TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز میں بال باندھنے، کنکریوں سے کھیلنے اور پھونکنے کا بیان - نماز میں بال باندھنے، کنکریوں سے کھیلنے اور پھونکنے کا بیان - نماز کو باطل کرنے والے اور اس میں مکروہ اور جائز امور کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of نماز کو باطل کرنے والے اور اس میں مکروہ اور جائز امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 14 · 10 Hadith
۔ (۱۸۹۶) عَنْ کُریْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ رَأیٰ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الْحَارِثِ یُصَلِّیْ وَرَأْسُہُ مَعْقُوْصٌ مِنْ وَرَائِہٖفَقَامَوَرَائَہُوَجَعَلَیَحُلُّہُ وَأَقَرَّ لَہُ الْآخَرُ ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: مَالَکَ وَرَأْسِیْ؟ قَالَ: إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّمَا مَثَلُ ھٰذَا کَمَثَلِ الَّذِیْیُصَلِّیْ وَھُوَ مَکْتُوْفٌ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۷)
کریب کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عبد اللہ بن حارث کو اس حالت میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ ان کے سر کے بال پیچھے سے بندھے ہوئے تھے، وہ ان کے بال کھولنے لگے اور انھوں نے بھی ان کو ایسا کرنے پر برقرار رکھا۔ لیکن وہ (نماز کے بعد) سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر متوجہ ہوئے اور کہا: آپ کو میرے سر کے ساتھ کیا تھا؟ انہوں نے کہا:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اس طرح کر کے نماز پڑھتا ہے، اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو اس حال میں نماز ادا کرتا ہے کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں۔
Takhreej
(۱۸۹۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۹۲ (انظر: ۲۷۶۷)
Explanation
فوائد:… مرفوع حدیث کا معنییہ ہے کہ جس طرح ہاتھ سجدہ کرتے ہیں، اسی طرح بال بھی سجدہ کرتے ہیں، جس طرح ہاتھوں کا بندھا ہوا ہونا مناسب نہیں، اسی طرح بالوں کا بندھا ہوا ہونا بھی نامناسب ہے۔
1896
Sahih
۔ (۱۸۹۷) عَنْ أَبِیْ رَافِعٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ (مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُّصَلِّیَ الرَّجُلُ وَشَعْرُہُ مَعْقُوصٌ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۲۶)
مولائے رسول اللہ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے بال باندھے ہوئے ہوں۔
Takhreej
(۱۸۹۷) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۰۴۲ (انظر: ۲۳۸۵۶، ۲۷۱۸۴)
Explanation
فوائد:… امام البانی رحمہ اللہ نے کہا: قدیم عربوں کییہ طبعی عادت تھی کہ جن کے لمبے بال ہوتے تھے، وہ ان کو اکٹھا کر کے باندھ لیتے تھے، اب بھی بعض علاقوں میں کچھ لوگ ایسا ہی کرتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز کی حالت میں اس طرح کرنے سے منع کر دیا اور بالوں کو کھولنے کا حکم دیا تاکہ سجدہ کی ادائیگی بدرجۂ اتم ہو سکے۔ (صحیحہ: ۲۳۸۶)
1897
Sahih
۔ (۱۸۹۸) عَنْ عَلَیِّ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْمَعَاوِیِّ قَالَ صَلَّیْتُ إِلٰی جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَلَبْتُ الْحَصٰی، فَقَالَ: لاَ تَقْلِبِ الْحَصٰی فَإِنَّہُ مِنَ الشَّیْطَانِ وَلٰکِنْ کَمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْعَلُ، کَانَ یُحَرِّکُہُ ھٰکَذَا، قَالَ أَبُوْ عَبْدِاللّٰہِ یَعْنِی مَسْحَۃً۔ (مسند احمد: ۴۵۷۵)
