سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی نماز کے آخر میں یہ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! ولید بن ولید، سلمۃ بن ہشام، عیاش بن ربیعہ اور کمزور مسلمانوں کو چھٹکارا عطا فرما، جو کسی حیلے کی طاقت رکھتے ہیں نہ نکلنے کا کوئی راستہ پاتے ہیں۔
سیدنابراء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح اور مغرب کی نماز میں قنوت کی۔
سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز میں جب آخری رکوع سے سر اٹھاتے تو قنوت کرتے اورکہتے: اے اللہ ! ولید بن ولید کو نجات دلا، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دلا،اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دلا اے اللہ! کمزور مؤمنوں کو نجات دلا اے اللہ! مضر پر اپنا عذاب سخت کردے، اے اللہ! اسے ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانے کی قحط سالی کی طرح قحط سالی کردے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تمہارے سامنے رکھوںگا،ایک روایت میں ہے:بلاشبہ نماز کے لحاظ سے میں تم میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوں، پس سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ظہر، عشاء اورفجر کی نمازوں کی آخری رکعت میں قنوت کیا کرتے تھے، جب سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تھے، اس میں مؤمنوں کے لیے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت کرتے تھے۔