۔ (۱۹۶۰) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ أَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صَلّٰی فِیْ بُرْدَۃٍ حِبَرَۃٍ قَالَ أَحْسَبُہُ عَقَدَ بَیْنَ طَرَفَیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۱۹۶۷)
سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دھاری دار یمنی چادرمیں نماز پڑھی، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے دونوں کناروں کے درمیان گرہ لگائی ہوئی تھی ۔
Takhreej
(۱۹۶۰) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ الطیالسی: ۲۱۴۰، والترمذی فی الشمائل : ۱۲۷ (انظر: ۱۱۹۴۵، ۱۳۵۱۰)
Explanation
فوائد:… دوکناروں کے درمیان گرہ لگانے سے مراد توشیح ہے، جس کی تعریفیہ ہے کہ کپڑے کا ایک کنارہ بائیں ہاتھ کے نیچے سے لے جا کر داہنے کندھے پر اور دوسرا کنارہ داہنے کے تلے سے بائیں کندھے پر ڈال دیا جائے، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینہ پر گرہ دے دی جائے۔ لباس کا مکمل بیان شرمگاہ کو ڈھانپنے کے بارے میں ابواب میں گزر چکا ہے۔
1960
Sahih