو کناروں کے مابین اس قدر مسافت ہوگی، جس قدر جرباء اور اذرح کے درمیان ہے۔
Takhreej
(۱۳۱۲۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۷۷، ومسلم: ۲۲۹۹(انظر: ۶۰۷۹)
13129
Sahih
۔ (۱۳۱۳۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَعَدَنِیْ اَنْ یُّدْخِلَ مِنْ اُمَّتِی الْجَنَّۃَ سَبْعِیْنَ اَلْفًا بِغَیْرِ حِسَابٍ۔)) فَقَالَ یَزِیْدُ بْنُ الْاَخْنَسِ السُّلَمِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : وَاللّٰہِ! مَا اُوْلٰئِکَ فِیْ اُمَّتِکَ اِلَّا کَالذُّبَابِ الْاَصْہَبِ فِی الذُّبَّانِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَانَ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ قَدْ وَعَدَنِیْ سَبْعِیْنَ اَلْفًا، مَعَ کُلِّ اَلْفٍ سَبْعُوْنَ اَلْفًا وَزَادَنِیْ ثَلَاثَ حَثَیَاتٍ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مِنْ حَثَیَاتِ الرَّبِّ)۔)) قَالَ: فَمَا سِعَۃُ حَوْضِکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((کَمَا بَیْنَ عَدَنَ اِلٰی عُمَانَ وَاَوْسَعَ وَاَوْسَعَ یُشِیْرُ بِیَدِہٖ قَالَ فِیْہِ مَثْعَبَانِ مِنْ ذَھَبٍ وَفِضَّۃٍ۔)) قَالَ: فَمَا حَوْضُکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((اَشَدُّ بَیَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَاَحْلٰی مَذَاقَۃً مِنَ الْعَسَلِ وَاَطْیَبُ رَائِحَۃً مِنَ الْمِسْکِ، مَنْ شَرِبَ مِنْہُ لَمْ یَظْمَاْ بَعْدَھَا، وَلَمْ یَسَوَدَّ وَجْہُہُ اَبَدًا۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: وَجَدْتُ ہٰذَا الْحَدِیْثَ فِیْ کِتَابِ اَبِیْ بِخَطِّ یَدِہٖ وَقَدْ ضَرَبَ عَلَیْہِ فَظَنَنْتُ اَنَّہُ قَدْ ضَرَبَ عَلَیْہِ، لِاَنَّہُ خَطَاٌ اِنَّمَا ھُوَ عَنْ زَیْدٍ عَنْ اَبِیْ سَلَامٍ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۲۵۰۸)
سیدناابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار افراد کو بلا حساب جنت میں داخل فرمائے گا۔ یہ سن کر سیدنا یزید بن اخنس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تعداد تو آپ کی امت میں ایسے ہی ہے، جیسے عام مکھیوں میں سفید سرخی مائل رنگ کی مکھی ہوتی ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے میرے ساتھ ستر ہزار کا وعدہ کیا اور ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار کا بھی وعدہ کیا اور اس پر مستزاد یہ کہ کہ اللہ تعالیٰ کی تین مٹھیاں اس تعداد کے علاوہ ہیں۔ انھوں نے پھر کہا: اللہ کے نبی!آپ کے حوض کی وسعت کتنی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس قد رعدن سے عمان تک مسافت ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: بلکہ اس سے بھی زیادہ وسیع ہے، اس سے زیادہ وسیع ہے، اس میں دو پرنالے ہوں گے، ایک سونے کا ہو گا اور دوسرا چاندی کا۔ انھوں نے کہا: اللہ کے نبی! آپ کے حوض کا پانی کیسا ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ شیریں اور کستوری سے بڑھ کر خوش بود ار ہوگا، جس نے ایک دفعہ وہاں سے پی لیا، اس کے بعد وہ کبھی بھی پیاس محسوس نہیں کرے گا اور اس کا چہرہ بھی کبھی سیاہ نہیں ہوگا۔ عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں: یہ حدیث میں نے اپنے والد کی کتاب میں ان کے ہاتھ کے ساتھ لکھی ہوئی پائی اور اس پر نشان لگایا گیا تھا، جس سے مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ حدیث اس طرح ٹھیک نہیں دراصل یہ حدیث عن زید عن ابی سلام عن ابی امامہ کے واسطے سے مروی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
Takhreej
(۱۳۱۳۰) تخریج: صحیح، أخرجہ ابن حبان: ۶۴۵۷، والطبرانی فی الکبیر : ۷۶۷۲، وأخرج بعضہ الترمذی: ۴۲۸۶، وابن ماجہ: ۲۴۳۷(انظر: ۲۲۱۵۶)
Explanation
