TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

(نماز میں) نظر اٹھانے، ہاتھ سے اشارہ کرنے اور نماز پڑھنے کے لئے مخصوص جگہ کا اہتمام کرنے کا بیان - (نماز میں) نظر اٹھانے، ہاتھ سے اشارہ کرنے اور نماز پڑھنے کے لئے مخصوص جگہ کا اہتمام کرنے کا بیان - نماز کو باطل کرنے والے اور اس میں مکروہ اور جائز امور کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of نماز کو باطل کرنے والے اور اس میں مکروہ اور جائز امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 14 · 7 Hadith
۔ (۱۹۱۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَابَالُ أَقْوَامٍ یَرْفَعُوْنَ أَبْصَارَھُمْ إِلَی السَّمَائِ فِیْ صَلاَتِہِمْ؟!)) وَاشْتَدَّ قَوْلُہُ فِیْ ذٰلِکَ حَتّٰی قَالَ: ((لَیَنْتَہُنَّ عَنْ ذٰلِکَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۸۸)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ نماز میں اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں۔ پھر اس کے متعلق آپ نے بڑی سختی کرتے ہوئے فرمایا: یہ لوگ یا تو ایساکرنے سے ضرور بازآجائیں گے یاان کی نظریں اچک لی جائیں گی۔
Takhreej
(۱۹۱۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۵۰ (انظر: ۱۲۱۰۴)
1914
Sahih
۔ (۱۹۱۵) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ ۔ (مسند احمد: ۸۳۸۹)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کرتے ہیں۔
Takhreej
(۱۹۱۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۲۹ (انظر: ۸۴۰۸)
1915
Sahih
۔ (۱۹۱۶) عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُوْدٍ أنَّ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا کَانَ أَحَدُ کُمْ فِیْ صَلاَتِہِ فَلاَ یَرْفَعْ بَصَرَہُ إِلَی السَّمَائِ أَنْیُلْتَمَعَ بَصَرُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۳۷)
ایک صحابی رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز میں ہو تو وہ اپنی نظر آسمان کی طرف نہ اٹھائے،کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی نظر اچک لی جائے۔
Takhreej
(۱۹۱۶) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۳/ ۷ (انظر: ۱۵۶۵۲)
1916
Sahih
۔ (۱۹۱۷) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((أَمَا یَخْشٰی أَحَدُکُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ وَھُوَ فِی الصَّلاَۃِ أَنْ لاَ یَرْجِعَ إِلَیْہِ بَصَرُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۱۲۶)
سیدناجابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز میں اپنا سر اٹھاتا ہے تو کیا وہ اس سے نہیں ڈرتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی نگاہی واپس نہ لوٹے۔
Takhreej
(۱۹۱۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۲۸ (انظر: ۲۰۹۶۵)
Explanation
فوائد:… نماز میں نظر کا محل متعین ہے، اسی کا خیال رکھنا چاہیے، ان احادیث سے آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے کی نہی کا علم ہوتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ نماز کے علاوہ بھی ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔
1917
Sahih
۔ (۱۹۱۸) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَھُمْ حِلَقٌ فَقَالَ مَالِیْ أَرَاکُمْ عِزِیْنَ وَدَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ وَقَدْ رَفَعُوْا أَیْدِیَہُمْ فَقَالَ قَدْ رَفَعُوْھَا کَأَنَّہَا أَذْنَابُ خَیْلٍ شُمْسٍ اسْکُنُوْا فِی الصَّلاَۃِ ۔ (مسند احمد: ۲۱۳۴۰)
سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور لوگ مختلف حلقوں کی صورت میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ تم کو ٹولیوں کی صورت میں دیکھ رہا ہو؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ لوگوں نے (نماز میں) سرکش گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز میں سکون اختیار کرو۔
Takhreej
(۱۹۱۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۳۰ (انظر: ۲۰۸۷۴، ۲۰۸۷۵)
Explanation
فوائد:… حدیث کے پہلے حصے میں افتراق سے منع کیا گیا اور اجتماعیت کا حکم دیا گیا۔ دوسرے حصے کی وضاحت سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اسی موضوع سے متعلقہ دوسری روایت سے ہوتی ہے کہ صحابہ کرام سلام پھیرتے وقت ہاتھوں کو دائیں بائیں حرکت دیتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو سکون اختیار کرنے یعنی ہاتھوں کو رانوں پر ہی رکھ کر سلام پھیرنے کا حکم دیا۔ احناف نے اس حدیث سے رکوع والے رفع الیدین کی نفی کا مفہوم کشید کرنے کی کوشش کی ہے، جو کہ کسی طرح درست نہیں ہے، اس کی وضاحت سلام کی تخفیف کا اور اس کے ساتھ ہاتھ کے اشارے کی کراہیت کا بیان میں گزر چکی ہے۔ اس حدیث سے پتہ چلاکہ نماز میں غیر شرعی اشارہ کرنا درست نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کن مواقع پر اشارہ کیا؟ اس پر تفصیلی بحث آگے آئے گی۔
1918
Sahih
۔ (۱۹۱۹) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ شِبْلٍ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی فِیْ الصَّلاَۃِ عَنْ ثَلاَثٍ، نَقْرِالْغُرَابِ، وَاِفْتِرَاشِ السَّبُعِ وَأَنْ یُّوْطِنَ الرَّجُلُ الْمُقَامَ الْوَاحِدَ کَإِ یْطَانِ الْبَعِیْرِ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۱۸)
سیدناعبدالرحمن بن شبل انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: بلاشبہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز میں تین چیزوں سے منع کیا ہے: کوّے کے ٹھونگے سے، درندے کی طرح (ہاتھوںکو) بچھانے سے اور اس سے کہ آدمی اونٹ کی طرح (مسجد میں) ایک جگہ مقرر کرلے۔
Takhreej
(۱۹۱۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، علتہ تمیم بن محمود، ذکرہ العقیلی والدولابی وابن الجارود فی الضعفائ، وقال ابن حجر: فیہ لین، وذکرہ ابن حبان فی الثقات ۔ أخرجہ ابوداود: ۸۶۲، وابن ماجہ: ۱۴۲۹ (۱۵۵۳۲، ۱۵۵۳۳)
1919
Zaeef
۔ (۱۹۲۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَان) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْھٰی عَنْ ثَلاَثٍ، عَنْ نَقْرَۃِ الْغُرَابِ، وَعَنْ اِفْتِرَاشِ السَّبُعِ، وَأَنْ یُّوْطِنَ الرَّجُلُ مَقَامَہُ فِی الصَّلاَۃِ کَمَا یُوطِنُ الْبَعِیْرُ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۱۷)
۔ (دوسری سند) انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان تین چیزوں سے منع کرتے ہوئے سنا: کوے کے ٹھونگے سے،درندے کی طرح بازو بچھانے سے اور اس سے کہ آدمی نماز کے لیےیوں جگہ مقرر کر لے، جیسے اونٹ کرتا ہے۔ نماز میں اپنے کھڑے ہونے کی جگہ مقرر کرلے جیسے اونٹ مقرر کرتاہے۔
Takhreej
(۱۹۲۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، وانظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… دوسرے شواہد اور روایات سے یہ تینوں امور ثابت ہیں۔ کوے کی طرح ٹھونگ لگانا اس سے مراد سجدے کا اختصار اور تخفیف ہے۔ درندے کی طرح بازو بچھانا اس سے مراد سجدے میں بازوؤں کو زمین پر بچھا دینا ہے، جیسا کہ کتے اور بھیڑیئے وغیرہ کرتے ہیں۔ اونٹ کی طرح جگہ مقرر کرنا اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی مسجد میں اپنے لیے ایک جگہ خاص کر لے، وہ صرف اسی میں نماز پڑھے اور اس جگہ کا اتنا اہتمام کرے کہ وہاں بیٹھ جانے والے کو اٹھا دے۔
1920
Zaeef

