سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو تووہ ان چار چیزوں سے پناہ مانگا کرے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، موت کے فتنہ سے اورمسیح دجال کے شر سے۔
جناب طاؤوس نمازِ عشاء میں آخری تشہد کے بعد یہ کلمات پڑھتے تھے اور ان کو بہت عظیم سمجھتے تھے: أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَاوَ الْمَمَاتِ۔ (میںجہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں مسیح دجال کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اورمیںزندگی و موت کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔) وہ ان کو عظیم سمجھتے تھے اور ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کرتے تھے۔
سیدناعروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَفِتْنَۃِ الْمَمَاتَ، اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے اور میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں گناہ اور قرض سے)۔ کسی آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ قرض سے بہت زیادہ پناہ مانگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی مقروض ہوتا ہے تو بات کرتا ہے لیکن جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے لیکن اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
ایک صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے پوچھا: تو نماز میں کیا کہتا ہے؟ اس نے کہا: میں پہلے تشہد پڑھتا ہوں پھر اس طرح دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ مجھ سے آپ اور معاذ کے گنگنانے کی طرح نہیں گنگنایا جا سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی ان کے گرد ہی گنگناتے ہیں۔
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور دیکھا کہ ایک آدمی اپنی نماز پوری کر کے تشہد میں یہ دعا کر رہا ہے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ یَا اللَّہُ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْیَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے اللہ! جو یکتا و یگانہ ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں ہے، یہ کہ تو میرے لیے میرے گناہ بخش دے، بیشک تو بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے ، بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے۔ بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے۔ یعنی تین مرتبہ فرمایا۔
سیدناعبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز میں بیٹھ کر دعا کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی ران پر رکھتے پھر انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے۔
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں انگشت ِ شہادت کے ساتھ اشارہ کرتے تھے۔
سیدنانمیر خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں بیٹھے ہوئے تھے اور دایاں بازو دائیں ران پر رکھا ہوا تھا اور انگشت ِ شہادت کو اٹھا کر دعا کر رہے تھے، جبکہ اس انگلی کو کچھ جھکایا ہوا تھا۔
سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ دو انگلیوں کے ساتھ دعا کر رہے تھے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سعد! ایک کے ساتھ دعا کرو۔