مسنداحمد

Musnad Ahmad

نماز با جماعت کے بارے میں ابواب

ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں

۔ (۲۴۷۳) عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَادٰی بِالصَّلَاۃِ فِی لَیْلَۃٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِیْحٍ، ثُمَّ قَالَ فِی آخِرِ نِدَائِہِ: أَلَا صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ أَلَا صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ، أَلَا صَلُّوا فِی الرِّحَالِ، فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ اِذَا کَانَتْ لَیْلَۃٌ بَارِدَۃٌ أَوْ ذَاتُ رِیْحٍ فِی السَّفَرِ أَلَا صَلُّوا فِی الرِّحَالِ۔ (مسند احمد: ۵۸۰۰)

جناب ِنافع کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سردی اور ہوا والی ایک رات کو نماز کے لیے اذان کہی، اور انہوں نے اذان کے آخر میں کہا: خبر دار! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو، خبر دار! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو،خبر دار! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔ پھر انھوں نے بیان کیا کہ جب سفر میں رات ٹھنڈی یا ہوا والی ہوتی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مؤذن کو حکم دیتے کہ وہ یہ بھی کہا کرے: خبردار! اپنے اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔

۔ (۲۴۷۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: نَادَی ابْنُ عُمَرَ بِالصَّلَاۃِ بِضَجْنَانَ ثُمَّ نَادٰی أَنْ صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ، ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یَأْمُرُ الْمُنَادِیَ فَیُنَادِیْ بِالصَّلَاۃِ، ثُمَّ یُنَادِی أَنْ صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ فِی اللَّیْلَۃِ الْبَارِدَۃِ وَفِی اللَّیْلَۃِ الْمَطِیْرَۃِ فِی السَّفَرِ ۔ (مسند احمد: ۴۴۷۸)

(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ضجنان (نامی مقام یا پہاڑ) پر نماز کے لیے اذان کہی، پھر یہ آواز دی: اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔ پھر انھوں نے بیان کیا کہ جب سفر میں سردی یا بارش والی رات ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مؤذن کو حکم دیتے کہ وہ اذان دے اور پھر یہ آواز دے: اپنے اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔

۔ (۲۴۷۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ فَمُطِرْنَا، قَالَ: ((لِیُصَلِّ مَنْ شَائَ مِنْکُمْ فِی رَحْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۹۹)

سیّدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، (راستے میں) بارش برسنے لگی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے ، اپنے خیمے میں نماز پڑھ لے ۔

۔ (۲۴۷۶) عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَہُ مُؤَذِّنُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: نَادٰی مُنَادِیْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی یَوْمٍ مَطِیْرٍ: أَلَا صَلُّوا فِی الرِّحَالِ۔ (مسند احمد: ۱۹۲۵۰)

ایک مؤذنِ رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مؤذن نے بارش والے دن یہ آواز بھی دی: خبر دار! اپنے اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔

۔ (۲۴۷۷) عَنْ نُعَیْمِ بْنِ النَّحَّامِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نُودِیَ بِا لصُّبْحِ فِی یَوْمٍ بَارِدٍ وَأَنَا فِی مِرْطِ امْرَأَتِی، فَقُلْتُ: لَیْتَ الْمُنَادِیَ قَالَ: مَنْ قَعَدَ فَـلَا حَرَجَ عَلَیْہِ، فَنَادٰی مُنَادِیْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی آخِرٍ أَذَانِہِ: وَمَنْ قَعَدَ فَـلَا حَرَجَ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۹۹)

سیّدنا نعیم بن نحام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سردی والا دن تھا اور میں اپنی بیوی کی چادر میں لیٹا ہوا تھا، اتنے میں فجر کی اذان ہونے لگی، میں نے کہا: کاش اذان کہنے والا یہ بھی کہہ دے: جو (نماز کے لیے) نہ آئے اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔ ایسے ہی ہوا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مؤذن نے اذان کے آخر میں کہا: جو نہ آئے، اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔

۔ (۲۴۷۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ مُؤَذِّنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ وَأَنَا فِی لِحَافِی فَتَمَنَّیْتُ أَنْ یَقُوْلَ: صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ، فَلَمَّا بَلَغَ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، قَالَ: صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ، ثُمَّ سَأَلْتُ عَنْھَا فَاِذَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ أَمَرَہٗ بِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۹۸)

(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: ایک ٹھنڈی رات تھی اور میں اپنے لحاف میں لیٹا ہوا تھا، اتنے میں میںنے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنا، مجھ میں یہ تمنا پیدا ہوئی کہ کاش مؤذن یہ کہہ دے: اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔ (ایسے ہی ہوا اور جب) حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ تک پہنچا تو اس نے کہا: اپنی رہائش گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو، پھر جب میں نے ان (زائد) الفاظ کے بارے میں دریافت کیا تو پتہ چلا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے حکم دیا تھا۔