فوائد:… (۱) اس سے معلوم ہوا کہ آخرت میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک وسیع و عریض حوض عنایت کیا جائے گا اس میںجنت کی طرف سے دو پرنالے ہوں گے۔ ان میں سے ایک چاندی کا اور ایک سونے کا ہوگا۔ اس کا پانی دودھ سے سفید تر ، شہد سے زیادہ شیریں اور برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا ہوگا۔ اسے پینے والے کو کبھی پیاس محسوس نہیں ہوگی۔ وہاں پانی پینے کے لیے نجوم ہائے فلک سے بھی زیادہ تعداد میں برتن موجود ہوں گے۔ اور اس پانی کو پینے والے کا چہرہ کبھی سیاہ نہیں ہوگا۔ (۲) نیز معلوم ہوا کہ اس امت میں سے ستر ہزار آدمی بلا حساب جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ستر ہزار آدمی ہوں گے۔
13130
Sahih

Chapters

30
01
اس بارے میں سیدنا ابو رزین لقیط بن عامر بن منتفق عقیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی جامع حدیث
6 Hadith
02
قیامت کے اچانک برپا ہو جانے اور سب سے آخرمیں مرنے والے آدمی کا بیان
3 Hadith
03
لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھائے جانے ، میدان ِ حشر میں جمع کیے جانے اور ان کی اس وقت کی شدید گھبراہٹ کا بیان لوگوں کو اٹھائے جانے کا اور سب سے پہلے اٹھائے جانے والے بشر کا بیان
8 Hadith
04
حشر اور اس میں لوگوں کی کیفیت کا بیان
4 Hadith
05
قیامت کے دن کی ہولناکی اور سورج کے لوگوں کے سروں کے قریب ہو جانے کا بیان
6 Hadith
06
جہنم والوںکی تعداد اور ان میں سے بعض کی علامات
5 Hadith
07
قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان قیامت کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کاحریص ہونا
7 Hadith
08
شفاعت کے منکرین کا رد
1 Hadith
09
حشر والوں کے لیے شفاعت عظمیٰ کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ خاص ہونا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سب سے پہلا سفارشی ہونا
1 Hadith
10
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث
1 Hadith
11
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث
1 Hadith
12
بسلسلۂ شفاعت سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث
2 Hadith
13
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، اور اس میں اصدقائ، انبیاء اور شہداء کی شفاعت کا تذکرہ
1 Hadith
14
امت کا ایک گروہ، جو عذاب کا مستحق ہو گا،لیکن جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے حق میں سفارش کر دینا، اور ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جہنم سے نکالنا، جن کو بعد میں بھی جہنمی ہی کہا جائے گا
4 Hadith
15
فرشتوں، نبیوں اور مومنوں کی شفاعت کا بیان، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توحید والے اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے
3 Hadith
16
بعض صحابہ کا نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
6 Hadith
17
امت محمدیہ کے بعض صالحین کی دوسرے بعض نیک لوگوں کے حق میں شفاعت کرنے کا بیان
5 Hadith
18
کوثر اور اس کی صفات کا بیان
4 Hadith
19
حوض کا سر چشمہ کوثر کی نہر ہو گی
1 Hadith
20
حوض کی کیفیت اور اس سے متعلقہ دیگر روایات
3 Hadith
21
عبیداللہ بن زیاد کا پہلے حوض کو تسلیم نہ کرنا، لیکن بعد میں اس کا اپنے اس موقف سے رجوع کر لینا اور حوض کے وجود کی تصدیق کرنا
5 Hadith
22
ان لوگوں کا تذکرہ، جنہیں حوض کو ثر سے دھتکار دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
7 Hadith
23
حوضِ کوثر پر آنے والے لوگوں کی کثرت اوراس حوض کی صفات کے ساتھ ساتھ اس پر آنے والے بعض لوگوں کی صفات کا بیان
4 Hadith
24
نامہ اعمال کی وصولی اور ترازو کا بیان
4 Hadith
25
محاسبہ کی سختی ، اہل ایمان کا مزید نیکیاں نہ کر لانے پر ندامت اور کفار کی ڈانٹ ڈپٹ کا بیان
8 Hadith
26
قیامت کے دن زمین اور انسان کے اعضاء کی انسان کے خلاف شہادت
2 Hadith
27
قیامت کے دن قصاص اور مظلوموں کو ان کے حقوق دلائے جانے کا بیان
7 Hadith
28
فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان
8 Hadith
29
مومنوں کی آزمائش اور ان کو جہنم سے بچانے کے لیے ان کے بدلے کافروں کو جہنم میں ڈالنے کا بیان
4 Hadith
30
پل صراط ،انبیاء اور اہل ایمان کی شفاعت اور اللہ تعالیٰ کے اپنے موحد بندوں پر مہربانی کرنے کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.