TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زمین میں بنائی جانے والی سب سے پہلی مسجداور مساجد بنانے کی فضیلت - زمین میں بنائی جانے والی سب سے پہلی مسجداور مساجد بنانے کی فضیلت - مساجد کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of مساجد کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 12 · 8 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۱۳۱۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ وَسُلَیْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاھِیْمَ الْتَّیمِیِّ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: کُنْتُ أَعْرِضُ عَلَیْہِ وَیَعْرِضُ عَلَیَّ وَقَالَ أَبُو عَوَانَۃَ: کُنْتُ أَقْرَأُ عَلَیْہِ وَیَقْرَأُ عَلَیَّ فِی السِّکَّۃِ فَیَمُرُّ بِالسَّجْدَۃِ فَیَسْجُدُ قَالَ: قُلْتُ: أَتَسْجُدُ فِی السِّکَّۃِ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ أَبَاذَرٍّ یَقُوْلُ سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِی الْأَرْضِ أَوَّلاً؟ قَالَ: ((الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَیٌّ؟ قَال: ((ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَ قْصٰی۔)) قَالَ: قُلْتُ: کَمْ بَیْنَہُمَا؟ قَالَ: ((أَرْبَعُوْنَ سَنَۃً۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَیْنَمَا أَدْرَ کَتْکَ الصَّلَاۃُ فَصَلِّ فَہُوَ مَسْجِدٌ، وَفِیْ رَوِایَۃٍ فَکُلُّہَا مَسْجِدٌ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۱۱)
ابو عوانہ کہتے ہیں: گلی میں (چلتے چلتے) میں ابراہیم تیمی پر اور وہ مجھ پر قرآن پڑھتے، جب ابراہیم سجدے والی آیت کی تلاوت کرتے تو سجدہ کرتے۔ میں نے کہا: آپ راستے میں سجدہ کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: ہاں! میں نے سیّدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا تھا ، انھوں نے کہا: میںنے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا:اے اللہ کے رسول! زمین میں سب سے پہلے کون سی مسجد تعمیر کی گئی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد حرام ۔ میں نے کہا: پھر کون سی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر مسجد اقصی ۔ میں نے کہا : دونوں کے درمیان کتنی مدت تھی ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چالیس سال۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہاں بھی نماز تجھے پالے، وہاں نماز پڑھ لیا کر، وہی مسجد ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: زمین ساری کی ساری مسجد ہے۔
Takhreej
(۱۳۱۶) تخر یـج: …اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابو عوانۃ الاسفرائنی: ۱۱۶۱، وأخرجہ البخاری: ۳۳۶۶، ۳۵۲۵، ومسلم: ۵۲۰ من قولہ: سالت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم … الی آخرہ (انظر: ۲۱۳۳۳، ۲۱۳۸۳)
Explanation
فوائد:… مسجد حرام اور مسجد اقصی کے پہلے بانی کون تھے؟ جواب ملاحظہ فرمائیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ} (سورۂ آل عمران: ۹۶) یعنی: اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے۔ عام نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام مسجد حرام کے اور سلیمان علیہ السلام مسجد اقصی کے بانی ہیں۔ علم تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ ان دو ہستیوں میں ایک ہزار سے زائد برسوں کا فاصلہ ہے، لیکن اس حدیث میں ان دو مسجدوں کی درمیانی مدت چالیس سال بتلائی گئی ہے۔ یہ ایک اہم اشکال ہے، جس کا جواب درج ذیل ہے: ابراہیم علیہ السلام مسجد حرام کے اور سلیمان علیہ السلام مسجد اقصی کے بانی ٔ اول نہیں ہیں، جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی حدیث میں ان مساجد کی پہلی بِنا کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ایک روایت کے مطابق آدم علیہ السلام نے کعبہ کی پہلی بار تعمیر کی، پھر ان کی اولاد زمین میں پھیل گئی، ممکن ہے کہ ان میں سے کسی نے مسجد اقصیٰ تعمیر کی ہو، پھر بعد میں ابراہیم علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام نے ان کی تجدید کی ہو اور اس تجدید کی وجہ سے ان کی تعمیر کو ان کی طرف منسوب کر دیا گیا ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آدم علیہ السلام نے ہییا فرشتوں نے یا سام بن نوح نے یایعقوب علیہ السلام نے مسجد اقصی تعمیر کی۔ ابن ہشام نے کتاب التیجان مین یہ واقعہ ذکر کیا ہے: جب آدم علیہ السلام نے کعبہ تعمیر کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ بیت المقدس کی طرف جائیں اوراس کی تعمیر کر کے اس میں قربانی کریں۔ ابن ابی حاتم کی روایت کے مطابق سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: طوفان کے زمانے میں بیت اللہ کو اٹھا لیا گیا تھا، پھر انبیا حج تو کرتے رہے لیکن ان کو اس کی جگہ کا علم نہیں تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو ابراہیم علیہ السلام کے لیے تیار کیا اور ان کو اس کے مقام کی خبر دی۔ امام بیہقی نے الدلائل میں سیّدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کییہ مرفوع روایت بیان کی ہے: اللہ تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام کو آدم علیہ السلام کی طرف بھیجا اور ان کو بیت اللہ بنانے کا حکم دیا، پس آدم علیہ السلام نے اس گھر کی تعمیر کی، پھر ان کو طواف کا حکم دیا گیا اور یہ کہا گیا: تم پہلے انسان ہو اور یہ پہلا گھر ہے، جسے لوگوں کے لیے تعمیر کیا گیا۔ (ملخص از فتح الباری: ۶/ ۵۰۴ ، ۴۹۶) یہ روایات جیسی بھی ہیں، بہرحال معلوم یہی ہوتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام سے قبل کعبہ کی تعمیر کی گئی تھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو پہلا گھر قرار دیا ہے، جبکہ یہ قطعی بات ہے کہ ابراہیم علیہ السلام سے پہلے آنے والے انبیا و رسل اور ان کی امتوں کے عبادت خانے ہوتے تھے، اس کا منطقی نتیجہیہ ہے کہ مسجد حرام کی تعمیر پہلے ہوئی ہو گی۔ واللّٰہ اعلم بالصواب۔ مزید درج ذیل اثر اور اس سے کیے جانے والا استدلال قابل غور ہے: سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پھر ابراہیم علیہ السلام ، سیدہ ہاجر اور ان کے بیٹے اسماعیل کو لے کر آئے اور ان کو بیت اللہ کے پاس ٹھہرایا اور ان کے پاس ایک تھیلا کھجوروں کا اور ایک مشکیز ہ پانی رکھا اور واپس چل دیئے۔ ام اسماعیل ان کے پیچھے چلیں اور بار بار ان سے کہا: ابراہیم! کہاں جا رہے ہو، کیا ہمیں اس وادی میں چھوڑ چلے ہو، جہاں کوئی انسان اور کوئی چیز نہیں ہے؟ لیکن ابراہیم علیہ السلام نے کوئی توجہ نہ کی۔ پھر ام اسماعیل نے کہا: کیا اللہ نے آپ کو اس طرح کرنے کا حکم دیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے کہا: جی ہاں۔ پھر انھوں نے کہا: تو پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا… جب ابراہیم علیہ السلام ایک ٹیلے کے پاس پہنچے اور ام اسماعیل اور اسماعیل سے اوجھل ہوئے تو بیت اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا مانگی: {رَبَّنَا اِنِّیْ أَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ} یعنی: اے ہمارے ربّ! میں اپنی اولاد کو تیرے حرمت والے گھر کے پاس ایسی وادی میں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جہاں کوئی کھیتی نہیں ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۳۶۴) غور فرمائیں کہ اس واقعہ کے بعد ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کی تھی، لیکن اس آیت اور واقعہ میں واضح الفاظ میں بیت اللہ کا ذکر کیا جا رہا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہاں پہلے سے اللہ تعالیٰ کا یہ گھر موجود تھا، بعد میں ابراہیم علیہ السلام اس کی تجدید کی۔ واللہ اعلم بالصواب۔