۔ (۲۴۷۹) عَنْ سَمْرَۃَ بْنِ جُنْدُبِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ یَوْمَ حُنَیْنٍ فِی یَوْمٍ مَطِیْرٍ: ((الصَّلَاۃُ فِی الرِّجَالِ)) (مسند احمد: ۲۰۳۵۲)

’سیّدناسمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حنین والے روز، بارش والے دن فرمایا: خیموں میں ہی نماز پڑھ لو ۔

۔ (۲۴۸۰) عَنْ أَبِی الْمَلِیْحِ بْنِ أُسَامَۃَ قَالَ: خَرَجْتُ اِلَی الْمَسْجِدِ فِی لَیْلَۃٍ مَطِیْرَۃٍ، فَلَمَّا رَجَعْتُ اِسْتَفْتَحْتُ، فَقَالَ أَبِی: مَنْ ھٰذَا؟ قَالُوْا: أَبُو الْمَلِیْحِ، قَالَ: لَقَدْ رَأَیْتُنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَمَنَ الْحُدَیْبِیَۃِ وَأَصَابَتْنَا سَمَائٌ لَمْ تَبُلَّ أَسافِلُ نِعَالِنَا، فَنَادَی مُنَادِی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ صَلُّوا فِی رِحَالِکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۸۳)

ابوملیح بن اسامہ کہتے ہیں:بارش والی رات کو میں مسجد کی طرف گیا، (نمازِ عشاء پڑھ کر) واپس آیا اور دروازہ کھولنے کو کہا۔ میرے ابو جان نے کہا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ابو ملیح ہے۔ انھوں نے کہا: ہم حدیبیہ کے موقع رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، ہم نے دیکھا کہ (ہلکی سی) بارش ہوئی، اس سے ہمارے جوتوں کے نچلے والے حصے بھی نہیں بھیگے تھے۔ لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مؤذن نے کہا: اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔

۔ (۲۴۸۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانِ) عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ کَانَ مَطِیْرًا، قَالَ: فَأَمَرَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُنَادِیَہُ اَنِِ الصَّلَاۃُ فِی الرِّحَالِ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۷۶)

(دوسری سند) وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں: کہ حنین کے دن بارش تھی، اس لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے مؤذن کوحکم دیا کہ وہ یہ کہے کہ خیموں میں ہی نماز ہو گی۔

۔ (۲۴۸۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا وُضِعَ الْعَشَائُ وَأُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَابْدَؤُا بِالْعَشَائِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۲۱)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا پیش کر دیا جائے اور اُدھر نماز کی اقامت بھی کہہ دی جائے تو پہلے کھانا کھا لیا کرو ۔

۔ (۲۴۸۴) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا حَضَرَا الْعَشَائُ وَحَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَابْدَئُوْا بِالْعَشَائِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۳۲)

سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب رات کا کھانا پیش کر دیا جائے اور نماز کا وقت بھی ہو جائے تو پہلے کھانا کھا لیا کرو ۔

۔ (۲۴۸۵) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا وُضِعَ الْعَشَائُ وَأُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَابْدَئُوْا بِالْعَشَائِ۔)) قَالَ: وَلَقَدْ تَعَشَّی ابْنُ عُمَرَ مَرَّۃً وَھُوَ یَسْمَعُ قِرَائَ ۃَ الْاِمَامِ۔ (مسند احمد: ۵۸۰۶)

سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا رکھ دیا جائے اور اُدھر نماز بھی کھڑی کردی جائے تو پہلے کھانا کھا لیا کرو۔ نافع کہتے ہیں: ایک دفعہ سیّدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شام کا کھانا کھا رہے تھے او روہ امام کی قراء ت سن رہے تھے۔

۔ (۲۴۸۶) عَنْ مَوْھُوبِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَزْھَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ کَانَ یُخَالِفُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِالْعَزِیْزِ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: مَا یَحْمِلُکَ عَلٰی ھٰذَا؟ فَقَالَ: اِنِّی رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی صَلَاۃً مَتٰی تُوَافِقُہَا أُصَلِّیْ مَعَکَ وَمَتٰی تُخَالِفُہَا أُصَلِّی وَأَنْقَلِبُ اِلَی أَھْلِی۔ (مسند احمد: ۱۲۵۱۳)

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، عمر بن عبد العزیز k (کی نماز سے) پیچھے رہتے تھے، (یعنی وہ ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے تھے، ایک دن) عمر بن عبد العزیز نے ان سے پوچھا: تجھے کون سی چیز ایسا کرنے پر آمادہ کرتی ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جب تم اس نماز کی موافقت کرتے ہو تو میں تمہارے ساتھ پڑھ لیتا ہوں، لیکن جب تم اس کی مخالفت کرتے ہو تو میں (وقت پر) نماز ادا کر کے اپنے گھر چلا جاتا ہوں۔