TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ظہر کی سننِ رواتب اور ان کی فضیلت کا بیان - ظہر کی سننِ رواتب اور ان کی فضیلت کا بیان - نفل نماز کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of نفل نماز کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 13 · 5 Hadith
۔ (۲۰۵۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہ بْنِ السَّائِبِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ قَبْلَ الظُّہْرِ بَعْدَ الزَّوَالِ أَرْبَعًا وَیَقُوْلُ: ((إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَائِ تُفْتَحُ فَاُحِبُّ أَنْ أُقَدِّمَ فِیْہَا عَمَلاً صَاِلحًا۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۷۱)
سیدناعبد اللہ بن سائب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر سے پہلے لیکن زوال کے بعد چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور فرماتے تھے: اس وقت آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور میں پسند کرتا ہوں کہ میں اس میں نیک عمل آگے بھیجوں۔
Takhreej
(۲۰۵۶) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الترمذی: ۴۷۸ (انظر: ۱۵۳۹۶)
2056
Sahih
۔ (۲۰۵۷) عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ أَدْمَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ، قَالَ: فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاھٰذِہِ الرَّکَعَاتُ الَّتِیْ أَرَاکَ قَدْ أَدْمَنْتَہَا؟ قَالَ: ((إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَائِ تُفْتَحُ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ فَلَا تُرْتَجُ حَتّٰییُصَلَّی الظُّہْرُ فَأُحِبُّ أَنْ یَصْعَدَ لِی فِیْہَا خَیْرٌ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! تَقْرَأُ فِیْہِنَّ کُلِّہِنَّ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: قُلْتُ: فَفِیْہَا سَلَامٌ فَاصِلٌ؟ قَالَ: ((لَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۲۹)
سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورج ڈھلنے کے بعد ہمیشہ چار رکعات پڑھا کرتے تھے، ایک دن میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ رکعتیں کیسی ہیں کہ آپ دوام کے ساتھ ان کو ادا کرتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زوالِ آفتاب کے وقت آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پھر اس وقت تک بند نہیں ہوتے، جب تک نماز ِ ظہر نہ پڑھ لی جائے، تو میں پسند کرتا ہوں کہ میرا نیک عمل اس میں بلند ہو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ان ساری رکعات میں قراء ت کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: ان میں فاصلہ کرنے والا سلام ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔
Takhreej
(۲۰۵۷) تخریج: حسن لغیرہ، وھذا اسنادہ ضعیف لضعف عبیدۃ، ولاضطرابہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۱۵۷ (انظر: ۲۳۵۳۲)
2057
Sahih
۔ (۲۰۵۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) أَنَّہُ کَانَ یُصَلِّیْ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ قَبْلَ الظُّہْرِ، فَقِیْلَ لَہُ: إِنَّکَ تُدِیْمُ ھٰذِہِ الصَّلَاۃَ؟ فَقَالَ: إِنِّیْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْعَلُہُ فَسَأَلْتُہُ، فَقَالَ: ((إِنَّہَا سَاعَۃٌ تُـفْتَحُ فِیْہَا أَبْوَابُ السَّمَائِ فَأَحْبَبْتُ أَنْ یَرْتَفِعَ لِی فِیْہَا عَمَلٌ صَالِحٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۴۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ظہر سے پہلے دوام کے ساتھ چار رکعات پڑھا کرتے تھے، کسی نے ان سے کہا: آپ بڑی باقاعدگی کے ساتھ یہ نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ عمل کرتے ہوئے دیکھ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایسی گھڑی ہے کہ جس میں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیںاور میںپسند کرتا ہوں کہ میرانیک عمل اس وقت میں بلند ہو۔
Takhreej
(۲۰۵۸) تخریج: صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف، شریک بن عبد اللہ النخعی سیء الحفظ، وعلی بن الصلت مجھول۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/۱۹۹، وابن خزیمۃ: ۱۲۱۵، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۳۵۵۱)
Explanation
فوائد:… فاصلہ کرنے والے سلام سے مراد یہ ہے چار رکعتوں کو دو دو رکعتیں کر کے ادا کیا جائے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اکٹھا ادا کرنے کی تعلیم دی ہے، یہ بات علیحدہ ہے کہ ان سنتوں کو دو دو رکعت کر کے بھی ادا کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((صَلَاۃُ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ مَثْنٰی مَثْنٰی۔))… رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے۔ امام البانی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے، میں نے اس کی تخریج (صحیح ابی داود: ۱۱۷۲) اور (الحوض المورود فی زوائد منتقی ابن الجارود: ۱۲۳) میں کی ہے۔ اس باب کی حدیث سے چار رکعت سنت کو ایک سلام کے ساتھ اور اس حدیث سے دو سلاموں کے ساتھ پڑھنا ثابت ہوتا ہے، ان کے مابین جمع وتطبیق کی صورت یہ ہے کہ باب کی حدیث کو جواز پر اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث کو افضلیت پر محمول کیا جائے، جیسا کہ رات کی نفلی نماز کا معاملہ ہے۔ واللہ اعلم۔ (صحیحہ: ۲۳۷) یعنی چار رکعت سنتوں کو ایک سلام کے ساتھ بھی ادا کیا جا سکتا ہے اور دو دو رکعت کر کے بھی۔ شیخ البانی کی اس باب کی حدیث سے مراد سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عصر سے پہلے والی چار سنتیں ایک سلام کے ساتھ ادا کی جائیں،یہ حدیث کچھ صفحات پہلے اس عنوان نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان میں گزر چکی ہے۔
2058
Sahih
۔ (۲۰۵۹) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَمَانِیَۃَ عَشَرَ سَفَرَاً فَلَمْ أَرَہُ تَرَکَ الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الظُّہْرِ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۸۴)
سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اٹھارہ سفر کیے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر سے پہلے دو رکعتوں کو ترک کیا ہو۔
Takhreej
(۲۰۵۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، لجھالۃ ابی بسرۃ الغفاری، قال الذھبی: لا یعرف۔ أخرجہ ابوداود: ۱۲۲۲، والترمذی: ۵۵۰ (انظر: ۱۸۵۸۳)
2059
Zaeef
۔ (۲۰۶۰) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَایَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّھْرِ وَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ عَلٰی حَالٍ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۴۴)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی حالت میں بھی ظہر سے پہلے چار اور فجر سے پہلے دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔
Takhreej
(۲۰۶۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۸۲ (انظر: ۲۴۳۴۰)
2060
Sahih