علی بن عبدالرحمن معاوی کہتے ہیں:میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پہلو میں نماز پڑھی اور نماز میں کنکریوں کو الٹ پلٹ کیا، انہوں نے کہا: کنکریوںکو الٹ پلٹ نہ کرو، کیونکہ ایسا کرنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، البتہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس طرح حرکت دے لیتے تھے۔ امام ابو عبد اللہ احمد نے کہا: یعنی ایک دفعہ
Takhreej
(۱۸۹۸) تخریج: أخرجہ بنحوہ مسلم: ۵۸۰ (انظر: ۴۵۷۵)
Explanation
فوائد:… اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ضرورت ہوتی تو ایک دفعہ ہاتھ مار کر ان کو درست یا صاف کر لیتے تھے۔ آنے والے تیسری روایت میں اسی مسئلہ کا بیان ہے۔
1898
Sahih
۔ (۱۸۹۹) عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ إِلَی الصَّلاَۃِ فَإِنَّ الرَّحَمْۃَ تُوَاجِہُہُ فَلاَ یَمْسَحِ الْحَصٰی (وَفِیْ رِوَایَۃ)ٍ فَلاَ یُحَرِّکِ الْحَصٰی، أَوْ لَا یَمَسََّ الْحَصٰی۔ (مسند احمد: ۲۱۶۵۶)
سیدناابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو کنکریوں کو صاف نہ کرے یا ان کو حرکت نہ دے یا ان کو نہ چھوئے، کیونکہ رحمت اس کے سامنے ہوتی ہے۔
Takhreej
(۱۸۹۹) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین۔ أخرجہ ابوداود: ۹۴۵، وابن ماجہ: ۱۰۲۷، والترمذی: ۳۷۹، والنسائی: ۳/ ۶ (انظر: ۲۱۳۳۰)
1899
Zaeef
۔ (۱۹۰۰) عَنْ جَاِبرِ بْنِِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ مَسْحِ الْحَصٰی فَقَالَ: ((وَاحِدَۃً، وَلَئِنْ تُمْسِکْ عَنْہَا خَیْرٌ لَّکَ مِنْ مِائَۃِ بَدَنَۃٍ کُلُّہَا سُوْدُ الْحَدَقَۃِ (زَادَفِیْ رِوَایَۃٍ) فَاِنْ غَلَبَ أَحَدَکُمُ الشَّیْطَانُ فَلْیَمْسَحْ مَسْحَۃً وَاحِدَۃً)) (مسند احمد: ۱۴۲۵۳)
سیدناجابربن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کنکریوں کو چھونے کے بارے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک مرتبہ کر لو، اور اگر اس سے بھی رک جاؤ تو یہ تمہارے لیے سیاہ آنکھوں والے سو اونٹوں سے بہتر ہے اور اگر تم میں سے کسی پر شیطان غالب آ جائے تو وہ ایک دفعہ صاف کر لیا کرے۔
Takhreej
(۱۹۰۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شرحبیل بن سعد الخطمی لیکنیہ حدیث شاہد کی بنا پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو سلسلہ احادیث صحیحہ: ۳۰۶۲ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۴۱۱، وابن خزیمۃ: ۸۹۷ (انظر: ۱۴۲۰۴)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ} (سورۂ بقرہ: ۲۳۸) یعنی: نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے فرمانبردار ہو کر کھڑے رہا کرو۔ عاجزیو انکساری اور خشوع و خضوع کا تعلق نمازی کے دل و دماغ اور ظاہری جسم دونوں سے ہے، نماز میں جسم پر بھی خوف و خشیت کے آثار نمایاں ہونے چاہئیں اور فضول حرکات و سکنات سے پرہیز کرنا چاہئے۔ بعض نمازی طبعی طور پر سر میں خارش کرنے، داڑھی کے بالوں کو چھیڑنے، ناک میں انگلی ڈالنے اورکپڑوں اور بالوں کو سنوارنے کے عادی ہوتے ہیں۔یہ حدیث ِ مبارکہ اس امر میں واضح دلیل ہے کہ نمازی کو فضول حرکات سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے، ہاں اگر واقعی کوئی ضرورت محسوس ہو توکوئی مضائقہ نہیں۔
1900
Zaeef
۔ (۱۹۰۱) عَنْ مُعَیْقِیْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قِیْلَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْحُ فِی الْمَسْجِدِ یَعْنِی الْحَصٰی فَقَالَ: ((إِنْ کُنْتَ لاَبُدَّ فَاعِلاً فَوَا حِدَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۰۹)
