سیدناابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نمازِ عشاء پڑھی، انہوں نے سورۂ انشقاق پڑھی اور اس میں سجدہ بھی کیا، میں نے کہا: اے ابو ہریرہ! یہ کون سا سجدہ ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں یہ سجدہ کیا تھا، لہٰذا ہمیشہ میں یہ سجدہ کرتا رہوں گا حتیٰ کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملوں۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز کی پہلی رکعت میں سجدہ کیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہما کا خیال تھاکہ آپ نے سورۂ سجدہ کی تلاوت کی ہے۔ راویٔ حدیث سلیمان تیمی نے کہا: میں نے یہ حدیث ابو مجلز سے نہیں سنی۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم پر سجدۂ تلاوت والی سورت کی تلاوت کرتے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں نہیں ہوتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدۂ تلاوت کرتے تو ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سجدہ کرتے، حتیٰ کہ ہم میںسے بعض افراد اپنا ماتھا نیچے رکھنے کے لئے جگہ بھی نہیںپاتے تھے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں قرآن کی تعلیم دیتے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن کی سجدے والی آیت سے گزرتے تو سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے۔