سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں آئے، جبکہ یہ بخار والی جگہ تھی، اس لیے لوگ بیمار ہوگئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور دیکھا کہ لوگ مسجد میں بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اجر کے لحاظ سے) بیٹھنے والے کی نماز کھڑے ہونے والے کی نماز کی نصف ہے۔ پس لوگوں نے مشقت کے ساتھ کھڑے ہوکر نماز پڑھنی شروع کردی۔
اور انہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کے مقابلے میں آدھا اجر ملے گا۔
سیّدناعمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں کافی ساری بیماریوں والا آدمی تھا، اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری بیٹھ کر پڑھی ہوئی نماز کھڑے ہوکر پڑھی ہوئی نماز سے نصف ہے اور اسی طرح آدمی کی لیٹ کر پڑھی ہوئی نماز اس کی بیٹھ کر پڑھی ہوئی نماز سے آدھی ہے۔ یعنی اجر و ثواب کے لحاظ سے۔
عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں فارس میں بیمار ہوگیا تھا، اس لیے میں بیٹھ کر نماز پڑھا کرتا تھا، جب میں نے اس کے متعلق سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لمبی رات تک کھڑے ہو کر اور لمبی رات تک بیٹھ کر نمازپڑھتے تھے، جب آپ کھڑے ہوکر قراء ت کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر ہی کرتے اور جب بیٹھ کر قراء ت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے تھے۔
سائب نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھاکہ میں بیٹھ کر ہی نماز پڑھنے کی طاقت رکھتا ہوںاب آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: آدمی کی بیٹھ کر پڑھی ہوئی نماز کھڑے ہوکر پڑھی ہوئی نماز سے آدھی ہوتی ہے۔ یعنی اجر وثواب کے لحاظ سے۔