مسنداحمد

Musnad Ahmad

سفر میں دو نمازوں کو کسی ایک کے وقت میں جمع کرنے کا بیان

مقیم آدمی کا بارش وغیرہ کی وجہ سے نمازوں کو جمع کرنے کا بیان

۔ (۲۳۹۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَمَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِالْمَدِیْنَۃِ مِنْ غَیْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ، قِیْلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: وَمَا أَرَادَ لِغَیْرِ ذَلِکَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا یُحْرِجَ أُمَّتَہُ۔ (مسند احمد: ۱۹۵۳)

سیّدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو مدینہ میں جمع کر کے ادا کیا، جبکہ نہ کوئی خوف تھا اور نہ بارش۔ سیّدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا گیا کہ (بارش اور خوف کے بغیر) ایسا کرنے سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصود کیا تھا؟ انھوں نے جواب دیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ امت کو تنگی میں نہ ڈالیں۔

۔ (۲۳۹۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ الْمَدِیْنَۃِ مُقِیْمًا غَیْرَ مُسَافِرٍ سَبْعًا وَثَمَانِیًا۔ (مسند احمد: ۱۹۲۹)

سیّدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (مغرب و عشاء کو جمع کر کے ان کی) سات اور (ظہر و عصر کو جمع کر کے ان کی) آٹھ رکعتیں ادا کیں، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ میں مقیم تھے اور مسافر نہ تھے۔

۔ (۲۴۰۰) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا سُفْیَانُ قَالَ عَمْرٌو: أَخْبَرَنِی جَابِرُ بْنُ زَیْدٍ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُوْلُ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَمَانِیًا جَمِیْعًا وَسَبْعًا جَمِیْعًا۔ قَالَ: قُلْتُ لَہُ: یَا أَبَا الشَّعْثَائِ! أَظُنُّہُ اَخَّرَ الظُّہْرَوَعَجَّلَ الْعَصْرَ وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ وَعَجَّلَ الْعِشَائَ، قَالَ وَأَنَا أَظُنُّ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۸)

سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ آٹھ رکعات جمع کرکے اور سات رکعات جمع کرکے پڑھیں۔عمرو کہتے ہیں: میں نے جابر بن زید سے کہا: اے ابو شعثائ! میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر کو مؤخر کرکے اور عصر کو جلدی کر کے اور مغرب کو مؤخر کرکے اور عشاء کو جلدی کر کے پڑھا ہوگا۔ انہوں نے کہا: میرا بھی یہی خیال ہے۔

۔ (۲۴۰۱) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: کُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِجَمْعٍ فَصَلَّی الصَّلَاتَیْنِ کُلَّ صَلَاۃٍ وَحْدَھَا بِأَذَانٍ وَاِقَامَۃٍ وَالْعَشَائُ بَیْنَہُمَا وَصَلَّی الْفَجْرَ حِیْنَ سَطَعَ الْفَجْرُ أَوْ قَالَ: حِیْنَ قَالَ قَائِلٌ طَلَعَ الْفَجْرُ، وَقَالَ قَائِلٌ لَمْ یَطْلُعْ، ثُمَّ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ ھَاتَیْنِ الصَّلَاتَیْنِ تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتِھِمَا فِی ھٰذَا الْمَکَانِ لَا یَقْدَمُ النَّاسُ جَمْعًا حَتّٰی یُعْتِمُوا وَصَلَاۃَ الْفَجْرِ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ)) (مسند احمد: ۳۹۶۹)

عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: میں سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ مزدلفہ میں تھا، انھوں نے دو نمازیں پڑھیں، ہر نماز اکیلی اذان اور اقامت کے ساتھ ادا کی اور ان کے درمیان کھانا بھی کھایا، فجر کی نماز اس وقت پڑھی جب فجر طلوع ہوچکی تھی، یا یہ کہا کہ یہ نماز اس وقت پڑھی، جب کوئی کہتا کہ فجر طلوع ہو گئی اور کوئی کہتا کہ طلوع نہیں ہوئی، پھر کہا:کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اس مقام پر ان دو نمازوں کو ان کے اوقات سے پھیر دیا جاتا ہے، کیونکہ لوگ مزدلفہ میں اس وقت پہنچتے ہیں جب (غروبِ شفق کے بعد والا) اندھیرا ہو چکا ہوتا ہے اور فجر کی نماز اس وقت پڑھتے ہیں۔

