مسنداحمد

Musnad Ahmad

نماز با جماعت کے بارے میں ابواب

جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان

۔ (۲۴۵۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَتَی ابْنُ أُمِّ مَکْتُوْمٍ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْزِلِی شَاسِعٌ وَأَنَا مَکْفُوْفُ الْبَصَرِ وَأَنَا أَسْمَعُ الْأَذَانَ، قَالَ: ((فَاِنْ سَمِعْتَ الْأَذَانَ فَأَجِبْ وَلَوْ حَبْوًا أَوْ زَحْفًا۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۱۱)

سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیّدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا:اے اللہ کے رسول! میرا گھر مسجد سے دور ہے، جبکہ میں نابینا بھی ہوں اور اذان بھی سنتاہوں (تو کیا میں گھر میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو اذان سنتا ہے تو اس کا جواب دیا کر، اگرچہ تجھے سرین کے بل گھسٹ کر یا کولہوں کے بل سرک کر آنا پڑے ۔

۔ (۲۴۵۹) عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَکْتُوْمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جِئْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کُنْتُ ضَرِیْرًا شَاسِعَ الدَّارِ وَلِی قَائِدٌ لَا یُلَائِمُنِیْ فَہَلْ تَجِدُ لِی رُخْصَۃً أَنْ أُصَلِّیَ فِی بَیْتِی؟ قَالَ: ((أَتَسْمَعُ النِّدَائَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((مَا أَجِدُلَکَ رُخْصَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۷۱)

سیّدنا عمرو بن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیااور کہا: اے اللہ کے رسول!میں نابینا ہوں اور میرا گھر بھی مسجد سے دور ہے اور میرا ایک قائد تو ہے لیکن وہ میری موافقت نہیں کرتا تو کیا مجھے گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تب میں تیرے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا ۔

۔ (۲۴۶۰) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّھْرِیِّ فَسُئِلَ سُفْیَانُ عَمَّنْ؟ قَالَ: ھُوَ مَحْمُوْدٌ اِنْ شَائَ اللّٰہُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ کَانَ رَجُلًا مَحْجُوبَ الْبَصَرِ وَاِنَّہُ ذَکَرَ لِلنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَلتَّخَلُّفَ عَنِ الصَّلَاۃِ، قَالَ: ((ھَلْ تَسْمَعُ النِّدَائَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَمْ یُرَخِّصْ لَہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۹۴)

محمود بن ربیع کہتے ہیں: سیّدنا عتبان بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا یک نابینا آدمی تھا، اس لیے اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نماز سے پیچھے رہ جانے کا ذکر کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو اذان کی آواز سنتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو رخصت نہیں دی۔

۔ (۲۴۶۱) عَنْ أَبِی مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلَاۃِ فَلْیَؤُمَّکُمْ أَحَدُکُمْ، وَاِذَا قَرَأَ الْاِمَامُ فَأَنْصِتُوا)) (مسند احمد: ۱۹۹۶۱)

سیّدناابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں (بعض امور کی)تعلیم دی ، بیچ میں یہ بھی فرمایا تھا: جب تم نماز کے لیے اٹھو تو تم میں سے ایک آدمی امامت کروایا کرے اور جب امام قراء ت کرے تو تم خاموش رہا کرو ۔

۔ (۲۴۶۲) عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ الْیَعْمَرِیِّ قَالَ: قَالَ لِی أَبُو الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَیْنَ مَسْکَنُکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: فِی قَرْیَۃٍ دُوْنَ حِمْصَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ ثَـلَاثَۃٍ فی قَرْیَۃٍ لَا یُؤَذَّنَ وَلَا تُقَامُ فِیْہِمُ الصَّلَاۃُ اِلَّا اسْتَحْوَذَ عَلَیْھِمُ الشَّیْطَانُ، فَعَلَیْکَ بِالْجَمَاعَۃِ فَاِنَّ الذَّئْبَ یَأْکُلُ الْقَاصِیَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۵۳)

معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں: سیّدناابوالدرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے پوچھا:تیرا گھر کہاں ہے ؟ میں نے کہا: حمص سے پیچھے ایک بستی میں۔ پھر انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:یعنی: جس بستی میں تین آدمی ہوں اور اس میں نہ اذان دی جاتی ہو اور نہ نماز قائم کی جاتی ہو تو وہاں شیطان غالب آ جاتا ہے، اس لیے تم جماعت کا التزام کرو، (وگرنہ ذہن نشین کر لو کہ) بھیڑیا (ریوڑ سے) دور چلی جانے والی بکری کو کھا جاتا ہے ۔

۔ (۲۴۶۳) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الشَّیْطَانَ ذِئْبُ الْاِنْسَانِ کَذِئْبِ الْغَنَمِ یَأْخُذُ الشَّاۃَ الْقَاصِیَۃَ وَالنَّاحِیَۃَ فَاِیَّاکُمْ وَالشِّعَابَ وَعَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ وَالْعَامَّۃِ وَالْمَسْجِدِ)) (مسند احمد: ۲۲۳۷۹)

سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مرو ی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک شیطان انسان کے لیے اسی طرح کا بھیڑیا ہے، جیسے بکریوں کا بھیڑیا ہوتا ہے، جو دور جانے والی اور علیحدہ رہنے والی بکری کو پکڑ لیتا ہے، پس تم گھاٹیوں سے بچو اور جماعت، عام مسلمانوں اور مسجد کو لازم پکڑو ۔

۔ (۲۴۶۴) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیَنْتَہِیَنَّ رِجَالٌ مِمَّنْ حَوْلَ الْمَسْجِدِ لَا یَشْہُدُوْنَ الْعِشَائَ الْآخِرَۃِ فِی الْجَمِیْعِ أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ حَوْلَ بُیُوْتِہِمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ۔)) (مسند احمد: ۷۹۰۳)

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد کے ارد گرد والے لوگ ضرور ضرور اس چیز سے باز آ جائیں کہ نمازِ عشاء کی جماعت میں حاضر نہ ہوں، وگرنہ میں ان کے گھروں کو جلانے کی لکڑیوں کی گٹھڑیوں کے ساتھ ضرور ضرور جلا دوں گا۔

۔ (۲۴۶۵) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْلَا مَا فِی الْبُیُوْتِ مِنَ النِّسَائِ وَالذُّرِّیَّۃِ لَأَقَمْتُ صَلَاۃَ الْعِشَائِ وَأَمَرْتُ فِتْیَانِیْ یُحَرِّقُوْنَ مَا فِی الْبُیَوْتِ بِالنَّارِ۔)) (مسند احمد: ۸۷۸۲)

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو میں نمازِ عشاء کھڑی کرتا اور اپنے نوجوانوں کو حکم دیتا کہ وہ گھروں میں جو کچھ ہے، اسے جلا دیں ۔

۔ (۲۴۶۶) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَثْقَلُ الصَّلَاۃِ عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ صَلَاۃُ الْعِشَائِ وَصَلَاۃُ الْفَجْرِ، وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَا فِیْہِمَا لَأَتَوْھُمَا وَلَوْ حَبْوًا وَلَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ الْمُؤَذِّنَ فَیُؤَذِّنَ ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا یُصَلِّی بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِی بِرِجَالٍ مَعَہُمْ حُزَمُ الْحَطَبِ اِلَی قَوْمٍ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنِ الصَّلَاۃِ فَأُحَرِّقَ عَلَیْہِمْ بُیُوْتَھُمْ بِالنَّارِ۔)) (مسند احمد: ۹۴۸۲)

سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہیکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عشاء اور فجر کی نمازیں منافقوں پر سب سے بھاری ہیں اور اگر یہ لوگ جان لیں کہ ان میں کتنا اجر و ثواب ہے تو یہ ضرور آئیں، اگرچہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ میں نے ارادہ کیا ہے کہ مؤذن کو حکم دوں کہ وہ اذان کہے، پھر کسی آدمی کا حکم دوںکہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں خود نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کی طرف ایسے افرادکو لے کر چلوں، جنھوں نے جلنے والی لکڑیوں کی گٹھڑیاں اٹھا رکھی ہوں، اور پھر ان کے گھروں کو آگ سے جلا دوں۔

