فجر اور عشاء کی جماعتوں میں حاضر ہونے کی ترغیب کا بیان - فجر اور عشاء کی جماعتوں میں حاضر ہونے کی ترغیب کا بیان - نماز با جماعت کے بارے میں ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 2 of نماز با جماعت کے بارے میں ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
سیّدناعثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی، پس وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے آدھی رات قیام کیا اور جس نے صبح کی نماز باجماعت پڑھی، وہ اس شخص کی طرح ہے، جس نے ساری رات قیام کیا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ عشاء اور صبح کی نمازوں میں کتنا (اجر و ثواب) ہے، تو وہ ان کو ادا کرنے کے لیے ضرور آئیں، اگرچہ انھیں سرین کے بل گھسٹ کر آنا پڑے ۔
Takhreej
(۲۴۵۳) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۷۹۶، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۳۸۶، وابن ابی شیبۃ: ۱/ ۳۳۲ (انظر: ۲۴۵۰۶)
سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور پھر فرمایا: فلاں آدمی حاضر ہے؟ لوگوںنے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فلاں آدمی حاضر ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: فلاں آدمی موجود ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک یہ دو (عشا اور فجر کی) نمازیں منافقین پر بڑی بوجھل ہیں، اگر وہ جان لیں ان دونوں کا اجر کیاہے تو وہ ان کی ادائیگی کے لیے ضرور آئیں، اگرچہ انھیں سرین کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے اور اگر تم اس کی فضیلت کو جان لو تو تم ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو اور آدمی کی دو افراد کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز ایک آدمی کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز سے زیادہ پاکیزہ (یعنی زیادہ ثواب والی) ہے، اسی طرح جتنے آدمی زیادہ ہوں گے، وہ نماز اتنی زیادہ اللہ کو محبوب ہو گی ۔
(دوسری سند) انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: فلاں شخص موجود ہے؟ لوگ خاموش رہے ، پھر بعض نے کہا: جی ہاں، وہ حاضر نہیں ہے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک منافقوں پر فجر اور عشاء سب سے بھاری نمازیں ہیں، ( پھر سابقہ روایت کی طرح باتیں ذکر کیں)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک تیری دو آدمیوں کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز ایک آدمی کے ساتھ ادا کی ہوئی نمازسے زیادہ پاکیزہ ہے اور تیری ایک آدمی کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز اکیلی ادا کی ہوئی نماز سے زیادہ پاکیزہ ہے، اور جتنے لوگ زیادہ ہوں گے، تو وہ اتنا ہی اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔
(تیسری سند)انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ نمازیوں میں کچھ کمی ہے، پھر پوچھا: فلاں آدمی حاضر ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین آدمیوں کے متعلق پوچھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک منافقوں پر عشاء اور فجر کی نماز سے کوئی نماز زیادہ بھاری نہیں ہے۔ (پھر اوپر والی پوری حدیث ذکر کی)۔
سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر فجر اور عشاء کی نمازوں سے پیچھے رہنے والے جان لیں کہ ان کے لیے ان دونوں میں کتنا اجر و ثواب ہے تو وہ مسجد میں ضرور آئیں اگر چہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