TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مساجد کو ناپسندیدہ بدبوؤں سے محفوظ رکھنا - مساجد کو ناپسندیدہ بدبوؤں سے محفوظ رکھنا - مساجد کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 6 of مساجد کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 12 · 6 Hadith
۔ (۱۳۵۲) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ فِیْ خُطْبَۃٍ لَہُ: ثُمَّ إِنَّکُمْ أَیُّہَا النَّاسُ تَأْکُلُوْنَ مِنْ شَجَرَتَیْنِ لَا أُرَاھُمَا إِلَّا خَبِیْثَتَیْنِ، ھٰذَا الثُّوْمُ وَالْبَصَلُ، وَاَیْمُ اللّٰہِ! لَقَدْکُنْتُ أَرَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَجِدُ رِیْحَہَا مِنَ الرَّجُلِ فَیَأْمُرُ بِہٖفَیُؤْخَذُ بِیَدِہِ فَیُخْرَجُ بِہِ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتّٰییُؤْتٰی بِہِ الْبَقَیْعَ، فَمَنْ أَکَلَہَا لَابُدَّ، فَلْیُمِتْہَا طَبْخًا۔ (مسند احمد: ۱۸۶)
سیّدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا: لوگو! تم دو درخت تھوم اور پیاز کھاتے ہو، میں تو انہیں خبیث (مکروہ) ہی سمجھتا ہوں، اللہ کی قسم! میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھتا تھا، جب آپ کسی آدمی سے ان کی بو محسوس کرتے تو اس کے متعلق ایسا حکم دیتے کہ اس کا ہاتھ پکڑ کراسے مسجدسے باہر نکال دیا جاتا تھا،یہاں تک کہ اسے بقیع مقام پر لایا جاتا۔ اگر کسی شخص نے ان کو کھانا ہی ہے تو پکا کر (ان کی بو کو) ختم کر لیا کرے۔
Takhreej
(۱۳۵۲) تخر یـج: …أخرجہ مسلم: ۵۶۷، ۱۶۱۷ (انظر: ۱۸۶)
1352
Sahih
۔ (۱۳۵۳) عَنْ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ فَـلَا یَأْتِیَنَّ الْمَسَاجِدَ۔)) (مسند احمد: ۴۷۱۵)
سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص یہ درخت (پیازیا لہسن ) کھالے وہ اللہ تعالیٰ کے گھروں(یعنی مسجدوں) میں نہ آئے۔
Takhreej
(۱۳۵۳) تخر یـج: …أخرجہ البخاری: ۸۵۳، مسلم: ۵۶۱ (انظر: ۴۶۱۹)
1353
Sahih
۔ (۱۳۵۴) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِیَعْنِی الثُّومَ فَـلَا یُؤْذِیَنَّا فِی مَسْجِدِنَا۔)) وَقَالَ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ: ((فَـلَا یَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا وَلَا یُؤْذِیَنَّا ِبرِیِحِ الثُّومِ۔)) (مسند احمد: ۷۵۹۹)
سیّدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اس درخت یعنی تھوم سے کچھ کھا لیا تو وہ ہماری مسجد میںآکر ہرگز ہمیں تکلیف نہ دے۔ ایک دوسرے مقام میں فرمایا: ایسا شخص نہ ہماری مسجدکے قریب آئے اور نہ تھوم کی بو سے ہمیںاذیت پہنچائے۔
Takhreej
(۱۳۵۴) تخر یـج: …أخرجہ مسلم: ۵۶۳ (انظر: ۷۶۱۰)
1354
Sahih
۔ (۱۳۵۵) عَنْ أَبِیْ سَعِیدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ لَمْ نَعْدُ أَنْ فُتِحَتْ خَیْبِرُ وَقَعْنَا فِی تِلْکَ الْبَقَلَۃِ فَأَکَلْنَا مِنْہَا أَکْلاً شَدِیْدًا وَنَاسٌ جِیَاعٌ، ثُمَّ رُحْنَا إِلیَ الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الرِّیَحَ، فَقَالَ: ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ الْخَبِیْثَۃِ شَیْئًا فَـلَا یَقْرَبَنَّا فِی الْمَسْجِدِ۔)) فَقَالَ النَّاسُ: حُرِّمَتْ حُرِّمَتْ! فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَیّْہَا النَّاسُ، إِنَّہُ لَیْسَ لِیْ تَحْرِیْمُ مَا أَحَلَّ اللّٰہُ وَلَکِنَّھَا شَجَرَۃٌ أَکْرَہُ رِیْحَھَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۰۴)
سیّدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم خیبر کی فتح سے آگے نہیں بڑھے تھے کہ سبزی (کھیت) میں گھس گئے، لوگوں کو بھوک لگی ہوئی تھی، اس لیے ہم نے اسے خوب کھایا، پھر ہم مسجد میں چلے گئے ، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بو محسوس کی تو فرمایا: جو شخص اس خبیث (مکروہ) درخت سے کچھ کھا لے تو وہ مسجد میں ہمارے قریب نہ آئے۔ لوگ کہنے لگے: یہ حرام ہو گیایہ حرام ہو گیا۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خبر موصول ہوئی تو آپ نے فرمایا: لوگو! مجھے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ اشیاء کوحرام کرنے کا کوئی اختیار نہیںہے، دراصل یہ ایسا درخت ہے کہ جس کی بو مجھے ناپسند لگتی ہے۔
Takhreej
(۱۳۵۵) تخر یـج: …أخرجہ مسلم: ۵۶۵ (انظر: ۱۱۰۸۴، ۱۱۵۸۳)
1355
Sahih
۔ (۱۳۵۶) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَکَلَ ثُوْمًا أَوْبَصَلًا فَلْیَعْتَزِلْنَا، أَوْقَالَ فَلْیَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْیَقْعُدْ فِی بَیْتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۳۷۳)
سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص تھوم یا پیاز کھا لے تو وہ ہم سے یا ہماری مسجد سے علیحدہ رہے اور اپنے گھر میں ہی بیٹھا رہے۔
Takhreej
(۱۳۵۶) تخر یـج: …أخرجہ أخرجہ البخاری: ۸۵۵، ۵۴۵۲، ومسلم: ۵۶۴ (انظر: ۱۵۲۹۹)
1356
Sahih
۔ (۱۳۵۷) عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَکَلْتُ ثُومًا ثُمَّ أَتَیْتُ مُصَلَّی النَّبیِِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَجَدْتُہُ قَدْ سَبَقَنِیْ بِرَکْعَۃٍ فَلَمَّا صَلّٰی قُمْتُ أَقْضِیْ فَوَجَدَ رِیَحَ الثُّوْمِ، فَقَالَ: ((مَنْ أَکَلَ ھٰذِہِ الْبَقْلَۃَ فَـلَا یَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا حَتّٰییَذْھَبَ رِیْحُہَا۔)) قَالَ: فَلَمَّا قَضَیْتُ الصَّلَاۃَ أَتَیْتُہُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ لِیْ عُذْراً، نَاِولْنِیْیَدَکَ، قَالَ فَوَجَدْتُہُ وَاللّٰہِ سَہْلاً، فَنَاوَلَنِیْیَدَہُ فَأَدْخَلَہَا فِی کُمِّیْإِلٰی صَدْرِیْ فَوَجَدَہُ مَعْصُوْبًا فَقَالَ: ((إِنَّ لَکَ عُذْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۹۲)
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں تھوم کھا کرنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مسجد میں آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک رکعت پڑھ چکے تھے، اس لیے جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نماز فارغ ہوئے تو میں ایک رکعت ادا کرنیکے لیے کھڑا ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تھوم کی بو محسوس کی اور فرمایا: جو شخص یہ سبزی کھائے تو وہ اس کی بو ختم ہونے تک ہر گز ہماری مسجد کے قریب نہ آیا کرے۔ مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نماز پوری کر کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا عذر ہے، اپنا ہاتھ مجھے دیجئے۔ وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم میں نے آپ کو نرم پایا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اپنا ہاتھ دے دیا، پھر اسے میری آستین میں سے داخل کر کے سینے تک پہنچایا اور میرے سینے پر بندھی ہوئی پٹی محسوس کر کے فرمایا: واقعی تیرا عذر ہے۔
Takhreej
(۱۳۵۷) تخر یـج: …رجالہ ثقات رجال الشیخین، غیر ان الدارقطنی قد رجح ارسالہ، وقال الألبانی: صحیح۔ أخرجہ ابوداود:۳۸۲۶، وابن ابی شیبۃ: ۲/ ۵۱۰، وابن حبان: ۲۰۹۵، وابن خزیمۃ: ۱۶۷۲ (انظر: ۱۸۱۷۶، ۱۸۲۰۵)
Explanation