۔ (۲۴۶۷) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْھَادِ عَنِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُوْمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتَی الْمَسْجِدَ فَرَأَی فِی الْقَوْمِ رِقَّۃً، فَقَالَ: ((اِنِّی لَأَھُمَّ أَنْ أَجْعَلَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ثُمَّ أَخْرُجَ فَـلَا أَقْدِرُ عَلٰی اِنْسَانٍ یَتَخَلَّفُ عَنِ الصَّلَاۃِ فِی بَیْتِہِ اِلَّا أَحْرَقْتُہُ عَلَیْہِ۔)) فَقَالَ ابْنُ أُمَّ مَکْتُوْمٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ بَیْنِی وَبَیْنَ الْمَسْجِدِ نَخْلًا وَشَجَرًا وَلَا أَقْدِرُ عَلٰی قَائِدٍ کُلَّ سَاعَۃٍ، أَیَسَعُنِی أَنْ أُصَلِّیَ فِی بَیْتِی؟ قَالَ: ((أَتَسْمَعُ الْاِقَامَۃَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَأْتِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۷۲)

سیّدناعبد اللہ بن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں آئے اور دیکھا کہ نماز یوں میں قلت ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک میرا ارادہ یہ ہے کہ میں لوگوں کے لیے ایک امام مقرر کروں، پھر میں خود نکل جاؤں اور نماز سے پیچھے رہ جانے والے جس جس انسان پر قدرت پاؤں، اس کو اس کے گھرسمیت جلا دوں۔ سیّدنا عبد اللہ بن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!میرے اور مسجد کے درمیان کھجوریں اور درخت ہیں اور میں ہر وقت قائد بھی نہیں ہوتا(جو مسجد میں لے آئے) ، توکیا مجھے گھر میں نماز پڑھ لینے کی رخصت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تو اذان سنتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر تو نماز کے لیے آنا پڑے گا۔

۔ (۲۴۶۸) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْیَانِیَ فَیَجْمَعُوْا حَطَبًا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا یَؤُمُّ النَّاسَ ثُمَّ أَخَالِفَ اِلٰی رِجَالٍ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنِ الصَّلَاۃِ فَأُحَرِّقَ عَلَیْہِمْ بُیُوتَہُمْ وَاَیْمُ اللّٰہِ! لَوْ یَعْلَمُ أَحَدُھُمْ أَنَّ لَہُ بِشُہُوْدِھَا عَرْقًا سَمِیْنًا أَوْ مِرْمَاتَیْنِ لَشَہِدَھَا وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَا فِیْہَا لَأَتَوْھَا وَلَوْ حَبْوًا۔)) (مسند احمد: ۸۸۷۷)

سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا یہ ارادہ ہے کہ میں جوانوں کو جلنے والی لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں، پھر میں ایک آدمی کو حکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور خود نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے پیچھے چلا جاؤں اور ان سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں۔ اللہ کی قسم! اگر ان میں سے کسی کو یہ پتہ چل جائے کہ اسے نماز میں حاضر ہونے پر گوشت والی اچھی سی ہڈی یا دو کھر ملیں گے تو وہ ضرور آئے گی، اور اگر ان کو پتہ چل جائے کہ اس نماز میں کتنا اجر وثواب ہے تو یہ ضرور حاضر ہوں، اگرچہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے ۔

۔ (۲۴۶۹) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْمَسْجِدِ، وَفِی رِوَایَۃٍ: دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ صَلَاۃَ الْعِشَائِ، فَرَآھُمْ عِزِیْنَ مُتَفَرِّقِیْنَ، قَالَ: فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِیدًا مَا رَأَیْنَاہُ غَضِبَ غَضَبًا أَشَدَّ مِنْہُ، قَالَ: ((وَاللّٰہِ! لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا یَؤُمُّ النَّاسَ ثُمَّ أَتَتَبَّعَ ھٰؤُلَائِ الَّذِیْنَ یَتَخَلِّفُوْنَ عَنِ الصَّلَاۃِ فِی دُوْرِھِمْ فَأُحَرِّقَہَا عَلَیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۸۸۹۰)

