ابن اسحاق کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نماز کے درمیان اور اس کے آخر میں بائیں ران کو بچھانے، دائیں قدم کو کھڑا رکھنے، دائیں ہاتھ کو ران پر رکھنے اور انگلی کے ساتھ ربّ تعالیٰ کی توحید بیان کرنے کے بارے میں مجھے عمران بن ابو انس نے بیان کیا، … … مدینہ منورہ کے ایک باشندے نے کہا: میں نے مسجد بنو غفار کی مسجد میں نماز پڑھی، جب میں بیٹھا تو بائیں ران کو بچھا دیا اور انگشت ِ شہادت کو گاڑھ دیا، مجھے صحابی رسول خفاف بن ایماء رضی اللہ عنہ نے اس طرح کرتے ہوئے دیکھا، جب میں نماز سے فارغ ہواتو انھوں نے مجھے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! تو اس طرح اپنی انگلی کو کیوں گاڑھا ہوا ہے؟ میں نے کہا: آپ کون سے چیز کا انکار کرنا چاہتے ہیں، بس میں نے لوگوں کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا؟ انھوں نے کہا: بیشک تو نے سنت کے مطابق کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز پڑھتے تھے تو اسی طرح کرتے تھے اور ربّ تعالیٰ کی توحید بیان کرتے تھے، جبکہ مشرکین کہتے تھے: محمد اپنی انگلی سے اس طرح کر کے جادو کرتا ہے، اور انہوں نے جھوٹ بولا ہے۔
طاووس کہتے ہیں: ہم نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے قدموں پر بیٹھنے کے بارے میں پوچھا،انہوں نے کہا: یہ سنت ہے۔ ہم نے کہا: ہم تو اس کو آدمی کی اکھڑ مزاجی اور اجڈ پن خیال کرتے تھے۔ انھوں نے کہا: یہ تو تیری نبی کی سنت ہے۔
۔ (دوسری سند)طاووس کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کودیکھا کہ وہ پاؤں کو کھڑا کر کے ان پر بیٹھ جاتے۔ میں نے کہا: لوگ تو اس کیفیت کو اکھڑ مزاجی اور اجڈ پن خیال کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا: یہ تو تیری نبی کی سنت ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں:آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر دو رکعتوں میں التحیات پڑھتے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناپسند کرتے تھے کہ آدمی (سجدے میں) اپنے بازؤں کو درندے کی طرح بچھائیں، آپ بائیں پاؤں کو بچھا لیتے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے اور آپ شیطان کی بیٹھک سے منع فرماتے تھے اور آپ نمازکو سلام کے ساتھ ختم کرتے تھے۔
یہ مکمل حدیث صحیح ہے، مذکورہ الفاظ کو شاذ قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہیہ ثقہ کی ایسی زیادتی نہیں ہے، جس سے ثقات کی روایت کی نفی ہو رہی ہو،ثقات کی روایت کے الفاظ وَأَشَارَ باِلسَّبَّابَۃِ اور زائدہ بن قدامہ کی روایت کے الفاظ ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَہُ فَرَأَیْتُہُیُحَرِّکُہَایَدْعُوْبِہَا میں سرے سے کوئی تضاد ہی نہیں ہے، امام البانی نے بھی اس کو صحیح کہا۔
سیدناوائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر آپ بیٹھے،بایاں پاؤں بچھا دیا، بائیں ہتھیلی ران اور بائیں گھٹنے پر رکھی اور دائیں کہنی کو بائیں ران سے اٹھا کر رکھا، پھر أپنی انگلیاں بند کرکے حلقہ بنایا۔ اور ایک روایت میں ہے: انگوٹھے اور درمیانی (انگلی) کا حلقہ بنایا اورسبابہ سے اشارہ کیا۔ پھر اپنی انگلی اٹھائی تو میں نے آپ کو دیکھا آپ اسے ہلا کر اس کے ساتھ دعا کرتے تھے۔
نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے، اپنی انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنی نظر اسی کے پیچھے لگاتے، پھر یہ بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ یہ انگلی شیطان پر لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے تو دایاں ہاتھ دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھتے اورسبابہ کے ساتھ اشارہ کرتے اور آپ کی نظر آپ کے اشارے سے آگے نہ گزرتی تھی۔
علی بن عبد الرحمن معاوی کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتے ہوئے دیکھ لیا، جب وہ فارغ ہوئے تو مجھے ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا: تم اس طرح کیا کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرتے تھے۔ میں نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں بیٹھتے تو دائیں ہتھیلی دائیں ران پر رکھتے اور ساری انگلیاں بند کر لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے اشارہ کرتے اور بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھتے۔