فوائد:… تمام روایات اپنے مفہوم میں انتہائی واضح ہیں اور ان سے کیا جانے والا استدلال بھی انتہائی بیّن ہے، لیکن صورتحال یہ ہے کہ موجودہ دور میں انسان کی خواہشات، چاہتیں اور زبان کے چسقے اس کے مذہب پر غالب آ گئے ہیں، ہمارے ہاں کھانے کے ساتھ پیاز اور مولی وغیرہ بطور سلاد استعمال کئے جاتے ہیں۔ روکنے ٹوکنے کے باوجود کھانے والوں کی توجہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمودات کی طرف جھکاؤ ہی اختیار نہیں کرتی اور بعض احباب وقت کو ٹالنے کے لیے اتنا تو کہہ دیتے ہیں کہ پیاز وغیرہ کے بعد چینییا گڑ وغیرہ کا استعمال کیا جائے تو بدبو ختم ہو جاتی ہے، لیکن وہ خود یہ نسخہ استعمال کئے بغیر مساجد کی طرف چل دیتے ہیں۔ فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی اذاں رہ گئی مگر روحِ بلالی نہ رہی اس بے توجہی کا مطلب یہ ہوا کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نافرمانی کرنا چاہتے ہیںیا فرشتوں کی قربت سے دور رہنا چاہتے یا ان کو تکلیف پہنچانا چاہتے ہیں۔ سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ الْمُنْتِنَۃِ فَـلَایَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَاِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تَتَأَذّٰی مِمَّا یَتَأَذّٰی مِنْہُ الْاِنْسُ۔)) (صحیح بخاری، صحیح مسلم) یعنی: جو آدمی اس بدبودار درخت کا پھل (پیاز) کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے، کیونکہ فرشتے اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں، جس سے انسان کرتے ہیں۔ سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ جب وہ کسی آدمی سے پیاز اور لہسن کی بو محسوس کرتے تو اسے بقیع کی طرف نکل جانے کا حکم دے دیتے۔ (مسلم: ۵۶۷) آخر کیا وجہ ہے کہ اس قسم کی وعیدوں کے باوجود ہم ان احادیث کے مفاہیم پر غور نہیں کرتے اور اپنی طبیعت اور زبان کے چسقے کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں۔ کیا کچا پیاز وغیرہ کھانے والے آدمی کے لیےیہ وعید کافی نہیں ہے کہ اگر مسجد نبوی ہوتی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم موجود ہوتے تو اسے مسجد نبوی سے باہر نکال دیا جاتا؟ سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ((نَھٰی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الثُّوْمِ وَالْبَصَلِ وَالْکُرَاثِ۔)) یعنی: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لہسن، پیاز اور گندنا کھانے سے منع فرمایا۔ (مسند طیالسی: ۲۱۷۱، صحیحہ:۲۳۸۹) گندنا:… ایک بدبودار قسم کی ترکاری جو پیاز کے مشابہ ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ اگر ان بدبودار چیزوں کو پکا کر ان کی بدبو ختم کر دی جائے تو ان کا کھانا جائز ہو گا۔ممکن ہے کہ اس ضمن میں ہم درج ذیل حدیث سے سبق حاصل کر لیں: حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں مسواک کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ یُصَلِّی أَتَاہُ الْمَلَکُ فَقَامَ خَلْفَہٗیَسْتَمِعُ الْقُرْآنَ وَیَدْنُوْ فَلا یَزَالُیَسْتَمِعُ وَیَدْنُوْ حَتّٰییَضَعَ فَاہُ عَلٰی فِیْہِ فَـلَا یَقْرَأُ آیَۃً إِلاَّ کَانَتْ فِی جَوْفِ الْمَلَکِ۔)) یعنی: جب بندہ نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس کے پیچھے کھڑے ہو کر قرآن مجید سنتا اورقریب ہوتا رہتا ہے، وہ قرآن مجید سنتے سنتے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ اپنا منہ اس کے منہ پر رکھ دیتا ہے اور نمازی جو آیت بھی پڑتا ہے فرشتہ اسے اپنے اندر سما لیتا ہے۔ (سنن بیہقی: ۱/ ۳۸، مسند بزار: ص ۶۰، صحیحہ: ۱۲۱۳)
1357
Sahih

Chapters

12