TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

(۶)مفصل سورتوں میں سجدۂ تلاوت کی مشروعیت کے قائلین کی دلیل کا بیان - (۶)مفصل سورتوں میں سجدۂ تلاوت کی مشروعیت کے قائلین کی دلیل کا بیان - سجدۂ تلاوت اور سجدۂ شکر کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of سجدۂ تلاوت اور سجدۂ شکر کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 7 · 5 Hadith
۔ (۲۰۱۸) عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَجَدَ بِالنَّجْمِ وَسَجَدَ الْمُسْلِمُونَ إِلاَّ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ أَخَذَ کَفًّا مِنْ تُرَابٍ فَرَفَعَہُ إِلٰی جَبْہَتِہِ فَسَجَدَ عَلَیْہِ، قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: فَرَایْتُہُ بَعْدُ قُتِلَ کَافِرًا۔ (مسند احمد: ۳۶۸۲)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ نجم میں سجدہ کیا اور مسلمانوں نے بھی سجدہ کیا، البتہ قریش کا ایک آدمی تھا، اس نے مٹھی بھر مٹی اپنی پیشانی کی طرف اٹھائی اور اسی پر سجدہ کر لیا۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا تھا کہ وہ آدمی بحالت ِ کفر قتل ہو گیا تھا۔
Takhreej
(۲۰۱۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۸۶۳، ومسلم: ۵۷۶ (انظر: ۳۶۸۲، ۴۱۶۴)
Explanation
فوائد:… سجدۂ تلاوت نہ کرنے والا یہ شخص امیہ بن خلف تھا۔
2018
Sahih
۔ (۲۰۱۹) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَرَأَ النَّجْمَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَہُ إِلاَّ رَجُلَیْنِ أَرَادَا الشُّہْرَۃَ۔ (مسند احمد: ۸۰۲۱)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ نجم پڑھی اورسجدہ کیا اور لوگوں نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، البتہ دو آدمیوں نے سجدہ نہیں کیا تھا، ان کا مقصد شہرت طلبی تھا۔
Takhreej
(۲۰۱۹) تخریج: اسنادہ قوی۔ أخرجہ الطحاوی: ۱/ ۳۵۳ (انظر: ۸۰۳۴)
2019
Sahih
۔ (۲۰۲۰) عَنْ جَعْفَرِبْنِ المُطَّلِبِ بْنِ أَبِیْ وَدَاعَۃَ السَّہْمِیِّ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ قَرَأَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَکَّۃَ سُوْرَۃ َالنَّجْمِ فَسَجَدَ وَسَجَدَ مَنْ عِنْدَہُ، فَرَفَعْتُ رَأْسِیْ وَأَبَیْتُ أَنْ أَسْجُدَ۔ وَلَمْ یَکُنْ أَسْلَمَ یَوْمَئِذٍ الْمُطَّلِبُ، وَکَانَ بَعْدُ لَا یَسْمَعُ أَحَدًا قَرَأَھَا إِلاَّ سَجَدَ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۴۴)
سیدنا مطلب بن ابو وداعہ سہمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ میں سورۂ نجم کی تلاوت کی اورسجدہ کیا اور جو لوگ آپ کے پاس تھے، انہوں نے بھی سجدہ کیا، البتہ میں نے اپنا سر اٹھا لیا تھا اور سجدہ کرنے سے انکار کر دیاتھا۔ دراصل سیدنا مطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان دنوں مسلمان نہیں ہوئے تھے، قبولیت ِ اسلام کے بعد وہ جب بھی کسی کواس کی تلاوت کرتے سنتے توسجدہ کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۰۲۰) تخریج: صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف، جعفر بن المطلب بن ابی وداعۃ السھمی مقبول۔ أخرجہ النسائی: ۲/ ۱۶۰ (انظر: ۱۵۴۶۵)
2020
Sahih
۔ (۲۰۲۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَقَالَ الْمُطَّلِبُ: فَلَا أَدَعُ السُّجُوْدَ فِیْھَا أَبَدًا۔ (مسند احمد: ۱۵۵۴۳)
۔ (دوسری سند)سیدنا مطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: قبولیت ِ اسلام کے بعد میں نے اس سورت میں کبھی بھی سجدہ ترک نہیں کیا۔
Takhreej
(۲۰۲۱) تخریج: صحیح لغیرہ، وھذا سند منقطع، عکرمۃ لم یسمع من المطلب، وبینھما جعفر بن المطلب ابن ابی وداعۃ کما فی سند الحدیث بالطریق الاول۔ أخرجہ الحاکم: ۳/ ۶۶۳، وعبد الرزاق: ۵۸۸۱، والطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۶۷۹ (انظر: ۱۵۴۶۴)
2021
Sahih
۔ (۲۰۲۲) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَجَدْ نَا مَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی {إِذَا السَّمَائُ انْشَقَّتْ} وَ {اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ}۔ (مسند احمد: ۹۹۴۰)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سورۂ انشقاق اور سورۂ علق میں سجدۂ تلاوت کیے۔
Takhreej
(۲۰۲۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ النسائی: ۲/ ۱۶۲، وابن خزیمۃ: ۵۵۴ (انظر: ۹۹۳۹)
Explanation
فوائد:… اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ قرآن مجید کے مفصل حصے کی تین سورتوں (نجم، انشقاق اور علق) سجودِ تلاوت پر مشتمل ہیں، لہٰذا اس معاملے میں مالکیہ کی رائے درست نہیں۔
2022
Sahih