مسنداحمد

Musnad Ahmad

نمازی کی جائے نماز، کپڑے اور بدن کا نجاست سے پاک ہونے کا بیان اور جو نجاست معلوم نہ ہو اس سے در گزر کا بیان

چٹائی، ٹاٹوں،پوستینوںاور اوڑھنیوں پر نماز پڑھنے کا بیان

۔ (۱۴۳۷) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی حَصِیْرٍ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۸۷

سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھی۔

۔ (۱۴۳۸) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَنَعَ بَعْضُ عُمُوْمَتِیْ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَعَامًا فَقَالَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ أُحِبُّ أَنْ تَأُکُلَ فِیْ بَیْتِیْ، قَالَ فَأَتَاہُ وَفِیِ الْبَیْتِ فَحَلٌ مِنْ تِلْکَ الْفُحُوْلِ، فَأَمَرَ بِجَانِبٍ مِنْہُ فَکُنِسَ وَرُشَّ فَصَلّٰی وَصَلَّیْنَا مَعَہُ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۲۷)

سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میرے ایک چچے نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر کہا؛ اے اللہ کے رسول! میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے گھر میں کھانا کھائیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے، گھر میں کھجور کی بنی ہوئی چٹائیوںمیںسے ایک چٹائیپڑی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی ایک طرف کے بارے میں حکم فرمایا تو اسے صاف کر کے اس پر پانی چھڑکا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔

۔ (۱۴۳۹) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رُبَمَا تَحْضُرُہُ الصَّلَاۃُ وَھُوَ فِیْ بَیْتِنَا فَیَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِیْ تَحْتَہُ فَیُکْنَسُ ثُمَّ یُنْضَحُ بِالْمَائِ ثُمَّ یَقُوْمُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَقُوْمُ خَلْفَہُ فَیُصَلِّیْ بِنَا قَالَ وَکَانَ بِسَاطُہُمْ مِنْ جَرِیْدِ النَّخْلِ۔ (مسند احمد: ۱۳۲۴۱)

سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بسا اوقات ہمارے گھر میں تشریف لاتے تھے، اگر نماز کا وقت ہوجاتا تو آپ اس چٹائی کے بارے میں حکم دیتے جو آپ کے نیچے ہوتی تھی، پس اسے صاف کرکے اس پر پانی چھڑک دیا جاتا۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر کھڑے ہوتے اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوجاتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے۔ ان کییہ چٹائی کجھور کے پتوں سے بنی ہوتی تھی۔

۔ (۱۴۴۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی عَلٰی بِسَاطٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۱)

سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چٹائی پر نماز پڑھی۔

۔ (۱۴۴۱) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِیْ بَیْتِ أُمِّ حَرَامٍ عَلٰی بِسَاطٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۹۴۴)

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ام حرام کے گھر ٹاٹ پر نماز پڑھی تھی۔

۔ (۱۴۴۲) عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ أَوْیَسْتَحِبُّ أَنْ یُصَلِّیَ عَلٰی فَرْوَۃٍ مَدْبُوْغَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۸۴۱۴)

سیّدنامغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رنگے ہوئے چمڑے پر نماز پڑھتے تھے یا نماز پڑھنا پسند فرماتے تھے۔

۔ (۱۴۴۳) عَنْ مَیْمُونَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ عَلَی الْخُمْرَۃِ فَیَسْجُدُ فَیُصِیْبُنِیْ ثَوْبُہُ وَأَنَا إِلٰی جَنْبِہِ وَأَنَا حَائِضٌ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۴۴)

زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم او ڑھنی پر نماز پڑھ رہے ہوتے تھے، جبکہ میں حیض کی حالت میں آپ کے پہلو میں ہوتی تھی، جب آپ سجدہ کرتے تو آپ کا کپڑا مجھے لگتا رہتا تھا۔

۔ (۱۴۴۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ عَلَی الْخُمْرَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۴۲۶)

سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ا وڑھنی پر نماز پڑ ھا کرتے تھے ۔

۔ (۱۴۴۵) عَنْ مُعَاِویَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ قُلْتُ لِأُمِّ حَبِیْبَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ رَضِیَ عَنْہَا: أَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ فِی الثَّوْبِ الَّذِیْیَنَامُ مَعَکِ فِیْہِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، مَاَلَمْ یَرَفِیْہِ أَذًی۔ (مسند احمد: ۲۷۲۹۶)

سیّدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کپڑے میں نماز پڑھ لیتے تھے، جس میں آپ کے ساتھ سوتے تھے؟ انہوںنے جواب دیا: ہاں، لیکن جب تک اس میں کوئی گندگی نہ دیکھتے تھے۔

۔ (۱۴۴۶) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُصَلِّیْ فِیْ ثَوْبِیَ الَّذِیْ آتِی فِیْہِ أَھْلِیْ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، إِلَّا أَنْ تَرٰی فِیْہِ شَیْئًا تَغْسِلُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۱۱۰)

سیّدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پو چھا: کیا میںاس کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں جس میں اپنی بیوی کے پاس آتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، لیکن اگر تو اس میں کوئی(گندگی والی ) چیز دیکھے تو اسے دھو لیا کر۔

۔ (۱۴۴۸) عَنْ أَبِیْ قَتَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَحْمِلُ أُمَامَۃَ أَوْ أُمَیْمَۃَ بِنْتَ أَبِی الْعَاصِ وَھِیَ بِنْتُ زَیْنَبَیَحْمِلُہَا إِذَا قَامَ وَیَضَعُہَا إِذَا رَکَعَ حَتّٰی فَرَغَ۔ (مسند احمد: ۲۲۸۸۶)

سیّدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو امامۃیا امیمہ بنت ابی العاص اٹھائے ہوئے دیکھا،یہ سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی بیٹی تھی، جب آپ کھڑے ہوتے تو اسے اٹھالیتے تھے اور جب رکوع کرتے تو اسے نیچے رکھ دیتے حتی کہ آپ نماز سے فارغ ہوجاتے ۔