سیدنا معیقیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا گیا کہ سجدہ گاہ میں کنکریوں کو چھونا کیسا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرضروری کرنا ہی ہو تو ایک دفعہ کر لیا کر۔
Takhreej
(۱۹۰۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۴۶ (انظر: ۲۳۶۰۹)
1901
Sahih
۔ (۱۹۰۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی الرَّجُلِ یُسَوِّی التُّرَابَ حَیْثُیَسْجُدُ قَالَ: ((إِنْ کُنْتَ فَاعِلاً فَوَاحِدَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۱۱)
۔ (دوسری سند) جو آدمی سجدے والی جگہ سے مٹی صاف کرتا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: اگر تو نے کرنا ہی ہے تو ایک دفعہ کر لیا کر۔
Takhreej
(۱۹۰۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۳۶۱۲)
1902
Sahih
۔ (۱۹۰۳) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَاریِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ أُصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ فَآخُذُ قَبْضَۃً مِنْ حَصًی فِیْ کَفِّیْ لِتَبْرُدَ حَتّٰی أَسْجُدَ عَلَیْہِ مِنْ شِدَّۃِ الْحَرِّ (وَفِیْرِوَایَۃٍ) فَأَجْعَلُہَا فِییَدِیَ الْأُخْرٰی حَتّٰی تَبْرُدَ مِنْ شَدَِّۃِ الْحَرِّ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۶۱)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھتا تھا، گرمی کی شدت کی وجہ سے میں مٹھی بھر کنکریاں اپنی ہتھیلی میں پکڑ لیتا تاکہ وہ ٹھنڈی ہو جائیں اور پھر میں ان پر سجدہ کر سکوں۔ایک روایت میں ہے: گرمی کی شدت کی وجہ سے میں ان کو دو سر ے ہاتھ میں کرلیتا تاکہ وہ ٹھنڈی ہوجائیں۔
Takhreej
(۱۹۰۳) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۳۹۹، وأخرج النسائی بنحوہ: ۲/ ۲۰۴ (انظر: ۱۴۵۰۷)
Explanation
فوائد:… سبحان اللہ! یہ صحابہ کرام کا ایمان تھا کہ دوپہر کی سخت گرمی اور تپتی زمین کی وجہ سے ان کی نمازیں متاثر نہیں ہوتی تھیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازی اپنی تکلیف کو دور کرنے کے لیے اس قسم کا کام کر سکتا ہے۔
1903
Sahih
۔ (۱۹۰۴) عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ (زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) فَدَخَلَ عَلَیْہَا ابْنُ أَخٍ لَھَا فَصَلّٰی فِی بَیْتِھَا رَکْعَتَیْنِ، فَلَمَّا سَجَدَ نَفَخَ التُّرَابَ، فَقَالَتْ لَہُ أُمُّ سَلَمَۃَ: اِبْنَ أَخِیْ! لاَ تَنْفُخْ، فَإِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ لِغُلَامٍ لَہُ یُقَالُ لَہُ یَسَارٌ وَنَفَخَ: ((تَرِّبْ وَجْہَکَ لِلّٰہِ)) (مسند احمد: ۲۷۱۰۷)
ابو صالح کہتے ہیں: میں زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا، جبکہ ان کے پاس ان کا ایک بھتیجا بھی آگیا تھا، اس نے ان کے گھر میں دو رکعت نماز پڑھی، جب اس نے سجدہ کیا تو مٹی کو پھونک ماری، سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اسے کہا: بھتیجے! پھونک نہ مار، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے یسارنامی غلام نے پھونک ماری اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: اللہ کے لئے اپنے چہرے کو مٹی لگنے دے۔
Takhreej
(۱۹۰۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، سعید بن عثمان لم نقف لہ علی ترجمۃ۔ أخرجہ الترمذی: ۳۸۱ وفی سندہ ابو حمزہ میمون الاعور ضعیف (انظر: ۲۶۵۷۲، ۲۶۷۴۴)
Explanation
فوائد:… تمام احادیث اپنے مفہوم میںواضح ہیں، ان کا لب لباب یہ ہے کہ ضرورت کے علاوہ نماز میں کوئی زائد حرکت اور فعل نہیں کرنا چاہیے۔ ان احادیث سے یہ استدلال کرنا درست ہے کہ عینک والے حضرات کو نماز شروع کرنے سے پہلے عینک اتار کر رکھ لینی چاہیے، نہ کہ سجدے کیطرف جھکتے ہوئے، اسی طرح موبائل وغیرہ نماز شروع کرنے سے پہلے بند کرنا چاہیے، تاکہ دوران نماز زائد حرکات سے بچا جا سکے۔ علی ہذا القیاس۔