Chapters

14
01
نماز میں کلام کرنے کی ممانعت کا بیان
4 Hadith
02
نماز کو توڑ دینے والے امور کا بیان
8 Hadith
03
نماز میں بال باندھنے، کنکریوں سے کھیلنے اور پھونکنے کا بیان
10 Hadith
04
نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان
8 Hadith
05
(نماز میں) نظر اٹھانے، ہاتھ سے اشارہ کرنے اور نماز پڑھنے کے لئے مخصوص جگہ کا اہتمام کرنے کا بیان
7 Hadith
06
پیشابیا پاخانہ کو روک کر، کھانے کی موجودگی میں اور اونگھ کے غلبہ کی صورت میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
6 Hadith
07
نماز میں گونگی بکل، سدل، اسبال، نقش و نگار والے کپڑوں اور عورتوں کی چادروں کی کراہت کا بیان
6 Hadith
08
نمازی کا امام کی طرف یا دائیں جانب کھنکارنے اور نماز میں کوکھوں پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
09
نماز میں سبحان اللہ کہنے ، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان (نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
10 Hadith
10
اللہ کے ڈر سے نماز میں رونے کے جائز ہونے کا بیان
2 Hadith
11
نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے ، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
7 Hadith
12
نماز میں بچہ اٹھانے کے جواز کا بیان
3 Hadith
13
دھاری دار کپڑے میں، صرف ایک کپڑے میں اور ایسے کپڑے میں جس کا کچھ حصہ نمازی پر اور کچھ حائضہ عورت پر ہو نماز کے جواز کا بیانْ
7 Hadith
14
تاریکی میں نمازی کے سامنے عورت کے سونے کے جواز کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.