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز عشاء کے وقت مسجد میں تشریف لائے اور لوگوں کو علیحدہ علیحدہ گروہوں میں بیٹھے ہوئے دیکھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سخت غصے میں آگئے، ہم نے کبھی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اتنی سخت ناراضگی میں نہیں دیکھا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر میں ان لوگوں کے پیچھے جاؤں جو نماز سے پیچھے رہ جاتے ہیں اوران سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں ۔

۔ (۲۴۷۰) وَعَنْہُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَخَّرَ الْعِشَائَ الْآخِرَۃَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ حَتّٰی کَادَ یَذْھَبُ ثُلُثُ اللَّیْلِ أَوْ قُرابُہُ، قَالَ: ثُمَّ جَائَ وَفِی النَّاسِ رِقَّۃٌ وَھُمْ عِزُونَ فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِیْدًا، ثُمَّ قَالَ: ((لَوْ أَنَّ رَجُلًا بَدَا النَّاسَ اِلٰی عَرْقٍ أَوْ مِرْمَاتَیْنِ لَاَجَابُوا لَہُ، وَھُمْ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنْ ھٰذِہِ الصَّلَاۃِ، لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا فَیَتَخَلَّفَ عَلٰی أَھْلِ ھٰذِہِ الدُّوْرِ الَّذِیْنَ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنْ ھَذِہِ الصَّلَاۃِ فَأْحَرِّقَہَا عَلَیْھِمْ بِالنِّیْرَانِ۔)) (مسند احمد: ۹۳۷۲)

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عشاء کی نماز کو مؤخر کیا، حتیٰ کہ رات کا تیسرا حصہ یا اس کے قریب قریب وقت گزر گیا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو لوگوں میں قلت تھی اوروہ ٹولیوں کی صورت میں بیٹھے ہوئے تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شدید غصے میں آگئے اور پھر فرمایا: اگر کوئی آدمی اِن لوگوں کو گوشت والی ہڈی یا دو کھروں کی طرف اپنی بستی میں بلائے تو وہ اس کی بات کو ضرور قبول کریں گے۔ یہ لوگ اِس نماز سے بھی پیچھے رہ جاتے ہیں، البتہ تحقیق میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ پیچھے رہ (نماز پڑھائے) اور میں ان گھر والوں کی طرف جاؤں جو اس نماز سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور ان سمیت ان کے گھروں کو آگ کے ساتھ جلا دوں ۔

۔ (۲۴۷۱) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا فَیُصَلِّیَ بِالنَّاسٍ، ثُمَّ آمُرَ بِالنَّاسٍ لَا یُصَلُّوْنَ مَعَنَا فَتُحَرَّقَ عَلَیْھِمْ بُیُوْتُہُمْ۔)) (مسند احمد: ۳۷۴۳)

سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا میں نے ارادہ کیا ہے کہ ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر ان لوگوں سمیت ان کے گھر جلا دینے کا حکم دوں، جو ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھتے ۔

۔ (۲۴۷۲) عَنْ سَہْلٍ عَنْ أَبِیْہِ (یَعْنِی مُعَاذَ بْنَ أَنَسٍ الْجُہَنِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((اَلْجَفَائُ کُلُّ الْجَفَائِ وَالْکُفْرُ وَالْنِّفَاقُ مَنْ سَمِعَ مُنَادِیَ اللّٰہِ ُنَادِی بِالصَّلَاۃِ یَدْعُوا اِلَی الْفَـلَاحِ وَلَا یُجِیْبُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۱۲)

سیّدنا معاذ بن انس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (اللہ کی رحمت سے) دوری ہے، بہت دوری ہے، کفر ہے اور نفاق ہے، اس شخص میں جو اللہ تعالیٰ کے مُنَادی کو نماز کے اذان دیتے ہوئے اور کامیابی کی طرف دعوت دیتے ہوئے سنتا ہے، لیکن اس کی بات قبول نہیں کرتا (اور نماز باجماعت کے لیے نہیں آتا) ۔