۔ (۲۴۰۲) عَنِ الْحَکَمِ قَالَ: صَلّٰی بِنَا سَعِیْدُ بْنُ جُبَیْرٍ بِجَمْعٍ الْمَغْرِبَ ثَـلَاثًا بِاِقَامَۃٍ، قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ صَلَّی الْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ ذَکَرَ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عُمَرَ فَعَلَ ذٰلِکَ وَذَکَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۴)

حکم کہتے ہیں کہ سعید بن جبیر نے ہمیں مزدلفہ میں مغرب کی تین رکعات ایک اقامت کے ساتھ پڑھائیں، اس سے سلام پھیرنے کے بعد نماز عشاء کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر انھوں نے ذکر کیا کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ عمل کیا تھا اور انھوں نے کہا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے کیا تھا۔

۔ (۲۴۰۳) عَنْ أَبِی أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیْ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یُصَلِّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِاِقَامَۃٍ ۔ (مسند احمد: ۲۳۹۷۰)

سیّدناابوایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مغرب و عشاء کو ایک اقامت کے ساتھ ادا کیا۔

۔ (۲۴۰۴) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَمَعَ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِجَمْعٍ،صَلَّی الْمَغْرِبَ ثَـلَاثاً وَالْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ بِاِقَامَۃٍ وَاحِدَۃٍ۔ (مسند احمد: ۴۸۹۴)

۱۲۵۵۔ عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فرماتے ہیں: کہ بے شک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز کو جمع فرمایا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مغرب کی تین رکعات او رعشاء کی دو رکعات ایک اقامت کے ساتھ پڑھائیں تھیں۔

۔ (۲۴۰۵) عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَمَعَ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِجَمْعٍ بِاِقَامَۃٍ وَلَمْ یُسَبِّحْ بَیْنَہُمَا وَلَا عَلٰی أَثَرِ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا۔ (مسند احمد: ۵۱۸۶)

سالم اپنے باپ (سیّدنا عبد اللہ بن عمر) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزد لفہ میں مغرب و عشاء کو ایک اقامت کے ساتھ جمع کیا اور نہ ان دونوں کے درمیان نفلی نماز پڑھی اور نہ ان میں سے ہر ایک کے بعد۔

۔ (۲۴۰۶) عَنْ أُسَامۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا جَائَ الْمُزْدَلِفَۃَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوئَ ثُمَّ أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ کُلُّ اِنْسَانٍ بَعِیْرَہُ فِی مَنْزِلِہِ ثُمَّ أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَصَلَّاھَا وَلَمْ یُصَلِّ بَیْنَہُمَا شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۲۲۱۵۷)

سیّدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مزدلفہ تشریف لائے تو اترے، وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا،پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مغرب کی نماز پڑھائی، پھر ہرآدمی نے اپنے اونٹ کو اپنے مقام پر بٹھایا، پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھائی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی (نفلی) نماز نہیں پڑھی۔

۔ (۲۴۰۷)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانِ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) قَالَ رَکِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی قَدِمَ الْمُزْدَلِفَۃَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِی مَنَازِلِہِمْ وَلَمْ یَحُلُّوا حَتّٰی أَقَامَ الْعِشَائَ فَصَلّٰی ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۸۵)

(دوسری سند) انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوار ہوئے اور مزدلفہ پہنچ گئے اور نماز مغرب قائم کی، پھر لوگوں نے (اپنی سواریاں) اپنی منازل میں بٹھائیں، لیکن ابھی تک ان سے سامان نہیں اتارا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز عشاء کھڑی کر دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھائی، پھر لوگوں نے سامان وغیرہ اتارا۔

۔ (۲۴۰۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) قَالَ أَتَی الْمُزْدَلِفَۃَ فَصَلَّوُا الْمَغْرِبَ ثُمَّ حَلُّوا رِحَالَھُمْ وَأَعَنْتُہُ ثُمَّ صَلَّی الْعِشَائَ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۹۲)

(تیسری سند) سیّدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ پہنچے، لوگوں نے نماز مغرب ادا کی، پھر انھوں کجاوے اتارے اور میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدد کی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز عشاء پڑھائی۔