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیٹھتے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی دائیں انگلی کو اٹھا کر اس کے ساتھ دعا کرتے اوراپنا بایاں ہاتھ گھٹنے پر پھیلا کر رکھتے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے نماز میں اپنا ہاتھ گرایا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: اس طرح نہ بیٹھ،یہ ان لوگوں کے بیٹھنے کی کیفیت ہے، جن کو عذاب دیا جاتا ہے۔
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی نماز میں اپنے دونوں ہاتھوں پر ٹیک لگا کر بیٹھے۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتوں(کے تشہد میں اس طرح ہوتے کہ) گویا کہ آپ گرم پتھر پر ہیں، میںنے کہا: یہاں تک کہ کھڑے ہو جاتے؟ انھوں نے کہا: حتی کہ آپ کھڑے ہوجاتے۔
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا:گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دو رکعتوں میں بیٹھنا گرم پتھر پر ہوتاتھا۔
سیدناابو مسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، جبکہ ہم بھی آپ کے پاس موجود تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو ہم پہچان چکے کہ آپ پر سلام کیسے بھیجنا ہے، (اب سوال یہ ہے کہ) جب ہم نماز ادا کریں تو آپ پر درود پڑھنے کا کیا طریقہ ہے، اللہ تعالیٰ آپ پر رحمت نازل فرمائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواباً خاموش ہو گئے (اور اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم یہ چاہنے لگے کہ کاش اس آدمی نے سوال نہ کیا ہوتا، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم مجھ پر درود بھیجو تو اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْأُمِّیِّ وَعَلیَ آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَآلِ إِبْرَاھِیْمَ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْأُمِّیِّکَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاہِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: آپ سے پوچھا گیا کہ ا ے اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا باَرَکْتَ عَلٰی إِبْرَاہِیْمَ فِی الْعَالَمِیْنَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔
۔ (دوسری سند)سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے ، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سعد بن عبادہ کی مجلس میں تشریف لائے، سیدنا بشر بن سعد رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درودبھیجیں ، پس ہم آپ پر کیسے درود بھیجیں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے حتی کہ ہم یہ تمنا کرنے لگے کہ کاش اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال نہ کیا ہوتا، اتنے میں آپ نے فرمایا: تم اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ فِی الْعَاَلَمِیْنَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ اور سلام کے بارے میں تو تم جان چکے ہو۔
صحابی رسول سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز میں دعا کرتے ہوئے سنا، جبکہ اس نے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا، اور فرمایا: اس بندے نے جلدی کی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے اور دوسرے لوگوں سے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے ساتھ ابتدا کرے، پھر نبی پر درود بھیجے، پھر جو چاہے دعا کرے۔
سیدناکعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ معرفت تو ہم حاصل کر چکے ہیں کہ آپ پر سلام کیسے بھیجا جائے، اب سوال یہ ہے کہ درود بھیجنے کا کیا طریقہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔
ابن ابی لیلی کہتے ہیں: مجھے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہا: کیا میں تجھے ایک ہدیہ نہ دوں؟ (اور وہ یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ ہم نے یہ تو پہچان لیا ہے کہ آپ پر سلام کیسے بھیجا جائے، اب درود پڑھنے کا کیاطریقہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