TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فجر اور عشاء کی جماعتوں میں حاضر ہونے کی ترغیب کا بیان - فجر اور عشاء کی جماعتوں میں حاضر ہونے کی ترغیب کا بیان - نماز با جماعت کے بارے میں ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of نماز با جماعت کے بارے میں ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 4 · 6 Hadith
۔ (۲۴۵۲) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَلَّی الْعِشَائَ فِی جَمَاعَۃٍ فَہُوَ کَمَنْ قَامَ نِصْفَ اللَّیْلِ، وَمَنْ صَلَّی الصُّبْحَ فِی جَمَاعَۃٍ فَہُوَ کَمَنْ قَامَ اللَّیْلَ کُلَّہُ۔)) (مسند احمد: ۴۰۹)
سیّدناعثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی، پس وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے آدھی رات قیام کیا اور جس نے صبح کی نماز باجماعت پڑھی، وہ اس شخص کی طرح ہے، جس نے ساری رات قیام کیا۔
Takhreej
(۲۴۵۲) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۶۵۶ (انظر: ۴۰۸، ۴۰۹)
2452
Sahih
۔ (۲۴۵۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ أَنَّ النَّاسَ یَعْلَمُوْنَ مَا فِی صَلَاۃِ الْعَتَمَۃِ وَصَلَاۃِ الصُّبْحِ لَأَتَوْھُمَا وَلَوْ حَبْوًا۔)) (مسند احمد: ۲۵۰۱۱)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ عشاء اور صبح کی نمازوں میں کتنا (اجر و ثواب) ہے، تو وہ ان کو ادا کرنے کے لیے ضرور آئیں، اگرچہ انھیں سرین کے بل گھسٹ کر آنا پڑے ۔
Takhreej
(۲۴۵۳) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۷۹۶، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۳۸۶، وابن ابی شیبۃ: ۱/ ۳۳۲ (انظر: ۲۴۵۰۶)
2453
Sahih
۔ (۲۴۵۴) عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصُّبْحَ فَقَالَ: ((شَاھِدٌ فُلَانٌ؟)) فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: ((شَاھِدٌ فُلَانٌ؟)) فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: ((شَاھِدٌ فُلَانٌ؟)) فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: ((اِنَّ ھَاتَیْنِ الصَّلَاتَیْنِ مِنْ أَثْقَلِ الصَّلَوَاتِ عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَا فِیْہِمَا لَأَتَوْھُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَالصَّفُّ الْمُقَدَّمُ عَلٰی مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِکَۃِ وَلَوْ تَعْلَمُوْنَ فَضِیْلَتَہُ لَابْتَدَرْتُمُوْہُ وَصَلَاۃُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلَیْنِ أَزْکٰی مِنْ صَلَاتِہِ مَعَ رَجُلٍ، وَمَا کَانَ أَکْثَرَ فَہُوَ أَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۸۷)
سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور پھر فرمایا: فلاں آدمی حاضر ہے؟ لوگوںنے کہا: نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فلاں آدمی حاضر ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: فلاں آدمی موجود ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک یہ دو (عشا اور فجر کی) نمازیں منافقین پر بڑی بوجھل ہیں، اگر وہ جان لیں ان دونوں کا اجر کیاہے تو وہ ان کی ادائیگی کے لیے ضرور آئیں، اگرچہ انھیں سرین کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے اور اگر تم اس کی فضیلت کو جان لو تو تم ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو اور آدمی کی دو افراد کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز ایک آدمی کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز سے زیادہ پاکیزہ (یعنی زیادہ ثواب والی) ہے، اسی طرح جتنے آدمی زیادہ ہوں گے، وہ نماز اتنی زیادہ اللہ کو محبوب ہو گی ۔
Takhreej
(۲۴۵۴) تخریـج: …حدیث حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۵۵۴، والنسائی: ۲/ ۱۰۴ (انظر: ۲۱۲۶۵)
2454
Sahih
۔ (۲۴۵۵)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْفَجْرَ فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: ((شَاھِدٌ فُلَانٌ؟)) فَسَکَتَ الْقَوْمُ، قَالُوا نَعَمْ، وَلَمْ یَحْضُرْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ أَثْقَلَ الصَّلَاۃِ عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ صَلَاۃُ الْعِشَائِ وَالْفَجْرِ (فَذَکَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ وَفِیْہِ) اِنَّ صَلَاتَکَ مَعَ رَجُلَیْنِ أَزْکٰی مِنْ صَلَاتِکَ مَعَ رَجُلٍ، وَصَلَاتُکَ مَعَ رَجُلٍ أَزْکٰی مِنْ صَلَاتِکَ وَحْدَکَ، وَمَا کَثُرَ فَہُوَ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۸۸)
(دوسری سند) انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز فجر پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: فلاں شخص موجود ہے؟ لوگ خاموش رہے ، پھر بعض نے کہا: جی ہاں، وہ حاضر نہیں ہے۔پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک منافقوں پر فجر اور عشاء سب سے بھاری نمازیں ہیں، ( پھر سابقہ روایت کی طرح باتیں ذکر کیں)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک تیری دو آدمیوں کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز ایک آدمی کے ساتھ ادا کی ہوئی نمازسے زیادہ پاکیزہ ہے اور تیری ایک آدمی کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز اکیلی ادا کی ہوئی نماز سے زیادہ پاکیزہ ہے، اور جتنے لوگ زیادہ ہوں گے، تو وہ اتنا ہی اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔
Takhreej
(۲۴۵۵)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
2455
Sahih
۔ (۲۴۵۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاۃَ رَأَی مِنْ أَھْلِ الْمَسْجِدِ قِلَّۃً، فَقَالَ: ((شَاھِدٌ فُلَانٌ؟)) قُلْنَا: نَعَمْ، حَتّٰی عَدَّ ثَـلَاثَۃَ نَفَرٍ، فَقَالَ: ((اِنَّہُ لَیْسَ مِنْ صَلَاۃٍ أَثْقَلَ عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ مِنْ صَلَاۃِ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ وَمِنْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ۔)) وَذَکَرَ الْحَدِیْثَ بِطُوْلِہِ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۹۵)
(تیسری سند)انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ نمازیوں میں کچھ کمی ہے، پھر پوچھا: فلاں آدمی حاضر ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں، حتیٰ کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین آدمیوں کے متعلق پوچھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک منافقوں پر عشاء اور فجر کی نماز سے کوئی نماز زیادہ بھاری نہیں ہے۔ (پھر اوپر والی پوری حدیث ذکر کی)۔
Takhreej
(۲۴۵۶) تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
2456
Sahih
۔ (۲۴۵۷) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ یَعْلَمُ الْمُتَخَلِّفُوْنَ عَنْ صَلَاۃِ الْعِشَائِ وَصَلَاۃِ الْغَدَاۃِ مَا لَھُمْ فِیْھِمَا لَأَتَوْھُمَا وَلَوْ حَبْوًا)) (مسند احمد: ۱۲۵۶۱)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر فجر اور عشاء کی نمازوں سے پیچھے رہنے والے جان لیں کہ ان کے لیے ان دونوں میں کتنا اجر و ثواب ہے تو وہ مسجد میں ضرور آئیں اگر چہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔
Takhreej
(۲۴۵۷) تخریـج: …صحیح لغیرہ۔
2457
Sahih