TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نفل نماز کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ یہ فرض نماز میں ہو جانے والی کمی پوری کرتی ہے - نفل نماز کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ یہ فرض نماز میں ہو جانے والی کمی پوری کرتی ہے - نفل نماز کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of نفل نماز کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 13 · 4 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۲۰۳۲) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ عَنْبَسَۃَ بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَ عَنْ أُخْتِہِ أُمِّ حَبِیْبَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہَا سَمِعْتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَامِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ یُصَلِّیْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ صَلّٰی) لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ کُلَّ یَوْمٍ (وَفِی رِوَایَۃٍ: فِییَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ وَفِی أُخْرَی: فِی لَیْلِہِ وَنَہارِہِ) ثِنْتَیْ عَشَرَۃَ رَکْعَۃً (وَفِی رِوَایَۃٍ سَجْدَۃً) تَطَوُّعًا غَیْرَ فَرِیْضَۃٍ إِلاَّ بُنِی لَہُ بَیْتٌ فِی الْجَنَّۃِ، أَوْ بَنَی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ۔)) فَقَالَتْ أُمُّ حَبِیْبَۃَ: فَمَا بَرِحْتُ أُصَلِّیْہِنَّ بَعْدُ، وَقَالَ عَمْرٌوَ: مَا بَرِحْتُ اُصَلِّیْہِنَّ بَعْدُ، وَقَالَ النُّعْمَانُ مِثْلَ ذَلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۱۷)
زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بندہ اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر ایک دن اور رات میں اللہ تعالیٰ کے لیے فرضی نماز کے علاوہ بارہ رکعت نماز پڑھتا ہے، اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیا جاتا ہے، یا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیتا ہے۔ سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں ہمیشہ سے یہ رکعتیں ادا کر رہی ہوں۔ (سند کے راوی) عمرو کہتے ہیں میں بھی حدیث پڑھنے کے بعد ان رکعات کو پڑھ رہا ہوں۔ (سند کے ایک اور راوی) نعمان کہتے ہیں میں بھییہ رکعات ہمیشہ سے پڑھ رہا ہوں۔
Takhreej
(۲۰۳۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۲۸ (انظر: ۲۶۷۸۱)
Explanation
فوائد:… ترمذی کی روایت کے مطابق ان بارہ رکعات کی تفصیلیہ ہے: فجر سے پہلے دو، ظہر سے پہلے چار اور اس کے بعد دو، مغرب کے بعد دو اور عشاء کے بعد دو، اسی نفلی نماز کو ہمارے معاشرے میں سننِ مؤکدہ کہا جاتا ہے۔ لیکن نسائی کی روایت میں عصر سے پہلے دو سنتوں کا ذکر ہے اور عشاء کے بعد والی سنتوں کا ذکر نہیں ہے، سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث میں عصر سے پہلے اور عشاء کے بعد والی دو دو سنتوں کا ذکر ہے، لیکن انھوں نے ظہر کی نماز سے پہلے صرف دو سنتوں کا ذکر کیا ہے اور امام ترمذی نے ظہر سے پہلے چار اور اس کے بعد دو کو ثابت کیا ہے۔ امام شوکانی نے اس اختلاف کو یوں حل کیا: یہ بات تو متعین ہی ہے کہ ان احادیث میں جتنی رکعات کا بیان ہے، وہ سب ہی مشروع ہیں، اگرچہ ان کی تعداد چودہ بن جاتی ہے، جبکہ مذکورہ ثواب کے حصول کا تعلق تو بارہ رکعتوں سے ہے، لیکن اس چیز کا علم نہیں ہو رہا کہ ان چودہ میں سے وہ بارہ رکعتیں کون سی ہیں، ایک ہی صورت رہ جاتی ہے کہ چودہ رکعتیں ہی ادا کی جائیں، تاکہ کوئی اشکال باقی نہ رہے، اس طرح سے اللہ تعالیٰ کے ہاں مطلوبہ بارہ بھی ادا ہو جائیں گی۔
2032
Sahih
۔ (۲۰۳۳) عَنْ أَبِیْ بُرْدَۃَ بْنِ أَبِیْ مُوْسٰی عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ صَلّٰی فِییَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ ثِنْتَیْ عَشَرَۃَ رَکْعَۃً سِوَی الْفَرِیَضَۃِ بُنِیَ لَہُ بَیْتٌ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۴۶)
سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے دن رات میں فرض نماز کے علاوہ بارہ رکعتیں ادا کیں، اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا۔
Takhreej
(۲۰۳۳) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۹۴۳۲، والبزار: ۷۰۱ (انظر: ۱۹۷۰۹)
2033
Sahih
۔ (۲۰۳۴) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ عَبْدُاللّٰہِ قَالَ أبِیْ وَلَمْ یَرْفَعُہُ: مَامِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ یُصَلِّیْ فِیْیَوْمٍ ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً تَطَوُّعًا إِلاَّ بُنِیَ لَہُ بَیْتٌ فِی الْجَنَّۃِ۔ (مسند احمد: ۱۰۴۶۷)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جومسلمان دن میں بارہ رکعت نفلی نماز پڑھے گا، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا۔
Takhreej
(۲۰۳۴) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۱۴۲ (انظر: ۱۰۴۶۲)
2034
Sahih
۔ (۲۰۳۵) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حُدَیْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلاًمِنْ کِنْدَۃَیَقُولُ: حَدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا یَنْتَقِصُ أَحَدُ کُمْ مِنْ صَلَاتِہِ شَیْئًا إِلاَّ أَتَمَّہَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْ سُبْحَتِہِ)) (مسند احمد: ۲۴۰۳۷)
عبد الرحمن بن معاویہ بن حدیج کہتے ہیں: میںنے کندہ کے ایک آدمی سے سنا، اس نے کہا: ایک انصاری صحابی نے مجھے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی فرض نماز میں کمی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نفلی نماز سے اس کی کمی کو پورا کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۲۰۳۵) تخریج: صحیح لغیرہ، وھذا اسنادہ ضعیف لابھام الرجل الکندی، وابن لھیعۃ سیء الحفظ (انظر: ۲۳۶۳۷)
Explanation
فوائد:… کئی احادیث ِ مبارکہ میں نفلی نماز کی اقسام اور فضائل بیان کیے گئے ہیں، آنے والے کئی ابواب کا موضوع نفلی نماز ہی ہے۔
2035
Sahih