۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں رکوع کیا، پھر سر اٹھا یا اور یہ دعا کی:اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دلا … … اے اللہ! اس کو ان پر یوسف علیہ السلام والا قحط بنا دے۔
ابو مالک اشجعی کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے کہا: ا ے ا باجان: بلاشبہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدناعمر، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کی اقتدا میں اور یہاں کوفہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے پانچ سال نمازیں پڑھی ہیں، تو کیایہ لوگ قنوت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: اے میرے پیارے بیٹےیہ ایک نئی چیز ہے۔
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: میرے باپ نے سولہ سال کی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تھی، پھر انھوں نے سیدناابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما ( کے پیچھے بھی نماز پڑھی)میں نے ان سے کہا: کیا وہ قنوت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، میرے پیارے بیٹےیہ نئی چیز ہے۔