مسنداحمد

Musnad Ahmad

مریض کی نماز اور بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں ابواب

جو شخص فرض یا نفل نماز میں مشقت کے ساتھ کھڑے ہونے پر قادر ہواور بیٹھ کر نماز پڑھے تو اس کو کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کی بہ نسبت آدھا اجر ملے گا

۔ (۲۴۲۵) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَدِمَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِیْنَۃَ وَھِیَ مَحَمَّۃٌ فَحُمَّ النَّاسُ، فَدَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ وَالنَّاسُ قْعُودٌ یُصَلُّوْنَ، فَقَالَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَلَاۃُ الْقَاعِدِ نِصْفُ صَلَاۃِ الْقَائِمِ۔)) فَتَجَشَّمَ النَّاسُ الصَّلَاۃَ قِیَامًا۔ (مسند احمد: ۱۲۴۲۲)

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ میں آئے، جبکہ یہ بخار والی جگہ تھی، اس لیے لوگ بیمار ہوگئے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف لائے اور دیکھا کہ لوگ مسجد میں بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (اجر کے لحاظ سے) بیٹھنے والے کی نماز کھڑے ہونے والے کی نماز کی نصف ہے۔ پس لوگوں نے مشقت کے ساتھ کھڑے ہوکر نماز پڑھنی شروع کردی۔

۔ (۲۴۲۶) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی نَاسٍ وَھُمْ یُصَلُّوْنَ قُعُودًا مِنْ مَرَضٍ، فَقَالَ: ((اِنَّ صَلَاۃَ الْقَاعِدِ عَلٰی النِّصْفِ مِنْ صَلَاۃِ الْقَائِمِ)) (مسند احمد: ۱۳۲۶۹)

اور انہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کے مقابلے میں آدھا اجر ملے گا۔

۔ (۲۴۲۷) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ رَجُلًا ذَا أَسْقَامٍ کَثِیْرَۃٍ فَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ صَلَاتِیْ قَاعِدًا، قَالَ: ((صَلَاتُکَ قَاعِدًا عَلَی النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِکَ قَاِئمًا، وَصَلَاۃُ الرَّجُلِ مُضْطَجِعًا عَلَی النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِہِ قَاعِدًا۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۲۸)

سیّدناعمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں کافی ساری بیماریوں والا آدمی تھا، اس لیے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیری بیٹھ کر پڑھی ہوئی نماز کھڑے ہوکر پڑھی ہوئی نماز سے نصف ہے اور اسی طرح آدمی کی لیٹ کر پڑھی ہوئی نماز اس کی بیٹھ کر پڑھی ہوئی نماز سے آدھی ہے۔ یعنی اجر و ثواب کے لحاظ سے۔

۔ (۲۴۲۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ: کُنْتُ شَاکِیًا بِفَارِسَ فَکُنْتُ أُصَلِّی قَاعِدًا، فَسَأَلْتُ عَنْ ذٰلِکَ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، فَقَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی لَیْلًا طَوِیْلًا قَائِمًا وَلَیْلًا طَوِیْلًا قَاعِدًا، فَاِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَکَعَ أَوْ خَشَعَ قَائِمًا، وَاِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَکَعَ قَاعِدًا۔ (مسند احمد: ۲۵۱۹۵)

عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں فارس میں بیمار ہوگیا تھا، اس لیے میں بیٹھ کر نماز پڑھا کرتا تھا، جب میں نے اس کے متعلق سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لمبی رات تک کھڑے ہو کر اور لمبی رات تک بیٹھ کر نمازپڑھتے تھے، جب آپ کھڑے ہوکر قراء ت کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر ہی کرتے اور جب بیٹھ کر قراء ت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے تھے۔

۔ (۲۴۲۹) عَنْ مُجَاھِدٍ أَنَّ السَّائِبَ سَأَلَ عَائِشَۃَ فَقَالَ: اِنِّی لَاأَسْتَطِیْعُ أَنْ أُصَلِّیَ اِلَّا جَالِسًا، فَکَیْفَ تَرَیْنَ؟ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((صَلَاۃُ الرَّجُلِ جَالِسًا مِثْلُ نِصْفِ صَلَاتِہِ قَائِمًا۔)) (مسند احمد: ۲۶۴۲۸)

سائب نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے پوچھاکہ میں بیٹھ کر ہی نماز پڑھنے کی طاقت رکھتا ہوںاب آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: آدمی کی بیٹھ کر پڑھی ہوئی نماز کھڑے ہوکر پڑھی ہوئی نماز سے آدھی ہوتی ہے۔ یعنی اجر وثواب کے لحاظ سے۔