1316
Sahih
۔ (۱۳۱۷) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطِّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ بَنٰی لِلّٰہِ مَسْجِداً یُذْ کَرُ فِیْہِ اسْمُ اللّٰہِ تَعَالٰی بَنیَ اللّٰہُ لَہُ بِہِ بِیْتًا فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶)
سیّدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اللہ کے لیے ایسی مسجد بنائی جس میں اللہ کا ذکر کیا جائے تو اللہ اس کے لیے اس کے بدلے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔
Takhreej
(۱۳۱۷) تخر یـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۷۳۵، ۲۷۵۸، وابن حبان: ۱۶۰۸، ۴۶۲۸ (انظر: ۱۲۶)
Explanation
فوائد:… مسجد بنانے والے کا جنت میں گھر اس کی بنائی ہوئی مسجد کی مثل ہو گا۔ اس حدیث میں مثل سے کیا مراد ہے؟ مختلف جوابات دیئے گئے ہیں: ۱۔ شرف، فضل اور توقیر میں مماثلت مراد ہے، یعنی مسجد شرف والا گھر ہے، اسی طرح اس کا بدلہ بھی شرف والا ہو گا۔ ۲۔ گھر کے مسمّی میں مماثلت مراد ہے، یعنی جیسے اس نے اللہ کا گھر بنایا، اسی طرح اللہ بھی اسے ایک گھر عطا کرے گا، رہا مسئلہ نوعیت و کیفیت و کمیّت کا تو جنت اور دنیا کی چیزوں میں کوئی مماثلت نہیں پائی جاتی، ماسوائے ناموں کے۔ ۳۔مماثلت سے مراد مسجد کی دنیوی گھروں پر فضیلت مراد ہے، یعنی جیسے دنیا میں مسجد تمام دوسرے گھروں سے افضل ہوتی ہے، اسی طرح ایسے شخص کا گھر جنت میں اعلی و افضل ہو گا۔ حافظ ابن حجر نے کہا: لفظ مثل کے دو استعمالات ہیں: (۱) مطلق افراد کے لیے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَقَالُوْا أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا} اور(۲) مطابقت کے لیے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {أُمَمٌ أَمْثَالُکُمْ} اگر پہلے معنی کو سامنے رکھا جائے تو زیادہ عمارتیں بھی ہو سکتی ہیں، اس سے مِثْلَہ پر وارد ہونے والے دس گناہ نیکی والے اشکال کا جواب بھی مل جاتا ہے … بہترین جواب یہ ہے کہ مثلیّت سے مراد کمیّت ہی ہے، لیکن ظاہر بات ہے کہ کیفیت میں جنت والا گھر بہت بہتر ہو گا، کیونکہ کتنے ہی ایسے گھر موجود ہیں، جو بیسیوں بلکہ سینکڑوں گھروں سے بہتر ہوتے ہیںیا پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مماثلت سے مراد جنسِ عمارت ہے، یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر کیا، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو بدلے میں گھر ہی عطا کرے گا۔ (فتح الباری: ۱/ ۷۱۸)
1317
Sahih
۔ (۱۳۱۸) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ بَنٰی لِلّٰہِ مَسْجِداً بَنیَ اللّٰہُ لَہُ مِثْلَہُ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۴۳۴)
سیّدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : جس شخص نے اللہ کے لیے مسجد بنائی اللہ اس کے لیے اس کی مثل جنت میں (گھر) بنائے گا۔
Takhreej
(۱۳۱۸) تخر یـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ البخاری: ۴۵۰، ومسلم: ۵۳۳، والترمذی: ۳۱۸، وابن ماجہ: ۷۳۶(انظر: ۴۳۴)
1318
Sahih
۔ (۱۳۱۹) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبِ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ (عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو ابْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌)عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ بَنَی لِلّٰہِ مَسْجَداً بُنِیَ لَہُ بَیْتٌ أَوْسَعُ مِنْہُ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۷۰۵۶)
عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اللہ کے لیے مسجد بنائی، جنت میں اس کے لیے اس سے وسیع گھر بنایا جائے گا۔
Takhreej
(۱۳۱۹) تخر یـج: …صحیح دون لفظ اوسع ، وھذا اسناد ضعیف۔ الحجاج بن أرطاۃ کثیر الخطأ والتدلیس (انظر: ۷۰۵۶) لکن ورد لفظۃ اوسع فی الحدیث الآتی ایضا، وفی سندہ محمود بن عمرو وفیہ جہالۃ، فھو یشھد لہ ان شاء اللہ تعالی۔
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں اوسع کا لفظ ثابت نہیں ہو رہا، اس لیے اس لفظ کے علاوہ حدیث کو صحیح سمجھا جائے۔ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ مثلیت یا مماثلت سے مراد یہ نہیں کہ ہر اعتبار سے مسجد اور جنت والے گھر میں برابری ہو گی، تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔
1319
Sahih
۔ (۱۳۲۰) وَعَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۲۸۱۳۶)
سیدہ اسما بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۰) تخر یـج: …صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح معانی الآثار : ۱۵۵۴، والطبرانی فی الکبیر : ۲۴/ ۴۶۸، وفی الاوسط : ۸۴۵۴ (انظر: ۲۷۶۱۲)
1320
Sahih
۔ (۱۳۲۱) وَعَنْ بِشْرِ بْنِ حَیَّانَ قَالَ: جَائَ وَاثِلَۃُ بْنُ الْأَ سْقَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَنَحْنُ نَبْنِیْ مَسْجِدَنَا، قَالَ فَوَقَفَ عَلَیْنَا فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ بَنٰی لِلّٰہِ مَسْجِداً یُصَلّٰی فِیْہِ بَنَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُ فِی الْجَنَّۃِ أَفْضَلَ مِنْہُ۔)) قَالَ أَ بُو عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَقَدْ سَمِعْتُہُ مِنْ ھَیْثَمِ بْنِ خَارِجَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۰۱)
بشر بن حیان نے کہتے ہیں: ہم اپنی مسجد بنا رہے تھے، سیّدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے پاس آ کر کھڑے ہوئے، سلام کیا اور کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جس شخص نے اللہ کے لیے ایسی مسجد بنائی جس میں نماز پڑھی جاتی ہو، اللہ تعالیٰ جنت میں اُس کے لیے اِس سے بہتر گھربناتا ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۱) تخر یـج: …حدیث صحیح بالشواھد، وھذا اسناد ضعیف ۔أخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر : ۲/ ۷۱، والطبرانی فی الکبیر : ۲۲/ ۲۱۳، وابن عدی فی الکامل : ۲/ ۷۳۶ (انظر: ۱۶۰۰۵)
1321
Sahih
۔ (۱۳۲۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَن بَنٰی لِلّٰہِ مَسْجِدًا وَلَوْ کَمَفْحَصِ قَطاَۃٍ لِبَیْضِہَا بَنیَ اللّٰہُ لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۷)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((جس شخص نے اللہ کے لیے مسجد بنائی ، خواہ وہ فاختہ پرندے کے انڈا دینے کے لیے بیٹھنے والے گھونسلے جتنی کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔
Takhreej
(۱۳۲۲) تخر یـج: …صحیح لغیرہ۔ أخرجہ البزار: ۴۰۲، والطیالسی: ۲۶۱۷، وابن ابی شیبۃ: ۱/ ۳۱۰ (انظر : ۲۱۵۷)
Explanation
