مسنداحمد

Musnad Ahmad

نفل نماز کے ابواب

عشا کی سننِ رواتب کا بیان

۔ (۲۰۸۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا صَلَّی الْعِشَائَ رَکَعَ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَأَوْتَرَ بِسَجْدَۃٍ ثُمَّ نَامَ حَتّٰییُصَلِّیَ بَعْدُ صَلَاتَہُ بِاللَّیْلِ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۰۸)

سیدناعبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے تو چار رکعتیں ادا کرتے اور ایک رکعت وتر بھی پڑھ لیتے اور پھر سوجاتے، بعد میں رات کو اپنی نماز ادا کرتے۔

۔ (۲۰۸۷) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعِشَائِ فِیْ بَیْتِہِ۔ (مسند احمد: ۵۲۹۶)

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ عشاء کے بعد آپ کے گھر میں دو رکعتیں پڑھیں۔

۔ (۲۰۸۸) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: وَکَانَ یُصَلِّیْ بِہِمُ الْعِشَائَ ثُمَّ یَدْخُلُ بَیْتِیْ فَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ، وَکَانَ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ تِسْعَ رَکْعَاتٍ فِیْہِنَّ الْوِتْرُ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۲۰)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھا کر میرے گھر تشریف لاتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور رات کو نمازِ وتر سمیت (۹) رکعتیں ادا کرتے تھے۔

۔ (۲۰۸۹) عَنْ شُرَیْحِ بْنِ ھَانِیئٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: لَمْ تَکُنْ صَلَاۃٌ أَحْرٰی أَنْ یُؤَخِّرَھَا إِذَا کَانَ عَلٰی حَدِیْثٍ مِنْ صَلَاۃِ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ وَمَا صَلاَّھَا قَطُّ فَدَخَلَ عَلَیَّ إِلاَّ صَلّٰی بَعْدَھَا أَرْبَعًا أَوْسِتًّا وَمَا رَأَیْتُہُیَتَّقِی عَلَی الْأَرْضِ بِشَیْئٍ قَطُّ إِلاَّ أَنِّیْ أَذْکُرُ أَنَّ یَوْمَ مَطَرٍ اَلْقَیْنَا تَحْتَہُ بَتًّا فَکَاَنِّیْ أَنْظُرُ إِلٰی خَرْقٍ فِیْہِیَنْبُعُ مِنْہُ الْمَائُ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۰۹)

شریح بن ہانی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: جب آپ گفتگو میں مصروف ہوتے تو عشاء کی نماز سے زیادہ مناسب کوئی ایسی نماز نہ ہوتی کہ جسے آپ مؤخر کریں، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ نماز پڑھ کر میرے پاس آتے تو اس کے بعد چار یا چھ رکعتیں ادا کرتے اور میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ کوئی چیز بچھا کر زمین سے بچتے ہوں، ہاں یہ مجھے یاد آ رہا ہے کہ ایک بارش والے دن ہم نے آپ کے نیچے ایک چٹائی ڈالی تھی،لیکن گویا کہ میں اب بھی دیکھ رہی ہوں کہ اس کی پھٹی ہوئی جگہ سے پانی پھوٹ رہا تھا۔

۔ (۲۰۹۰) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَنَا مَالِکٌ فَذَکَرَ مِثْلَہُ، قَالَ بَتًّا یَعْنِیْ النَّطْعَ فَصَلّٰی عَلَیْہِ، فَلَقَدْ رَأَیْتُ فَذَکَرَ مَعْنَاہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۱۰)

۔ (دوسری سند)اسی طرح کی حدیث ہے، اس میں زائد چیزیہ ہے کہ بَتًّا کا معنی النَّطْع بیان کیا ہے، اس سے مراد چمڑے کی چٹائی ہے، جو نماز کے لیے اور کھانا کھانے کے لیے بچھائی جاتی تھی۔