مسنداحمد

Musnad Ahmad

دعائے قنوت کے ابواب

ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو صبح کی نماز میں مصائب کے علاوہ قنوت نہ کرنے کے قائل ہیں

۔ (۱۷۷۳) عَنْ أَبِیْ مَالِکٍ الْأَشْجَعِیِّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِیْ: یَاأَبَتِ! إِنَّکَ قَدْ صَلَّیْتَ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعُمَرَوَ عُثْمَانَ وَعَلَیٍّ ھٰہُنَا بِالْکُوْفَۃِ قَرِیْبًا مِنْ خَمْسِ سِنِیْنَ، أَکَانُوْا یَقْنُتُوْنَ؟ قَالَ: أَیْ بُنَیَّ مُحْدَثٌ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۷۴)

ابو مالک اشجعی کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے کہا: ا ے ا باجان: بلاشبہ آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدناعمر، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی اقتدا میں اور یہاں کوفہ میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پیچھے پانچ سال نمازیں پڑھی ہیں، تو کیایہ لوگ قنوت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: اے میرے پیارے بیٹےیہ ایک نئی چیز ہے۔

۔ (۱۷۷۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کَانَ أَبِیْ قَدْ صَلَّی خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ ابْنُ سِتَّ عَشْرَۃَ سَنَۃً وَأَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ، فَقُلْتَ لَہُ: أَکَانُوْا یَقْنُتُوْنَ ؟ قَالَ: لَا، أَیْ بُنیَّ مُحْدَثٌ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۵۱)

۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: میرے باپ نے سولہ سال کی عمر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تھی، پھر انھوں نے سیدناابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ( کے پیچھے بھی نماز پڑھی)میں نے ان سے کہا: کیا وہ قنوت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، میرے پیارے بیٹےیہ نئی چیز ہے۔