فوائد:… سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَنْ بَنٰی مَسْجِدًا لِلّٰہِ کَمَفْحَصِ قَطَاۃٍ اَوْ اَصْغَرَ بَنَی اللّٰہُ لَہٗبَیْتًا فِیْ الْجَنَّۃِ۔)) یعنی: جو شخص فاختہ کے انڈے دینے کی جگہ کے برابر یا اس سے بھی چھوٹی مسجد بنائے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔ (ابن ماجہ: ۷۳۸) یقینا اتنی جگہ نماز کے لیے ناکافی ہے، اس لیے ان الفاظ کو مبالغہ پر محمول کیا جائے گا، سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایت سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ایک ضرب المثل ہو اور اس سے مراد چھوٹی سی مسجد ہو، اس سے بڑی مسجد کے اجر و ثواب کا اندازہ سامعین خود کر لیں گے۔ ایک معنییہ بیان کیا گیا ہے کہ مختلف لوگ ایک مسجد کی تعمیر میں حصہ لیتے ہیں اور بعض افراد کا چندہ واقعی اس پرندے کے گھونسلے کی جگہ کی قیمت کے برابر ہوتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اتنی مقدار کی بھی قدر کرتا ہے۔
1322
Sahih
۔ (۱۳۲۳) عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ بَنٰی لِلّٰہِ مَسْجِدًا لِیُذْ کَرَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْہِ بَنَی اللّٰہُ لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ، وَمَنْ أَعْتَقَ نَفْسًا مُسْلِمَۃً کَانَتْ فِدْیَتَہُ مِنْ جَہَنَّمَ، وَمَنْ شَابَ شَیْبَۃً فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ کَانَتْ لَہُ نُورًا یَوْمَ الْقَیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۴۹)
سیّدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اللہ کے لیے اس لیے مسجد بنائی کہ اللہ تعالیٰ کا اس میں ذکر کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا اور جس شخص نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا تو وہ اس کے لیے جہنم کا فدیہ ہوجائے گی اور جو شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہوا تو وہ بڑھاپا اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۔
Takhreej
(۱۳۲۳) تخر یـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف لابھام الراوی عن الصنابحی۔ أخرجہ ابوداود: ۳۹۶۶ مختصرا والنسائی: ۶/ ۲۷ دون ذکر بناء المسجد (انظر: ۱۷۰۲۰، ۱۷۰۲۴)
Explanation
فوائد:… آخری جملے کی وضاحت: بوڑھا ہونے سے مراد بالوں کا سفید ہو جانا ہے، فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ((مَنْ شَابَ شَیْبَۃً فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: فِی اْلإِسْلَامِ) کَانَتْ لَہُ نُوْراً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ ذٰلِکَ: فَإِنَّ رِجَالاً یَنْتِفُوْنَ الشَّیْبَ۔ فَقَالَ: ((مَنْ شَائَ فَلْیَنْتَفِ نُوْرَہُ۔)) یعنی: جو اللہ کی راہ میںیا اسلام میں بوڑھا ہو گیا، تو یہ چیز اُس کے لیے روزِ قیامت نور ہوگا۔ اس موقع پر ایک آدمی نے کہا: کئی لوگ تو اپنے سفید بالوں کو اکھاڑ دیتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے اپنا نور اکھاڑتا رہے۔ (مسند احمد: ۶/ ۲۰، صحیحہ: ۳۳۷۱) شیو کرنا ویسے بھی ملعون فعل اور سنگین جرم ہے، بہرحال جب بال سفید ہو جائیں اور عمر بڑی ہو جائے تو اس جرم کی نوعیت میں مزید شدت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس سے بڑی سعادت کیا ہو سکتی ہے کہ بالوں کے سفید ہونے میں مسلمان کا اپنا کوئی دخل یا ارادہ نہیں ہوتا، لیکن جو آدمی ان کو اپنا حسن سمجھتا ہے اور ان پر صبر کرتا ہے تو یہ اس کے لیے روزِ قیامت نور ہوں گے۔ (سبحان اللہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کے عطا کئے ہوئے اس شرف کو قبول نہیں کرتا اور ان کو اکھاڑنا شروع کر دیتا ہے یا ان پر کالا رنگ ملنا شروع کر دیتا ہے، تو وہ اس فضل اور نور کا انکار کر رہا ہے جو اللہ تعالیٰ اسے بغیر کسی مطالبے کے عطا کرنا چاہتے ہیں۔ یادرہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفید بالوں کو مہندی وغیرہ سے رنگنے اور کالے رنگ سے اجتناب کرنے کی تعلیم دی ہے، لہٰذا مہندی وغیرہ لگانے سے اس فضیلت میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔
1323
Sahih

Chapters

12