1904
Zaeef
۔ (۱۹۰۵) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (ابْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَصِفُ صَلَاۃَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی کُسُوْفِ الشَّمْسِ قَالَ …… وَجَعَلَ یَنْفُخُ فِیْ الْأَرْضِ وَیَبْکِیْ وَھُوَ سَاجِدٌ فِیْ الرَّکْعَۃِ الثَّانِیْۃِ وَجَعَلَ یَقُوْلُ: ((رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُہُمْ وَأَنَا فِیْہِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُکَ۔)) فَرَفَعَ رَأْسَہُ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، الحدیث۔ (مسند احمد: ۶۴۸۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سورج گرہن کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے کہا: … … پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری رکعت میں سجدے کی حالت میں زمین پر پھونک مارنا ، رونا اور یہ کہنا شروع کر دیا: رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُہُمْ وَأَنَا فِیْہِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُکَ۔ (اے میرے ربّ! تو ان کو کیوں عذاب دیتا ہے، جب کہ میں ان میں موجود ہوں، تو ہمیں کیوں عذاب دیتا ہے، جبکہ ہم تجھ سے بخشش طلب کر رہے ہیں)۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا تو سورج صاف ہو چکا تھا، …۔ الحدیث
Takhreej
(۱۹۰۵) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ مطولا و مختصرا ابوداود: ۱۱۹۴، والنسائی: ۳/ ۱۴۹ (انظر: ۶۴۸۳)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ اس طرح پھونک مارنے سے نماز متأثر نہیں ہوتی۔ نیز اس دعا سے پتہ چلا کہ سجدے میں دعا اور تسبیح کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ سے خطاب کیا جا سکتا ہے۔
1905
Sahih

Chapters

14
01
نماز میں کلام کرنے کی ممانعت کا بیان
4 Hadith
02
نماز کو توڑ دینے والے امور کا بیان
8 Hadith
03
نماز میں بال باندھنے، کنکریوں سے کھیلنے اور پھونکنے کا بیان
10 Hadith
04
نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان
8 Hadith
05
(نماز میں) نظر اٹھانے، ہاتھ سے اشارہ کرنے اور نماز پڑھنے کے لئے مخصوص جگہ کا اہتمام کرنے کا بیان
7 Hadith
06
پیشابیا پاخانہ کو روک کر، کھانے کی موجودگی میں اور اونگھ کے غلبہ کی صورت میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
6 Hadith
07
نماز میں گونگی بکل، سدل، اسبال، نقش و نگار والے کپڑوں اور عورتوں کی چادروں کی کراہت کا بیان
6 Hadith
08
نمازی کا امام کی طرف یا دائیں جانب کھنکارنے اور نماز میں کوکھوں پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
09
نماز میں سبحان اللہ کہنے ، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان (نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
10 Hadith
10
اللہ کے ڈر سے نماز میں رونے کے جائز ہونے کا بیان
2 Hadith
11
نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے ، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
7 Hadith
12
نماز میں بچہ اٹھانے کے جواز کا بیان
3 Hadith
13
دھاری دار کپڑے میں، صرف ایک کپڑے میں اور ایسے کپڑے میں جس کا کچھ حصہ نمازی پر اور کچھ حائضہ عورت پر ہو نماز کے جواز کا بیانْ
7 Hadith
14
تاریکی میں نمازی کے سامنے عورت کے سونے کے جواز کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.